'انڈین سیاست کو قاتلوں کی ضرورت ہے'

لو جہاد آر ایس ایس اور بی جے پی کا تخلیق کیا ہوا استعارہ ہے اور اس سے مراد ان مسلم نوجوانوں سے ہے جو ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلو جہاد آر ایس ایس اور بی جے پی کا تخلیق کیا ہوا استعارہ ہے اور اس سے مراد ان مسلم نوجوانوں سے ہے جو ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔
    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو، دہلی

راجستھان کے راجسمند ضلع میں بنگال کے ایک مسلم ورکر کے قتل اور انھیں زندہ جلائے جانے کی ویڈیو نے انڈیا کے تمام جمہوریت پسندوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

اس ویڈیو میں قاتل کو کلہاڑی سے وار کرنے کے بعد 'لو جہاد' کے بارے میں مسلمانوں کو وارننگ دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ حملہ آور قتل کے بعد کہتا ہے کہ 'لو جہاد میں جو بھی ملوث ہو گا اس کے ساتھ یہی برتاؤ کیا جائے گا۔‘ قتل کی یہ ویڈیو اس نے خود سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جو کچھ ہی دیر میں وائرل ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

لو جہاد آر ایس ایس اور بی جے پی کا تخلیق کیا ہوا استعارہ ہے اور اس سے مراد ان مسلم نوجوانوں سے ہے جو ہندو لڑکیوں سے شادی کرتے ہیں۔ ہندو سخت گیروں کا الزام ہے کہ مسلم اس طرح کی شادیاں ایک منظم مذہبی سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ بی جے پی کے کئی رہنما گذشتہ دو تین برس سے اس اصطلاح کو پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کرتے رہے ہیں۔ ابھی تک ایسا کوئی ثبوت یا اشارہ نہیں ملا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہو کہ اس طرح کی شادیاں کسی سازش کے تحت ہو رہی ہیں۔ لیکن نفرت کا یہ پروپگنڈہ کس حد تک موثر ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ انسداد دہشت گردی کا ادارہ این آئی اے 'اس نام نہاد تصوراتی' لو جہاد' کی تفتیش کر رہا ہے۔

لو جہاد اور اس طرح کے دوسرے مسلم مخالف نفرت انگیز پروپگنڈے کا معاشرے پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ عام لوگ اب ان میں یقین کرنے لگے ہیں۔ راجستھان میں قتل کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حملہ آور مقتول کے بارے میں صرف یہ جانتا تھا کہ وہ مسلم ہے اور اس نے اسے صرف اس لیے قتل کیا کہ وہ مسلم تھا۔

لو جہاد اور اس طرح کے دوسرے مسلم مخالف نفرت انگیز پروپگنڈے کا معاشرے پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ عام لوگ اب ان میں یقین کرنے لگے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنلو جہاد اور اس طرح کے دوسرے مسلم مخالف نفرت انگیز پروپگنڈے کا معاشرے پر گہرا اثر پڑ رہا ہے۔ عام لوگ اب ان میں یقین کرنے لگے ہیں۔

مقتول ایک شادی شدہ شخص تھا جس کی مسلم بیوی اور تین بچے بنگال کے ضلع مالدہ میں رہتے ہیں۔ وہ ملازمت کے لیے راجستھان میں مقیم تھا۔ قاتل کو واضح طور پر نفرت کی مہم سے ترغیب ملی تھی۔

راجستھان میں مذہبی نفرت کے سبب مسلمانوں کو قتل کرنے کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ اس بہیمانہ واقعے پر بی جے پی کی قیادت اور راجستھان کی حکومت نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ ماضی کے بعض واقعات میں بھی قتل کی ویڈیوز بنائی گئی تھیں اور انھیں باقاعدہ شیئر کیا گیا تھا۔ کچھ معاملات میں ملزم گرفتار کیے گئے لیکن میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ان میں سے بیشتر ضمانت پر رہا ہو گئے۔ قتل کے اس تازہ واقعے میں بھی کچھ دنوں بعد حملہ آور کو نشئی یا ذہنی طور پر بیمار بتا کر اگر ضمانت پر رہا کر دیا جائے تو کسی کو کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے۔

اس طرح کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سبب بھی یہی ہے کہ مجرموں کو یہ پتہ ہے وہ جرم کے بعد بچ جائیں گے اور انھیں معاشرے اور سیاست کے ایک طبقے کی پشت پناہی حاصل ہے۔

مجرموں کو یہ پتہ ہے وہ جرم کے بعد بچ جائیں گے اور انھیں معاشرے اور سیاست کے ایک طبقے کی پشت پناہی حاصل ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنمجرموں کو یہ پتہ ہے وہ جرم کے بعد بچ جائیں گے اور انھیں معاشرے اور سیاست کے ایک طبقے کی پشت پناہی حاصل ہے۔

مذہبی اقلیتوں کے خلاف نفرت کی مہم شدت اختیار کر رہی ہے۔ جمعہ کے روز بی جے پی کے ایک مرکزی وزیر نے بنگلور میں کہا کہ جب تک اسلام کو جڑ سے اکھاڑ کر نہیں پھینکا جاتا تب تک دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ گجرات کے بڑودہ شہر میں بی جے پی کے ایک امیدوار نے ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے حقلے میں داڑھی ٹوپی والوں کی تعداد کم ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے مسلمانوں کو 'سماج دشمن' قرار دیا اور کہا کہ انھیں دھمکا اور ڈرا کر رکھنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھتے

مسلمانوں کے خلاف نفرت کا یہ زہر رفتہ رفتہ پورے معاشرے میں پھیل رہا ہے۔ پہلے جو پس پردہ اپنی نفرتوں کا اظہار کرتے تھے اب کھل کر کرنے لگے ہیں۔ ملک میں اب اکثریت مذہبی سیاست ہو رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک نظریہ اور ایک خطرناک روش ہے۔ ایک سرکردہ صحافی رویش کمار نے موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سیاست کو مزید قاتلوں کی ضرورت ہے۔ نفرتوں کی اس سیاست کو معاشرے کے ایک بڑے طبقے کی قبولیت حاصل ہے۔ انڈین جمہوریت ایک برے دور سے گزر رہی ہے اور ملک کی ایک بڑی اکثریت محض خاموش تماشائی ہے۔