ہیتھرشارپ بی بی سی نیوز، قاہرہ |  |
 |  روبی مصر کی سب سے مشہور اور متنازعہ گلوکارہ ہے |
مشرق وسطیٰ کے نوجوانوں پر سیریز کے سلسلے کی ایک کڑی میں بی بی سی نیوز نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ سیکسی مصری گلوکارائیں کس طرح کے تنازعات کو جنم دے رہی ہیں۔ جیسے ہی ٹی وی کے سپیکر سے ایک خوبصورت عربی پوپ گانے کے بول بلند ہوتے ہیں سکرین پر گلیمرس گلوکارہ ناچتی ہوئی نمودار ہوتی ہے۔ میوزک وڈیوز یا میوزک کلپس نوجوانوں کے من پسند چائے خانوں، دوکانوں اور ڈسکو کلبوں کے لیے پسندیدہ وال پیپرز ہیں۔ جیسے جیسے مشہور خواتین سٹارز کم کپڑوں میں نمودار ہوتی ہیں اس کے ساتھ مصر کی مسلمان آبادی میں تنازعات جنم لیتے ہیں۔  |  وڈیو کلپس میں عریاں مناظر کا استعمال عام ہے | روبی سب سے زیادہ معروف سٹار ہیں۔ دیگر ہمعصر گلوکاراؤں کے برعکس جو لبنانی ہیں، روبی کا تعلق مصر سے ہے۔ اُن کے گانوں میں سیکسی ڈانس اور عریانی کی بنا پر رجہت پسند ارکان پارلیمنٹ کئی مرتبہ پر ان پابندی لگانے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔پچیس سالہ رافیل روبی کے فین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ روبی کو پسند کرتے ہیں۔ ’روبی اس طرح ڈانس کرتی ہے جیسے کوئی بھی انہیں دیکھ نہیں رہا۔ انہیں کیمرے کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ ایسے دکھائی دیتا ہے جیسے وہ اپنی لیے ناچ رہی ہو۔‘ تاہم کئی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ روبی تمام حدیں عبور کر رہی ہیں۔ سترہ سال احمد عصمت کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جسم کا غلط استعمال کر رہی ہیں۔ ’اگر اس کے وڈیو کلپ میں کوئی عریان ڈانس نہ ہو تو وہ مشہور نہیں ہوتا۔ لیکن دوسری طرف کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو روبی کے وڈیو پسند نہیں کرتے۔‘  |  کئی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ روبی تمام حدیں عبور کر رہی ہیں | ’جب روبی کا وڈیو کلپ ریلیز ہوتا ہے تو یہ نوجوانوں کی گفتگو کا موضوع بن جاتا ہے۔ نوجوان اکٹھے ہو کر اسے دیکھتے ہیں۔ لیکن ایک دو بار دیکھنے کے بعد ان کی رائے بدل جاتی ہے اور وہ یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ گلوکاری نہیں گانے کے نام پر پورنوگرافی ہے۔‘روبی کے پروڈیوسر شریف صابری کے لیے یہ باتیں نئی نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ روبی کے وڈیو کلپ ’فنکارانہ، نفیس اور برمحل‘ ہوتے ہیں۔ سیکسی ایک اچھا لفظ ہے لیکن میرے خیال میں وہ اس سے بھی بڑھ کر شہوت انگیز ہوتے ہیں۔‘ |