سات روہنگیا مسلمان انڈیا بدر، انسانی حقوق کی تنظیم کی مذمت

انڈیا میں روہنگیا کے خلاف مظاہرے

،تصویر کا ذریعہHindustan Times

،تصویر کا کیپشنانڈیا میں روہنگیا کے خلاف مظاہرے

انڈیا نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کے اعتراضات کو نظر انداز کرتے ہوئے سات روہنگیا مسلمانوں کو میانمار واپس بھیج دیا ہے۔

ان لوگوں کو سن 2012 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب حکومت کے مطابق وہ غیر قانونی طور پر میانمار سے انڈیا میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی سزا مکمل ہونے کے بعد سے انہیں آسام کے ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا اور جمعرات کی دوپہر سرحد پر میانمار کے امیگریشن حکام کے سپرد کردیا گیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہےکہ میانمار میں ان لوگوں کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

میانمار سے جان بچا کر انڈیا آنے والے تقریباً چالیس ہزار روہنگیاؤں کا کہنا ہے کہ وہاں فوج انھیں قتل کر رہی ہے لیکن بی جے پی کی قیادت والی حکومت انھیں قومی سلامتی کے لیے خطرہ مانتی ہے اور یہ اعلان کر چکی ہے کہ انھیں میانمار واپس بھیجا جائے گا۔

،آڈیو کیپشنمیانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیش پہنچنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تاریخ پر ایک نظر۔

دلی میں روہنگیا مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے علی جوہر، جو خود بھی روہنگیا ہیں، کہتے ہیں کہ 'ہمیں صرف دو مہینے پہلے ان لوگوں کے بارے میں معلوم ہوا تھا۔ ہم نے انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں اور سپریم کورٹ سے رابطہ کیا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔'

سپریم کورٹ نے جمعرات کی صبح اس معاملے میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا۔

آسام میں وزارتِ داخلہ کی اعلیٰ اہلکار ایل ایس چانگسن نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ لوگ اپنی مرضی سے واپس گئے ہیں۔ 'انھوں نے خود واپس جانے کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن ان کی قومیت کی تصدیق میں کافی وقت لگ گیا۔ تصدیق کے بعد میانمار کی حکومت نے انھیں سفری دستاویزات جاری کر دیے تھے اور جب کارروائی مکمل ہوئی تو وہ بہت خوش تھے۔'

ان کے مطابق اس سے پہلے بھی دو لوگوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔

لیکن علی جوہر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'ان لوگوں کے سامنے کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ انھیں زبردستی واپس بھیجا گیا ہے اور ان پر کیا گزرے گی کوئی نہیں بتا سکتا۔۔۔انھیں جیل میں ڈالا جاسکتا ہے اور ان کی جان خطرے میں ہے، وہاں ایسے حالات نہیں ہیں کہ واپس جایا جاسکے۔'

ملک بدر کیے جانے والوں کی جانب سے سینئیر وکیل پرشانت بھوشن نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ان لوگوں کو مارا جا سکتا ہے، یہ انسانی حقوق کی بالکل صاف خلاف ورزی ہے۔'

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ساؤتھ ایشیا ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن سینٹر کے سربراہ روی نائر کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو 'زبردستی' واپس بھیجا جانا پناہ گزینوں سے متعلق تمام بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ میانمار نے ان لوگوں کو باقاعدہ طور پر شہری تسلیم کیا ہے یا نہیں۔ علی جوہر کہتے ہیں کہ 'صرف شہری مان لینا کافی نہیں ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں شہریوں کے حق بھی دیے جائیں، ہمیں وہاں انسانوں کی طرح رہنے دیا جائے۔'

میانمار کی حکومت روہنگیاؤں کو اپنا شہری تسلیم نہیں کرتی۔ اس کا موقف ہے کہ یہ لوگ بنگلہ دیش سے آ کر غیرقانونی طور پر میانمار میں آباد ہوئے ہیں۔

روی نائر کےمطابق ان ساتوں کے کیس میں قانون کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے ہیں۔ 'گرفتاری کے بعد ان لوگوں کو اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں سے متعلق ادارے کے سامنے پیش کیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ یو این ایچ سی آر ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ وہ پناہ گزین ہیں یا نہیں۔'

یو این ایچ سی آر نے بی بی سی کو بتایا کہ روہنگیاؤں کے لیے میانمار میں حالات محفوظ نہیں ہیں اور 'ممالک کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جس کی وجہ سے کسی شخص کو ایسے ملک لوٹنا پڑے جہاں اس کی زندگی یا آزادی خطرے میں ہو۔'

ادارے کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ فیصلہ انھیں لوگوں پر چھوڑ دیا جانا چاہیے کہ وہ واپس جائیں یا یہیں پناہ حاصل کریں۔

ادارے کے مطابق انڈیا میں اس نے تقریباً 18000 روہنگیاؤں کو پناہ گزینوں کا درجہ دیا ہے۔

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کی وجہ سے تقریباً سات لاکھ لوگوں نے جان بچاکر بنگلہ دیش میں پناہ لے رکھی ہے۔ اگست میں اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ میانمار کے فوجی جرنیلوں پر نسل کشی کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔

انڈیا میں وفاقی حکومت کو اس الزام کا سامنا ہےکہ وہ روہنگیاؤں کو اس لیے واپس بھیجنا چاہتی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔