BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 August, 2007, 16:23 GMT 21:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کام کسی اور کا، نام کسی اور کا
وان گوہ
یہ تصویر جسے اب تک وان گوہ کی تخلیق مانا جاتا رہا میلبورن آرٹ گیلری کی زینت بنی ہوئی ہے۔
ایک آسٹریلوی آرٹ گیلری کے مطابق ان کے پاس رکھی ہوئی ایک تصویر جس کو ایک زمانے تک مشہورِ زمانہ ڈچ مصور وان گوہ کا بنایا ہوا شاہکار مانا جاتا رہا وہ وان گوہ کی نہیں بلکہ کسی اور مصور کی تخلیق ثابت ہوئی ہے۔

براؤن رنگ کے پس منظر کے ساتھ یہ تصویر ایک آدمی کی ہے جس کے بال گھونگریالے اور داڑھی ہے۔

میلبورن کی نیشنل گیلری آف وکٹوریہ میں رکھے ہوئے اس فن پارے کی قیمت دس اعشاریہ پانچ ملین پاؤنڈز ہے۔ یہ تصویر میلبورن آرٹ گیلری میں 1940 سے موجود ہے اور اسے ’ہیڈ آف آ مین کا نام دیا گیا ہے۔

اس تصویر کو آسٹریلیا لانے کا سہرا میڈیا کے بانی کیتھ مرڈوک کے سر ہے جو اس تصویر کو 1939 میں سفری نمائشوں کا حصہ بنانے کے لیے لائے تھے۔

دوسری جنگِ عظیم کے چھڑ جانے کے باعث اسے واپس نہ لے جایا جا سکا اور بعد ازاں اسے آسٹریلیا کی وکٹوریہ نیشنل آرٹ گیلری نے ایک ہزار چھ سو اسی پاؤنڈز میں خرید لیا۔

 نقادوں کا کہنا ہے کہ 1886 میں بنائی ہوئی اس پینٹنگ کا انداز وان گوہ کی دوسری تصویروں سے کافی الگ ہے اور اس کی تمام خط وکتابت میں بھی ایسی کسی تصویر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

آرٹ گیلری کے ڈائریکٹر گیرارڈ وان کے مطابق اس میوزیم کی زینت بننے سے دس سال پہلے تک اسے وان گوہ کی تخلیق ہی مانا جاتا رہا لیکن اس بات کی صحت پر سوالات اس وقت اٹھائے گئے جب گزشتہ سال اگست کے مہینے میں اس پینٹنگ کو سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا کی ڈین گیلری میں نمائش کے لیے بھیجا گیا۔

نمائش کے بعد اسے تحقیقات کے لیے ایمسٹر ڈیم کے وان گوہ میوزیم میں بھیج دیا گیا۔

کئی ٹیسٹوں کے بعد ایمسٹر ڈیم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصویر وان گوہ کی نہیں بلکہ اس کے کسی ہم عصر کی تخلیق ہے۔

نقادوں کا کہنا ہے کہ 1886 میں بنائی ہوئی اس پینٹنگ کا انداز وان گوہ کی دوسری تصویروں سے کافی الگ ہے اور اس کی تمام خط وکتابت میں بھی ایسی کسی تصویر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

گیرارڈ وان کے مطابق تصاویر کے بنانے والے مصوروں کے نام بدلتے رہنا آرٹ گیلریوں میں معمول کی بات ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ تصویر کسی کی نقل نہیں اور اسے صرف مصور کا نام غلط دیا گیا۔

ان کے مطابق: ’ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ کسی نے صرف اس تصویر کو اس لیے بنایا کہ اسے وان گوہ کا نام مل سکے۔

اسی بارے میں
مصوری میں غزہ کے روز و شب
19 June, 2004 | فن فنکار
کم لکیریں، زیادہ تصویریں
11 March, 2004 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد