میلان میں بھی ماڈلز کیلیئےضابطہ اخلاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی کے فیشن کے مرکز میلان نے فیشن ماڈلز کے لیئے کیٹ واک ضابطہ اخلاق کا اعلان کیا ہے تاکہ نوجوان ماڈل خواتین کو استحصال اور ضرورت سے کم خوراک کھانے سے بچایا جاسکے۔ اس ماہ کے آغاز میں ہسپانیہ میں بھی ایک معروف فیشن شو میں ’نہایت دبلی پتلی‘ ماڈلز پر پابندی لگا کر انہیں کیٹ واک میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ میلان میں اس ضابطہ اخلاق کا اعلان ہفتہ فیشن کے آغاز پر ہوا ہے اور یہ اگلے برس فروری سے لاگو کیا جائے گا۔ اس مرتبہ فیشن ویک کا آغاز انتہائی دبلی پتلی ماڈلز نے نہیں کیا بلکہ فیشن پیریڈ میں قدرے ’صحتمند‘ ماڈلز نظر آئیں۔ ان ماڈلز نے ڈیزائنر ایلینا مائرو کے بنائے ملبوسات پہنے۔ میلان فیشن ویک کا یہ افتتاحی دور آنے والے وقت میں نئے ضابطہ اخلاق کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔ فیشن شو میں شہر کے ایک سرکاری اہلکار نے، جو فیشن انڈسٹری کی تشہیر کا کام بھی کررہے ہیں، کہا کہ یہ ایک واضح پیغام ہے کہ میلان نوجوان خواتین کا استحصال برداشت نہیں کرے گا۔ ’ہم ماڈلنگ ایجنسیوں، سرکاری اداروں اور ڈاکٹروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ماڈلز کو ’ضرورت سے کم خوراک‘ کھانے کی ترغیب نہ دی جائے۔ میلان کی خاتون میئر نے ’فاقہ زدہ‘ نظر آنے والی ماڈلز پر پابندی کی اس مہم کا خیر مقدم کیا ہے۔ نیا ضابطہ اخلاق لاگو ہونے کے بعد ماڈلز کو اگلے فیشن ویک کی کیٹ واک میں شمولیت کے لیئے ایک میڈیکل سرٹیفیکیٹ دکھانا ہوگا جس سے معلوم ہوسکے گا کہ وہ صحتمند ہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ فیشن شو میں شریک ہونےوالی کم عمر اور سکول کی طالبات کے ساتھ ان کے سرپرست یا اساتذہ کی موجودگی ضروری ہوگی۔ نئے ضابطہ اخلاق میں ایسی جعلی یاغیر لائسنس شدہ ماڈلنگ ایجنسیوں پر بھی پابندی لگائی جائے گی جو ماڈلنگ کے نام پر نوجوان خواتین کو مستقبل کے رنگین خواب دکھا ان کا جنسی استحصال کرتی ہیں۔ | اسی بارے میں ملکہ حسن کی بلیئر پر تنقید31 August, 2006 | فن فنکار پاکستانی اور بھارتی ماڈلز ہم قدم02 October, 2003 | فن فنکار لاہور: فیشن شواور برائیڈل ویوز200529 April, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||