’ پس منظر فنکاروں کی پوشیدہ دنیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی کے صحافی ڈیوڈ ولس ہالی وڈ میں قسمت آزمائی کے لیئے بی بی سی سے چھ ماہ کی چھٹی پر ہیں۔ انہوں نے اپنی تازہ ترین ڈائری فلمی’ایکسٹراز‘ کی دنیا پر لکھی ہے۔ اب انہیں’ایکسٹرا‘ نہیں کہا جاتا بلکہ ہالی وڈ والے انہیں’پس منظر اداکار‘ کہہ کر بلاتے ہیں۔ تاہم فیچر فلموں اور ٹی وی پروگراموں میں بطور انسانی ’وال پیپر‘ کام کرنے والے ان اداکاروں کا بس نام ہی بدلا ہے۔ وہ آج بھی ہالی وڈ کی سیڑھی کے نچلے ترین پائے پر ہیں۔ نہ ہی انہیں کوئی یاد رکھتا ہے اور وہ تاعمرگمنام رہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی میرے جیسے ان افراد کے لیئے جن کے پاس جوش وافر اور تجربہ کم ہے یہ کردار وہ واحد راستہ ہیں جن کی مدد سے ہالی وڈ کی دنیا میں قدم رکھا جا سکتا ہے۔ شاہد یہی وجہ تھی کہ میں نےگزشتہ ہفتے اپنے آپ کو دنیا کی مشہور ٹیلنٹ ایجنسی’سینٹرل کاسٹنگ‘ کے دفاتر کے باہر اس لمبی قطار میں پایا جس میں کام کے لیئے خود کو رجسٹر کروانے والے افراد موجود تھے۔ جب میں وہاں پہنچا تو گو کہ دفاتر کھلے ہی تھے لیکن پھر بھی وہاں بہت رش اور گرمی تھی۔ وہاں پر بھانت بھانت کے لوگ جمع تھے جن میں پنشنر، بزنس مین، باڈی بلڈر، گینگسٹر، ماڈل اور آوارہ سبھی شامل تھے۔ یہ نوع انسانی کی ایک بہت بڑی تصویر کی مانند لگ رہا تھا۔ انگریزوں کے برعکس پُر امیدی امریکیوں کے ڈی این اے میں پائی جاتی ہے۔ رون ڈی سنزو اس پُرامیدی کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ چالیس کے پیٹے میں ہونے کے باوجود رون کا جسم ایک ایسے شخص کا سا ہے جو اپنے فارغ وقت کا ہر لمحہ ورزش گاہ میں گزارتا ہے۔ رون کی مسکراہٹ بہترین ہے اور اس کی نیلی آنکھوں سے جوش و جذبہ پھوٹتا ہے۔ مارٹن سارسس کی فلم ’کیسینو‘ میں رابرٹ ڈی نیرو اور شیرون سٹون کے ساتھ کام کرنے کے بعد رون لاس اینجلس میں رہنے لگا ہے اور اب وہ اپنی روزی ایک بطور پس منظر اداکار کماتا ہے۔
اگرچہ یہ ایک ایسی زندگی ہے جس میں فلم سیٹ پر بہت انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن رون کا کہنا ہے کہ وہ خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین شخص سمجھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے اب بہتری کی گنجائش صرف یہ ہے کہ وہ فلم میں مکالمے ادا کرے، اپنا ایک ٹریلر خریدے اور ایک سو چھبیس ڈالر روزانہ سے کچھ زیادہ کمائے۔ ہماری بات چیت کے دوران کمرے میں موجود افراد میں اضافہ ہونے لگا۔’سینٹرل کاسٹنگ‘ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہاں سے کسی کو لوٹایا نہیں جاتا۔ یہ آپ سے نہ تو ریفرنس مانگتے ہیں اور نہ ہی آپ کے تعلیمی کیرئر کے متعلق پوچھتے ہیں۔ نہ کوئی اس بارے میں فکر مند ہوتا ہے کہ آپ کیسے دکھائی دیتے ہیں یا آپ کی آواز کیسی ہے کیونکہ پس منظر فنکاروں کی اس گمنام دنیا میں سب کے لیئے کام موجود ہے۔ ’سینٹرل کاسٹنگ‘ اپنے طریقے سے ہزاروں افراد کا وہ’امریکن ڈریم‘ پورا کرنے میں مدد دیتی ہے جسے پلکوں پر سجائے وہ ہالی وڈ آتے ہیں۔ اب جیسے رون اگلے چند ہفتوں تک ’جارجیا رولز‘ کے سیٹ پر کام کرے گا میں اپنےگھر میں فون کی گھنٹی بجنے کا منتطر رہوں گا۔ | اسی بارے میں نشےمیں ڈرائیونگ، گبسن کی معافی30 July, 2006 | فن فنکار ’سپرمین کی واپسی‘ 20 June, 2006 | فن فنکار ہالی وڈ کے پیچھے بالی وڈ29 May, 2006 | فن فنکار بسلان سانحے پر ہالی وڈ کی فلم19 May, 2006 | فن فنکار ’میونخ‘ میں فلسطینیوں کا قتل24 January, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||