ملاوی: میڈونا کے کیس میں تاخیر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میڈونا کے جنوبی افریقہ کے ملک ملاوی سے ایک بچے ڈیوڈ بانڈہ کوگود لینے سے متعلق کیس کے حتمی فیصلے کی سماعت میں تاخیر کی درخواست عدالت نے قبول کر لی ہے۔ اننچاس سالہ پاپ سنگر نے ملاوی ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کی تاریخ آگے بڑھانے کی اجازت مانگی تھی کیونکہ انہیں اپنے نئے البم کی تشہیر کےسلسلے میں امریکہ جانا تھا۔ میڈونا کے نئے البم کا ایک گانا اس وقت برطانیہ کے ’سِنگلز چارٹس‘پر اول نمبر پر ہے۔ عدالت کے ایک اہلکار نےبرطانوی خبر ساں ادارے ’رائٹرز‘ کو بتایا کہ اب اس کیس کی سماعت پندرہ مئی کو ہوگی ’اگر میڈونا کے وکیل کسی اور تاریخ کی درخواست نہیں دیتے۔‘ ملاوی کی ایک عدالت کے حکم کے مطابق میڈونا اور ان کے شوہر گائے رِچی کو اس بچے کی تحویل کے لیے پہلے ہی عبوری ایڈوپشن کی اجازت مل گئی ہے۔ گلوکارہ میڈونا کی ملاقات اس بچے سے سنہ دو ہزار چھ میں ایک یتیم خانے میں ہوئی تھی جس کے بعد انہوں نے اسے گود لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ بچہ میڈونا اور ان کے شوہر اور فلمی ہدایت کار گائے رچی کے ساتھ لندن میں رہ رہا ہے۔ اس بچے کو گود لینے کے اعلان کے بعد گزشتہ سال میڈونا پر کئی افراد نے سخت تنقید کی تھی جس کے بعد معاملہ انتہائی متنازع بن گیا تھا۔ میڈونا نے بچے کوگود لینے کے حوالے سے ایک انٹرویو میں میڈیا پر اس معاملے کو متنازعہ بنانے کا الزام عائد کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ کام قانون کے دائرے میں رہ کر کیا ہے۔ میڈونا اپنی فلاحی تنظیم ’رائزنگ ملاوی‘ کے ذریعے چھ یتیم بچوں کی کفالت کرتی ہیں اور وہ ملاوی کے دارالحکومت کے باہر ایک گاؤں میں چالیس ہزار بچوں کے لیے ایک یتیم خانہ بھی بنوا رہی ہیں۔ | اسی بارے میں پاپ سٹار میڈونا ممبئی کے دورے پر10 January, 2008 | فن فنکار ڈیوڈ کوگود لینا پھر خطرے میں06 August, 2007 | فن فنکار اُوپرا دنیا کی مقبول ترین شخصیت 15 June, 2007 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||