کم لکیریں، زیادہ تصویریں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس کی تصاویر نے دنیا کے ایک سب سے زیادہ فروخت ہونے والے رسالے میں اپنی جگہ بنائی اس کا نیا ایڈیشن بھی شائع ہو گیا ہے اور سال رواں میں اپنی مزید تصاویر فروخت کرنے کے لیۓ تیار ہیں۔ مگر آخر یہ ہیں کون؟ اگر آپ بوجھنا چاہیں گے کہ ہر زمانے کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا فنکار کون تھا تو آپ کے ذہن میں سب سے پہلے وان گاف یا پکاسو کے علاوہ کس کے نام آئیں گے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ، بلکہ یہ کہا جائے کہ حقیقت حیران کن یا چونکا دینے والی ہے تو یہ بھی غلط نہیں ہوگا۔ کم ازکم ہارپر کولنز نامی پبلشر کے مطابق دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی فنکارہ سوئس قومیت کی مذہبی تصاویر کی خالق اینی ویلوٹن ہیں۔
مانا کہ ان کا نام ہر ایک نے نہیں سنا ہوگا مگر اتنا امکان ضرور ہے کے آپ نے یا تو ان کی تصاویر دیکھی ہوں گی یا ہو سکتا ہے کہ ان کی تصویروں والی کوئی کتاب آپ کے پاس بھی ہو۔ انیس سو ستر میں ویلوٹن نے ’گڈ نیوز بائیبل‘ کے عام زبان میں کیے گۓ ترجمے کے لیے پانچ سو سادہ تصاویر بنائی تھیں۔جن میں لوگوں کو ناچتے عبادت کرتے لڑتے اور مُردوں کو اٹھاتے ہوۓ دکھایا گیا تھا۔ ان تصویروں سے نہ صرف تحریر کی جھلک ملتی ہے بلکہ مترجم کے اس فلسفے کی بھی عکاسی ہوتی ہے جس کے تحت وہ بائیبل کو دلچسپ اور عام لوگوں تک رسائی کے قابل بنانا چاہتا ہے۔ ایک کتاب میں انہوں نے ساٹھ تصاویر میں حضرت عیسٰی کی زندگی کو پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر یہ تصاویر سب سے زیادہ فروخت ہونے کے معیار سے کوسوں دور تھیں اور انہیں ناشر نے بھی پھینک دیا تھا لیکن نیو یارک کے پبلشر کا خیال تھا کہ یہ قابل قبول تصاویر ہیں اور اس نے اینی ویلٹن کو کام کرنے دیا۔ ’گڈ نیوز بائیبل‘ بچوں اور ایسے لوگوں میں مقبول ہوئی جن کی مادری زبان انگریزی نہیں تھی۔ دنیا بھر میں اس بائیبل کی چودہ کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اور اگر اس تعداد کو ویلوٹن کی پانچ سو تصاویر سے ضرب دیا جاۓ تو یہ تعداد ستر ارب تک پہنچتی ہے۔ ویلوٹن کی تصاویر کی خوبصورتی ان کی سادگی میں ہے۔ ان کا کہنا بھی یہی ہے کہ وہ کم لکیروں میں زیادہ سے زیادہ بات کرنا چاہتی ہیں۔اس سوچ کی عمدہ مثال ویلوٹن کی وہ تصویر ہے جس میں حضرت عیسیٰ کو مصلوب ہوتےہوۓ دکھایا گیا ہے۔
دیکھا جاۓ تو حضرت عیسیٰ کے مصلوب کیے جانے عمل کو جتنا پر زور طریقے سے اس تصویر میں پیش کیا گیا ہے وہ مل گبسن کی فلم دی پیشن آف دی کرائسٹ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ایک اور تصویر میں، جس سے ویلوٹن کے کام کی شدت جھلکتی ہے، ایک بوڑھے شخص کو خدا کے فیصلے کے خلاف ناراضگی اور اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوۓ دکھایا گیا ہے۔
خوشگوار تاثرات کی عکاس تصویریں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی نظر آتی ہیں جیسے یسوع مسیح کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے اور کھجور کے درخت پر چڑھتے بچے ۔ دیکھا جاۓ تو ویلوٹن کی زیادہ تر تصاویر ماوراۓ وقت ہیں اور ان کی سادگی ہی نے انہیں جلا بخشتی ہے۔ بڑی اور بے تاثر تصاویر تحریر کو بمشکل بیان کر پاتی ہیں بلکہ پڑھنے والے کو زیادہ دعوت دیتی ہیں کہ وہ اپنے تخیل کو استعمال کرے۔
|
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||