BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 December, 2007, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حنیف قریشی کیلیے ملکہ کا اعزاز
حنیف قریشی
حنیف قریشی کو عالمی سطح پر پزیرائی انیس سو پچاسی میں ملی
مشہور ناول نگار، ڈرامہ نگار اور فلم نگار حنیف قریشی کو ملکہ برطانیہ کی جانب سے اس سال کمانڈر آف دی آرڈر آف برٹش ایمپائر (سی بی ای) کے خطاب سے نوازا جا رہا ہے۔ ملکہ ہر سال مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں کردار اداکار کرنے والے افراد کو اس اعزاز سے نوازتی ہیں۔

اس سال کی ملکہ کی آنرز لسٹ میں شامل کیے جانے والے حنیف قریشی انیس سو چون میں لندن میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا تعلق پاکستان سے ہے اور والدہ برطانوی ہیں اور حنیف قریشی کِنگز کالج لندن سے فلسفہ میں ڈگری یافتہ ہیں۔

بطور ادیب انہوں نے اپنے کیرئر کا آغاز انٹونیو فرنچ (Antonio French) کے قلمی نام سے فحش کہانیاں لکھنے سے کیا جبکہ ان کا پہلا ڈرامہ انیس سو چھہتر میں لندن کے مشہور رائل ایلبرٹ ہال میں پیش کیا گیا۔

چھ سال بعد وہ رائل ایلبرٹ ہال کے ساتھ رائٹر اِن ریزیڈنس (Artist in Residence ) کی حیثیت سے منسلک ہو گئے۔ حنیف قریشی کو عالمی سطح پر پزیرائی انیس سو پچاسی میں ملی جب ان کی لکھی ہوئی فلم مائی بیوٹیفُل لانڈریٹ (My Beautiful Laundrette ) کو اکیڈمی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا۔

اس فلم کے ہدایتکار سٹیفن فریئرز تھے اور اس کی کہانی ایک پاکستانی نژاد برطانوی لڑکے اور ایک ہم جنس پرست برطانوی کے گرد گھومتی ہے۔

دی بدھا آف سُبوریا کے مرکزی اداکار

خود نوشت بھی اور ناول بھی

حنیف قریشی کا انیس سو نوے میں شائع ہونے والا پہلا ناول دی بدھا آف سُبوریا (The Buddha of Suburbia) بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں سے تھا اور اسے ’وِٹبریڈ‘ ایوارڈ بھی ملا۔

کہا جاتا ہے کہ یہ ناول کسی حد تک حنیف قریشی کی خود نوشت ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار بھی ایک ہم جنس نوجوان لڑکا ہے جس کا باپ ایشیائی اور ماں برطانوی ہوتی ہے اور وہ انیس سو ستّر کی دہائی میں لندن میں بڑا ہوتا ہے۔

اس ناول کو بی بی سی نے انیس سو ترانوے میں چار قسطوں پر مشتمل ایک ڈرامے کی شکل میں پیش کیا تھا۔

حنیف قریشی کا دوسرے ناول ’بلیک ایلبم (Black Album) کا مرکزی خیال انیس سو اسی کی دہائی میں برطانیہ میں رہنے والے مسلمانوں کے مسائل سے متعلق ہے۔

آسکر کے لیے نامزدگی
انیس سو اٹھاسی میں حنیف قریشی کا ایک اور ناول انٹیمیسی (Intimacy) شائع ہوا جس سے متاثر ہو کر ایک فلم بھی بنائی گئی۔ اس کے بعد ان کا ایک ڈرامہ دی مدر (The Mother) بھی خاصا مشہور ہوا جس کی کہانی ایک ادھیڑ عمر کی خاتون اور ایک جوان مزدور شخص کے درمیان شادی کے گرد بُنی ہوئی ہے۔ اس ڈرامے پر بھی فلم بنائی گئی جس میں جیمز بانڈ سیریز کے اداکار ڈینئل کریگ نے ایک مرکزی کردار ادا کیا۔

دو ہزار چھ میں حنیف قریشی نے ایل فلم وینس (Venus) کا سکرین پلے لکھا جس کے مرکزی اداکار پیٹر او ٹُولی کو پہلی فلم میں بہترین اداکاری کے لیے آسکر، بیفٹا اور گولڈن گلوب کے ایواراڈز کے لیے نامزد کیا گیا۔

حنیف قریشی کا اگلا ناول سمتھِنگ ٹو ٹیل یو ( Something to Tell You) دو ہزار آٹھ میں شائع ہو رہا ہے۔

سلمان رشدی’سر‘ سلمان رشدی
’خطاب ملنے پر نہیں لینے پر اعتراض‘حسن مجتبٰی
منوج باچپائی پنجر کے ایک منظر میںگرم ہوا سے پنجر تک
پردۂ سیمیں تک پہنچنے والی تقسیم کی کہانیاں
مونیکا علیمونیکا پھر متنازعہ
’برک لین‘ پر فلم بندی بنگلہ دیشی ناراض
پینٹگ’آرٹ مارکیٹ‘
فن پاروں کی خرید کے لیے برطانیہ کے پاس وسائل کم
’دی کوئین‘
ڈیانا کی موت نے ملکہ پر کیا اثرات چھوڑے
ڈُوما کے ناول پر پاکستانی فلمکلاسیک کی ’واپسی‘
الگزینڈر ڈُوما کے ناول پر پاکستانی فلم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد