لطف اللہ خان: آوازوں کے خازن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لطف اللہ خان کاگھرایک جادونگری ہے جہاں آپ اسم اعظم پڑھے بغیر ہی ایک خزانے تک پہنچ جاتے ہیں، یہ آوازوں کا خزانہ ہے۔ دنیا میں یہ اپنی نوعیت کی شاید واحد لائبریری ہے جہاں آوازوں کا طلسم کدہ آپ پر ایک نیا جہان منکشف کرتا ہے۔ ادب، آرٹ، موسیقی، شاعری یا فن کی کوئی بھی اور صنف، آپ کو ہر نوع کے فن پارے مل جائیں گے مگر آپ ادیب، آرٹسٹ، موسیقار، شاعر یا فنکار کو کہاں ڈھونڈیں گے۔ ہر بڑا آدمی آپ کو کتابوں میں مل جائے گا مگر لطف اللہ خان کے پاس ہر بڑا آدمی آپ کو بولتا ہوا مل جائے گا۔ اگر آج آپ سے کوئی یہ کہے کہ آپ فیض کی شاعری کسی فنکار کی آواز میں سننا چاہیں گے یا خود فیض کی آواز میں۔ آپ کا جواب یقیناً یہی ہوگا کہ اگر فیض کا کلام فیض کی زبان میں ہی سنا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور لطف اللہ خان نے اس بات کو ممکن بنا دیا ہے۔ انہوں نے فیض صاحب کی ساری شاعری ان کی اپنی آواز میں محفوظ کر رکھی ہے۔ لطف اللہ خان بیک وقت کئی بڑے بڑے منصوبوں پر کام کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے چار سال تک مولانا احتشام الحق تھانوی کا درس قرآن ریکارڈ کیا اور اس وقت مولانا تھانوی کی آواز کا ایک بڑا خزانہ لطف اللہ خان کے پاس محفوظ ہے۔
آپ کو ثریا ملتانیکر کی آواز میں اردو غزل کا اعجاز دیکھنا ہو تو ان کی آواز لفظوں سے کرداروں کی تجسیم کرتی نظر آئے گی۔ پوری مہندی بھی لگانی نہیں آئی اب تک یا پھر آپ ثریا کی رس بھری آواز میں خواجہ فرید کی کافیاں سنتے سنتے جب رات کے پچھلے پہر کا گیت سنیں گے تو آپ پر غم ہجراں ایک بھید کی مانند کھل جائے گا۔ کبھی کبھی آپ کو یوں لگے گا کہ پٹھانے خان کی آواز صحرا میں دریا تلاش کر رہی ہو اور آواز کا ردھم اور زیروبم یہ بھید کھول رہا ہو کہ صحرا کے سراب اور دریا کی حقیقت میں کیا فرق ہوتا ہے۔ آپ لطف اللہ کی آوازوں کے خزانے میں ملکہ پکھراج کی ٹھمری، امید علی خان کا دادرا، استاد بڑے غلام علی خان کا سر ایمن کلیان، ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم کا سر بھیروی اور سر پہاڑی کے ملاپ سے ایک نئے سر کا اعجاز اور پھر ان سارے بڑے فنکاروں کی گائیکی ہی نہیں، ہنسی کھلکھلاتی، روتی بسورتی یا پھر دوسروں کو رلاتی، بولتی اور مخاطب کرتی آوازیں کھل جا سم سم کا وظیفہ بتاتی محسوس ہوں گی۔
ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت حق کے لیے اگر آپ نے شوکت صدیقی سے ان کا افسانہ سننا ہو یا خود ان کے ذریعے راجہ، شامی، نوشہ، لالی یا رحیم داد سے ملنا ہو یا بیگم شائستہ اکرام اللہ کا مضمون سننا ہو۔ قدرت اللہ شہاب سے شہاب نامہ کے ابواب سننے ہو، غلام عباس سے آنندی سننا ہو یا پھر زہرہ نگاہ سے ان کی یا کسی کی بھی شاعری خوبصورت ترنم یا تحت اللفظ میں سننی ہو تو پھر آپ لطف اللہ خان کی بولتی لائبریری تک پہنچ جائیے آپ کو سارے لوگ بولتے ہوئے مل جائیں گے۔ آپ سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں اور آپ کو گاندھی کی تقریریں سننی ہیں۔ آپ نے قائداعظم کے لہجے کا بے پناہ ٹھہراؤ محسوس کرنا ہے یا پھر آپ نے لیاقت علی خان کے جوش خطابت کا اندازہ لگانا ہے۔ آپ کو ذوالفقار علی بھٹو کی دلبری کی ادا دیکھنی ہے یا جواہر لعل نہرو کی نکتہ آفرینی کا ابلاغ کرنا ہو۔ آپ نے مذہبی لیڈروں میں مولانا مودودی کی سادہ بیانی سننی ہے۔ ابو الکلام آزاد سے سجی ہوئی زبان کا ادراک کرنا ہے تو لطف اللہ خان کی آوازوں کے خزانے تک پہنچ جائیے۔
انہوں نے جواباً کہا کہ ’میں لوگوں کے سامنے ایک سوال رکھ رہا ہوں۔ ایک شخص نے کسی کام میں پچپن سال لگا دیے۔ مجھے یہ بتایا جائے کہ میرا کام اہم ہے یا نہیں۔ اگر لوگ میرے کام کا اثبات کرتے ہیں تو وہ میری بات کی تائید کرتے ہیں۔ میرے کام کو سراہتے ہیں تو بس یہی میرا انعام ہے‘۔ کیا کسی ادارے نے اس لائبریری کے حصول کے لیے آواز دی یا یہ خزانہ پانے کے لیے آپ سے رجوع کیا۔ ہم نے ان سے دریافت کیا تو وہ کہنے لگے جی ہاں برٹش لائبریری اور پاکستان آرکائیو والوں نے ہم سے آوازیں مانگی ہیں مگر وہ چاہتے ہیں کہ وہ حسنِ یوسف کو بے دام خریدیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنی عمر کی ساری محنت اور اس محنت کے ثمر کو ان کی نذر کر دوں۔ میں نے پچپن برسوں میں جو کائنات آباد کی ہے وہ کائنات انہیں تحفے میں دے دوں۔ بات پھر وہی ہے کہ لطف اللہ خان کے کام کا اثبات کیا جائے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی آرٹسٹ کے کسی بڑے آرٹ پر زمانہ حیرت زدہ رہ جاتا ہے اور پھر حیرت زدگان حواس باختہ ہو جاتے ہیں۔ پھر جب حواس بحال ہوتے ہیں تو ایک صدی بیت چکی ہوتی ہے۔ جیسے دیوان غالب، جیسے مونا لیزا، جیسے رومیوجولیٹ جیسے شکنتلہ۔ مگر کیا ضروری ہے کہ ہم ایک آرٹسٹ کو اس کے کام پر ایک صدی بعد داد دیں یا کسی محنت کش کو اس کی زندگی بھر کی محنت کا صلہ ڈیڑھ صدی بعد دیں۔ مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اکثر بے خبر |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||