BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 April, 2004, 00:47 GMT 05:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نسلی قتل،تحقیقات کا حکم
 رابرٹ سٹیورٹ
رابرٹ سٹیورٹ کے کمرے میں امریکی نسل پرست تنظیم کو کلس کلان کے نشان بنے ہوئے تھے۔
برطانیہ میں فیلتھم میں بچوں کی جیل میں ایک ایشائی نوجوان کا نسلی امتیاز کی بنا پر ہونے والے قتل کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔

زاہد مبارک کے اہلِ خانہ نے چار سال تک اس معاملے پر مہم چلائی کہ زاہد مبارک کو ایک جانے پہچانے نسل پرست کے ساتھ کیوں رکھا گیا ۔

نسلی مساوات سے متعلق کمیشن کی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ اگر زاہد سفید فام ہوتا تو یوں قتل نہ ہوتا اور جیل حکام نے یہ تسلیم کیا کہ وہ اسے بچانے میں ناکام رہے۔

گزشتہ برس برطانوی عدلیہ کے اراکان نے وزارتِ داخلہ سے اپیل کی تھی کہ اس معاملے کی تحقیقات کرائی جائے۔ جمعرات کو وزارتِ داخلہ اس تحقیقات کا سرکاری طور پر اعلان کرے گا اور اس کے بارے میں قوائدو ضوابط وضع کرے گا۔

اس تحقیقاتی کمیشن کی سربراہی ہائی کورٹ کے ایک جج کو سونپی گئی ہے۔

زاہد کے اہلِ خانہ اور ان کے قانونی مشیر اس کیس کا موازنہ اسٹیون لارنس کے قتل سے کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی مکمل تحقیقات جیل حکام کے لئے تنبہیہ کا باعث ہوگی۔

رابرٹ اسٹیورٹ کو ایک انیس سال کے لڑکے کو میز کے پائے سے مار مار کر ہلاک کرنے پر اکتوبر 2001 میں عمر قید کی سزا دی گئی تھی جس کے ایک روز بعد زاہد کو رہا ہونا تھا ۔

مقدمے کی سماعت کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ اسٹیورٹ کاذہنی توازن ٹھیک نہیں تھااور اس کے کمرے میں امریکی نسل پرست تنظیم کو کلس کلان کے نشان بنے ہوئے تھے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد