انڈیا: غیرت کے نام پر قتل،نئے قانون پر غور
- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
بھارت میں وفاقی کابینہ نے غیرت کے نام پر قتل کے تیزی سے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام کے لیے تعزیرات ہند میں ترمیم کی تجویز پر فیصلہ موخر کرتے ہوئے ایک وزارتی گروپ تشکیل دینے اور ریاستی حکومتوں سے صلاح مشورے کا حکم دیا ہے۔

دارالحکومت دلی میں کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات و نشریات امبیکا سونی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ مجوزہ قانون پر غور و خوض کے لیے ایک وزارتی گروپ تشکیل دیا جائے گا جو ریاستی حکومتوں سے ان کا نظریہ معلوم کرےگا۔ اس کے بعد ہی کسی ترمیم کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
امبیکا سونی نے کہا کہ حکومت پر سماجی اداروں، میڈیا اور خود اس کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے اس بات کے لیے دباؤ ہے کہ غیرت کے نام پر قت کے واقعات سے نمٹنے کے لیے سخت قانون وضع کیا جائے اور مجوزہ قانون پارلیمان کے مانسون اجلاس میں پیش کیا جائے جو اس مہینے کے آخر میں شروع ہوگا۔
بتایا حاتا ہے کہ تعزیرات ہند کی دفعہ تین سو میں قتل کی ایک نئی تشریح شامل کی جائےگی جس کے تحت غیرت کےنام پر قتل کے واقعات کا احاطہ کیا جاسکے گا۔
فی الحال، غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں بھی قتل کے عام قانون کے تحت ہی مقدمہ چلایا جاتا ہے جس سے ان کھاپ(ذات) پنچایتوں میں شامل وہ لوگ سخت سزا سے بچ جاتے ہیں جن کی موجودگی میں قتل کے فرمان جاری کیے جاتے ہیں۔ اگر یہ مجوزہ ترمیم منظور کر لی جاتی ہے تو کھاپ پنچایتوں کے فیصلوں میں حصہ لینے والوں پر بھی قتل کے ہی الزام میں مقدمہ چلایا جاسکے گا۔ یعنی انہیں پھانسی کی سزا بھی سنائی جاسکے گی۔
ان واقعات کو روکنے کے لیے وزیر داخلہ پی چدمبرم نے گزشتہ برس ایک نیا سخت قانون وضع کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن چند روز قبل دلی میں غیرت کے نام پر قتل کے کئی سنسنی خیز واقعات کے بعد اب اس سمت میں کچھ پیش رفت ہوتی نظر آرہی ہے۔

اگرچہ امبیکا سونی نے ان اطلاعات کی تردید کی کہ مجوزہ قانون پر کابینہ میں اختلافات تھے لیکن کابینہ کے سامنے تجویز پیش کیے جانے اور پھر اسے صلاح مشورے کے لیے ریاستوں کو بھیجنے اور وزارتی گروپ تشکیل دینے کے فیصلے سے تاثر یہ ہی ملتا ہے کہ حکومت میں کچھ تحفظات ضرور ہیں۔ ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ قتل کے معاملات سے نمٹنے کے لیے ٹھوس قوانین موجود ہیں، صرف ان کا موثر اطلاق یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
ہریانہ میں بہت سے جاٹ رہنما کھل کر کھاپوں کی حمایت کر چکے ہیں جو اس بات کا علامت ہے کہ یہ پنچایتیں سیاسی اور سماجی لحاظ سے کتنی طاقتور ہیں۔
ہریانہ میں کھاپوں نے ہندو میرج ایکٹ میں ترمیم کروانے کے لیے بڑے پیمانے پر مہم چھیڑ رکھی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایک ہی گوتر( خاندان) اور ایک ہی گاؤں کے اندر شادیوں پر پابندی لگائی جائے کیونکہ بقول ان کےایک ہی گوتر یا اپنے ہی گاؤں کی لڑکی سے شادی اپنی بہن سے شادی کرنے کے برابر ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







