BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 December, 2005, 01:38 GMT 06:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملکہ ترنم نورجہاں کی پانچویں برسی

نورجہاں نے اپنی فنی زندگی میں بچپن سے لے کر ڈھلتی جوانی تک ہر قسم کے کردار ادا کیے۔
نورجہاں کو اگر پیدائشی فنکارہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ برِ صغیر کی فلمی تاریخ میں ایسی کوئی فنکارہ پیدا نہیں ہوئی جسے نورجہاں جیسا مقام دیا جا سکے۔

سن انیس سو پینتیس میں صرف نو سال کی عمر میں کلکتہ میں شیلا عرف پند دی کڑی (برِصغیر کی پہلی پنجابی فلم) میں صرف ایک گانے کی جھلک دکھا کر ثابت کر دیا کہ وہ مستقبل کی بڑی فنکارہ ہیں۔ چائلڈ سٹار ہونے کے باوجود نورجہاں کا نام اپنی دوسری ہی فلم سے پبلسٹی اشتہارات میں ہیروئن کے بعد دوسرے نمبر پر آنے لگا۔ ’فخر اسلام‘، ’مسٹر 420‘، ’مسٹر اینڈ مسز ممبئی‘، ’ہیر سیال‘، ’سسی پنوں‘ اور ’امپیرئل میل‘ میں معمولی سے کرداروں میں انہوں نے فلمی دنیا کو یہ باور کرایا کہ ان کی آواز کے بغیر فلم کامیاب کرانا آسان نہیں۔

سن انیس سو اڑتیس میں کلکتہ سے لاہور واپسی پر نورجہاں کا معاہدہ پنچولی آرٹ سٹوڈیوز سے ہوا۔ ’گلِ بکاؤلی‘، ’یملا جٹ‘ اور ’چودھری‘ میں نورجہاں نے بطور چائلڈ سٹار پورے پنجاب میں دھوم مچا دی۔ ان فلموں کی زبردست کامیابی کے بعد ان کا معاہدہ پنچولی آرٹ سٹوڈیوز سے ختم ہو گیا اور انہوں نے دوبارہ پنجاب کے بڑے شہروں کے سینما سٹیج پروگراموں میں اپنی آواز کا جادو جگانا شروع کر دیا۔ ایسے ہی ایک پروگرام میں نورجہاں کی پرفارمنس کو دیکھ کر سید شوکت حسین رضوی نے انہیں اپنی پہلی فلم ’خاندان‘ کے لیے ہیروئن چن لیا۔ بطور ہیروئن پہلی ہی فلم کے بعد پورے ہندوستان میں ان کے نغمات اور فطری اداکاری کی دھوم مچ گئی اور ممبئی کے فلمساز انہیں ممبئی لے جانے کے لیے لاہور پہنچ گئے۔

ممبئی میں فلمساز وی ایم ویاس کی دو فلموں ’دہائی‘ اور ’نوکر‘ اور ضیا سرحدی کی فلم ’نادان‘ میں کے فلاپ ہونے کے باوجود نورجہاں کی شہرت کو کوئی نقصان نہ پہنچا۔ ممبئی میں نورجہاں کی سپر ہٹ فلموں میں امرناتھ کی ’گاؤں کی گوری‘، شوکت حسین رضوی کی ’زینت‘ اور محبوب کی نغماتی رومانوی فلم ’انمول گھڑی‘ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ بحیثیت ایک فنکارہ اور گلوکارہ کے ان تینوں فلموں میں نورجہاں بام عروج تک پہنچ چکے تھیں۔ خاص طور پر ’زینت‘ میں بھرپورجوانی میں ینگ ٹو اولڈ کردار ادا کر کے انہوں نے اس دور کے نامور اداکاروں کو حیرت و استعجاب میں ڈال دیا۔

ہدایت کار لقمان کی فلم ’ہمجولی‘ میں طربیہ اور المیہ اداکاری کے بعد نورجہاں نے نقادانِ فن کو یہ لکھنے پر مجبور کر دیا کہ وہ اس دور کی نامور اداکاراؤں خورشید، مادھوری، ثریا، منورسلطانہ، نرگس، کانن بالا، شانتا آپٹے اور راگنی سے لسی طور بھی کم نہیں بلکہ پرفارمنس میں ان سے بہت آگے ہیں۔

ممبئی میں نورجہاں کی آخری دو فلمیں ’مرزا صاحباں‘ اور ’جگنو‘ تھیں۔ ’مرزا صاحباں‘ تو اپنے موضوع کی وجہ سے پِٹ گئی جبکہ ’جگنو‘ میں نورجہاں کی سریلی آواز شوخ و چنچل اداکاری کے بعد المیہ انجام تک اس کے کردار کو ہر طبقہ فکر کے لوگوں نے سراہا اور یہ اس دور کی سپرہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس مرحلہ پر یہ کہنا بھی غلط نہ ہو گا کہ تین فلموں میں ناکام رہنے والے دلیپ کمار’جگنو‘ میں نورجہاں کے مقابل مرکزی کردار میں آکر راتوں رات سپر ہٹ ہیروبن گئے۔

تقسیم کے بعد جب نورجہاں لاہور آگئیں تو سابقہ کریڈٹ ان کے کام آیا اور بطور ہدایت کارہ ان پہلی فلم ’چن وے‘ سپر ہٹ ہوئی۔ بعد میں سبطین فضلی کی ’دوپٹہ‘، ایم اے رشید کی ’پاٹے خان‘ اور مسعود پرویز کی ’انتظار‘ بھی کامیاب فلمیں ثابت ہوئیں۔ اگرچہ ’گلنار‘ اور ’لخت جگر‘ باکس آفس پر کامیابی حاصل نہ کر سکیں لیکن نورجہاں کی اداکاری اور گلوکاری کو ضرور سراہا گیا۔

نورجہاں نے اپنی فنی زندگی میں بچپن سے لے کر ڈھلتی جوانی تک ہر قسم کے کردار ادا کیے۔ برِصغیر کی فلمی تاریخ میں ایسی مثال ملنا مشکل ہے کہ کسی فنکارہ کو اتنی کم عمری میں اتنا عروج ملا ہو اور وہ فنکارہ آخری عمر تک اسی مقام پر قائم رہی ہو۔

اسی بارے میں
میڈم نورجہاں کے کئی رنگ
21 December, 2005 | فن فنکار
ملکہ کی جانشینی کےلئےدوڑ
09 August, 2002 | صفحۂ اول
تیرے چرچے گلی گلی
23 December, 2004 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد