کام کسی اور کا، نام کسی اور کا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک آسٹریلوی آرٹ گیلری کے مطابق ان کے پاس رکھی ہوئی ایک تصویر جس کو ایک زمانے تک مشہورِ زمانہ ڈچ مصور وان گوہ کا بنایا ہوا شاہکار مانا جاتا رہا وہ وان گوہ کی نہیں بلکہ کسی اور مصور کی تخلیق ثابت ہوئی ہے۔ براؤن رنگ کے پس منظر کے ساتھ یہ تصویر ایک آدمی کی ہے جس کے بال گھونگریالے اور داڑھی ہے۔ میلبورن کی نیشنل گیلری آف وکٹوریہ میں رکھے ہوئے اس فن پارے کی قیمت دس اعشاریہ پانچ ملین پاؤنڈز ہے۔ یہ تصویر میلبورن آرٹ گیلری میں 1940 سے موجود ہے اور اسے ’ہیڈ آف آ مین کا نام دیا گیا ہے۔ اس تصویر کو آسٹریلیا لانے کا سہرا میڈیا کے بانی کیتھ مرڈوک کے سر ہے جو اس تصویر کو 1939 میں سفری نمائشوں کا حصہ بنانے کے لیے لائے تھے۔ دوسری جنگِ عظیم کے چھڑ جانے کے باعث اسے واپس نہ لے جایا جا سکا اور بعد ازاں اسے آسٹریلیا کی وکٹوریہ نیشنل آرٹ گیلری نے ایک ہزار چھ سو اسی پاؤنڈز میں خرید لیا۔ آرٹ گیلری کے ڈائریکٹر گیرارڈ وان کے مطابق اس میوزیم کی زینت بننے سے دس سال پہلے تک اسے وان گوہ کی تخلیق ہی مانا جاتا رہا لیکن اس بات کی صحت پر سوالات اس وقت اٹھائے گئے جب گزشتہ سال اگست کے مہینے میں اس پینٹنگ کو سکاٹ لینڈ کے شہر ایڈنبرا کی ڈین گیلری میں نمائش کے لیے بھیجا گیا۔ نمائش کے بعد اسے تحقیقات کے لیے ایمسٹر ڈیم کے وان گوہ میوزیم میں بھیج دیا گیا۔ کئی ٹیسٹوں کے بعد ایمسٹر ڈیم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تصویر وان گوہ کی نہیں بلکہ اس کے کسی ہم عصر کی تخلیق ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ 1886 میں بنائی ہوئی اس پینٹنگ کا انداز وان گوہ کی دوسری تصویروں سے کافی الگ ہے اور اس کی تمام خط وکتابت میں بھی ایسی کسی تصویر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ گیرارڈ وان کے مطابق تصاویر کے بنانے والے مصوروں کے نام بدلتے رہنا آرٹ گیلریوں میں معمول کی بات ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ تصویر کسی کی نقل نہیں اور اسے صرف مصور کا نام غلط دیا گیا۔ ان کے مطابق: ’ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ کسی نے صرف اس تصویر کو اس لیے بنایا کہ اسے وان گوہ کا نام مل سکے۔ | اسی بارے میں لاہور میں ایشیائی آرٹ کی نمائش23 February, 2006 | فن فنکار آرٹ گیلری: ننگوں کے لیے داخلہ مفت31 July, 2005 | فن فنکار مصوری میں غزہ کے روز و شب19 June, 2004 | فن فنکار کم لکیریں، زیادہ تصویریں 11 March, 2004 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||