BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 March, 2004, 18:42 GMT 23:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کم لکیریں، زیادہ تصویریں
اینی ویلوٹن کی تصویریں
سوئس فنکارہ
اس کی تصاویر نے دنیا کے ایک سب سے زیادہ فروخت ہونے والے رسالے میں اپنی جگہ بنائی اس کا نیا ایڈیشن بھی شائع ہو گیا ہے اور سال رواں میں اپنی مزید تصاویر فروخت کرنے کے لیۓ تیار ہیں۔ مگر آخر یہ ہیں کون؟

اگر آپ بوجھنا چاہیں گے کہ ہر زمانے کا سب سے زیادہ فروخت ہونے والا فنکار کون تھا تو آپ کے ذہن میں سب سے پہلے وان گاف یا پکاسو کے علاوہ کس کے نام آئیں گے۔

لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ، بلکہ یہ کہا جائے کہ حقیقت حیران کن یا چونکا دینے والی ہے تو یہ بھی غلط نہیں ہوگا۔ کم ازکم ہارپر کولنز نامی پبلشر کے مطابق دنیا کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی فنکارہ سوئس قومیت کی مذہبی تصاویر کی خالق اینی ویلوٹن ہیں۔

News image

مانا کہ ان کا نام ہر ایک نے نہیں سنا ہوگا مگر اتنا امکان ضرور ہے کے آپ نے یا تو ان کی تصاویر دیکھی ہوں گی یا ہو سکتا ہے کہ ان کی تصویروں والی کوئی کتاب آپ کے پاس بھی ہو۔

انیس سو ستر میں ویلوٹن نے ’گڈ نیوز بائیبل‘ کے عام زبان میں کیے گۓ ترجمے کے لیے پانچ سو سادہ تصاویر بنائی تھیں۔جن میں لوگوں کو ناچتے عبادت کرتے لڑتے اور مُردوں کو اٹھاتے ہوۓ دکھایا گیا تھا۔

ان تصویروں سے نہ صرف تحریر کی جھلک ملتی ہے بلکہ مترجم کے اس فلسفے کی بھی عکاسی ہوتی ہے جس کے تحت وہ بائیبل کو دلچسپ اور عام لوگوں تک رسائی کے قابل بنانا چاہتا ہے۔

ایک کتاب میں انہوں نے ساٹھ تصاویر میں حضرت عیسٰی کی زندگی کو پیش کرنے کی کوشش کی تھی۔

 ”گڈ نیوز بائیبل" بچوں اور ایسے لوگوں میں مقبول ہوئی جن کی مادری زبان انگریزی نہیں تھی۔ دنیا بھر میں اس بائیبل کی چودہ کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔

مگر یہ تصاویر سب سے زیادہ فروخت ہونے کے معیار سے کوسوں دور تھیں اور انہیں ناشر نے بھی پھینک دیا تھا لیکن نیو یارک کے پبلشر کا خیال تھا کہ یہ قابل قبول تصاویر ہیں اور اس نے اینی ویلٹن کو کام کرنے دیا۔

’گڈ نیوز بائیبل‘ بچوں اور ایسے لوگوں میں مقبول ہوئی جن کی مادری زبان انگریزی نہیں تھی۔ دنیا بھر میں اس بائیبل کی چودہ کروڑ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔ اور اگر اس تعداد کو ویلوٹن کی پانچ سو تصاویر سے ضرب دیا جاۓ تو یہ تعداد ستر ارب تک پہنچتی ہے۔

ویلوٹن کی تصاویر کی خوبصورتی ان کی سادگی میں ہے۔ ان کا کہنا بھی یہی ہے کہ وہ کم لکیروں میں زیادہ سے زیادہ بات کرنا چاہتی ہیں۔اس سوچ کی عمدہ مثال ویلوٹن کی وہ تصویر ہے جس میں حضرت عیسیٰ کو مصلوب ہوتےہوۓ دکھایا گیا ہے۔

News image

دیکھا جاۓ تو حضرت عیسیٰ کے مصلوب کیے جانے عمل کو جتنا پر زور طریقے سے اس تصویر میں پیش کیا گیا ہے وہ مل گبسن کی فلم دی پیشن آف دی کرائسٹ سے کہیں بڑھ کر ہے۔

ایک اور تصویر میں، جس سے ویلوٹن کے کام کی شدت جھلکتی ہے، ایک بوڑھے شخص کو خدا کے فیصلے کے خلاف ناراضگی اور اپنے غصے کا اظہار کرتے ہوۓ دکھایا گیا ہے۔

News image

خوشگوار تاثرات کی عکاس تصویریں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی نظر آتی ہیں جیسے یسوع مسیح کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتے اور کھجور کے درخت پر چڑھتے بچے ۔

دیکھا جاۓ تو ویلوٹن کی زیادہ تر تصاویر ماوراۓ وقت ہیں اور ان کی سادگی ہی نے انہیں جلا بخشتی ہے۔ بڑی اور بے تاثر تصاویر تحریر کو بمشکل بیان کر پاتی ہیں بلکہ پڑھنے والے کو زیادہ دعوت دیتی ہیں کہ وہ اپنے تخیل کو استعمال کرے۔

News image

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد