انڈیا: غیرت کے نام پر قتل پر باپ سمیت چھ افراد کو سزائے موت، قتل بھرے مجمع میں کیا گیا

جنوبی انڈیا کی ریاست تمل ناڈو میں ایک عدالت نے اُن چھ افراد کو سزائے موت سنائی ہے جن پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک نوجوان کو اِس لیے مار مار کر ہلاک کر دیا تھا کیونکہ اُس نے ایک اونچی ذات کی لڑکی سے شادی کی تھی۔
یہ واقعہ 2016 میں پیش آیا جب 22 برس کے شنکر نامی نوجوان کو ایک مجمع کے سامنے مار مار کر ہلاک کیا گیا۔ اِسے غیرت کے نام پر قتل قرار دیا گیا تھا۔
انڈیا میں ہر سال سینکڑوں افراد کو اپنے والدین کی مرضی کے بغیر یا دوسری ذاتوں میں شادی کرنے کی وجہ سے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض واقعات میں ایسے لوگوں کو قتل تک کر دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیئے
اِس حقیقت کے باوجود کہ خاندان کی نام نہاد غیرت اور ذات کی وجہ سے انڈیا میں اکثر ہلاکتیں ہوتی رہتی ہیں لیکن شنکر پر تشدد کر کے ہلاک کرنے کی سی سی ٹی وی فُٹیج نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
شنکر کی اہلیہ کوشلیہ بھی اِس واقعے میں بری طرح زخمی ہوئی تھیں۔ اِن دونوں میاں بیوی پر تین افراد نے تیز دھار ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔ شنکر کا تعلق دلت ذات سے تھا جو ہندوؤں کے ذات پات کے نظام میں نچلی ذات سمجھی جاتی ہے۔ جبکہ کوشلیہ کا تعلق نسبتاً اونچی ذات سے تھا اور اُن کے خاندان نے شادی کی مخالفت کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

آج جن چھ افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے اُن میں کوشلیہ کے والد چینا سوامی بھی شامل ہیں جنھوں نے اِس واقعے کے بعد خود کو پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔
اِس مقدمے میں گیارہ افراد شامل تھے۔ جن میں سے چھ کو سزائے موت، ایک کو عمر قید جبکہ ایک کو پانچ برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ جن تین افراد کو بری کیا گیا ہے ان میں کوشلیہ کی والدہ بھی شامل ہیں۔







