BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 February, 2006, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک زاہد مبارک کی کہانی پر ڈرامہ

زاہد مبارک
زاہد مبارک کے آخری دنوں کی کہانی بڑی خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے۔
ما ر چ سن دو ہزا ر میں اُنیس سالہ پاکستانی نژاد زاہد مبا رک کو فلتھم جیل میں ا س کے ’سیل میٹ‘ رابرٹ سٹیورٹ نے موت کے گھاٹ اُتار دیا۔

اگلے چار سال تک زاہد مبارک کے چچا امتیاز امین نےاس قتل کی وجوہا ت جاننے کے لیئے جنگ لڑی جس کا نتیجہ ایک انکوائری کی صورت میں سامنے آیا۔

لند ن کے ’سٹیٹفورڈ اییسٹ تھیٹر‘ میں قتل کے واقعا ت اور انصاف کے حصول کی اس جدوجہد پر مبنی ڈرامہ ’گلیڈی ایٹرگیمز‘ زور و شور سے چل رہا ہے۔ شارلٹ ویسٹرنا کی زیر ہدایات یہ ڈرامہ اس سے پہلے شیفیلڈ میں دکھایا جا چکا ہے۔

ڈرامہ زیادہ تر پبلک انکوائری کے اقتباسات پر مبنی ہے۔ ڈرامہ نویس تنیکہ گپتا نے بڑی مہارت سے اس تمام مواد کو ایک دلچسپ اور سنسنی خیز ڈرامے میں ڈھالا ہے۔

ہم ملک میں زیادہ تر کالوں کو یویونیورسٹی کی بجائے جیل بھیج دیتے ہیں‘۔
ڈرامے سے اقتباس

ڈرامے کا آغاز انکوائری میں ؤکلا کے بیانات سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد زاہد مبارک کے خاندان کا ردِ عمل سامنے آتا ہے۔ یہاں سے ڈرامہ جیل کی ا ندرونی سیاست پر مرکوز ہوتا ہے۔

جیل کے عملے کے بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ قاتل رابرٹ سٹیورٹ جرائم کا عادی تھا جس کے ماضی کی کہانی فلتھم جیل میں منتقلی سے پہلے مختلف برطانوی میں قیام پر بکھری ہوئی تھی۔

جیل میں رابرٹ کے ساتھ رہنے والوں کے مطابق وہ ذہنی طور پر بیمار ہے اور نسل پرست نظریات کا قائل تھا۔ رابرٹ کے ذہن میں غیر سفید فام لوگوں کے خلاف گذشتہ جیلوں میں رونما ہونے والے واقعات سے زہر بھرا ہوا تھا۔ ڈرامہ میں نفسیاتی امراض کے ماہر ڈا کٹر کی رپورٹ کے مطا بق رابرٹ کی اس نفسیاتی حالت کے باوجود اس پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی۔

 رابرٹ نے اپنی اسیر ی کے دوران دو سو سے زیادہ خطوط لکھے جس میں اس نے زاہد کو قتل کرنے کا عند یہ دیا تھا لیکن اس کے باوجود رابرٹ کو زاہد کے ساتھ ایک ہی سیل میں ڈال دیا گیا جس کا نتیجہ بالاخر زاہد کے قتل پر منتج ہوا۔

اس نقطۂ نظر سے رابرٹ کے اعمال کی ذمہ داری کسی حد تک طبی عدم توجہی پر بھی عائد ہوتی ہے۔ ڈرامہ کے مطا بق سب سے بڑ ی غفلت یہ تھی کہ رابرٹ کی فلتھم منتقلی کے وقت اس کی مجرمانہ اور نسل پر ست نظریات پر مشتمل فائل پر جیل کے عملے نے نظر ڈالنا مناسب نہیں سمجھا۔

خود رابرٹ نے قید کے عرصے کے دوران دو سو سے زیادہ خطوط لکھے جن میں اس نے زاہد کو قتل کرنے کا عند یہ تک دیا تھا لیکن اس کے باوجود رابرٹ کو زاہد کے ساتھ ایک ہی سیل میں ڈال دیا گیا جس کا نتیجہ بالاخر زاہد کے قتل پر منتج ہوا۔

زاہد کا قاتل رابرٹ سٹیورٹ

ڈرامے میں زاہد اور رابرٹ کے آخری دنوں کی کہانی بڑی خوبصورتی سے بیان کی گئی ہے۔ خاص طور پر زاہد کے قتل کا منظر بڑا ہولناک ہے۔ میں نے جتنی بار ڈرامہ دیکھا ہر بار ناظرین پر اس منظر کے بعد خوف اور صدمے کا گہرا اثر محسوس کیا۔ اس پُراثر منظر کے بعد ایک چپ اور خاموشی چھا جاتی ہے۔ ڈرامے میں ایک جگہ پر جیل کا ایک ملازم کہتا ہے ’ہم ملک میں زیادہ تر کالوں کو یویونیورسٹی کی بجائے جیل بھیج دیتے ہیں‘۔

ڈرامے میں بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ نئی صورتحال میں انکوائری کی سفارشات پر زیادہ عملدرآمد نہ ہو۔ اس لحاظ سے یہ انکوائری نسلی موضوع پر سٹیفن لارنس انکوائری سے مختلف ہو سکتی ہے۔

ان دنوں برطانوی تھیٹر میں آئی ہوئی سیاسی ڈراموں کی لہر کے حوالے سے یہ ڈرامہ اہمیت کی حامل ہے۔ پانچ ادا کاروں کا چھبیس کردار نبھانا ایک مشکل کام تھا جسے اچھی طرح سے انجام دیا گیا ہے۔

اگر آپ نے اب تک یہ ڈرامہ نہیں دیکھا تو ضرور د یکھیے۔

اسی بارے میں
نسلی قتل،تحقیقات کا حکم
29 April, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد