بلیک فرائیڈے کی نمائش پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کی ہائی کورٹ نے بالی ووڈ کی متنازعہ فلم ’بلیک فرائیڈے‘ کی نمائش پر پابندی لگا دی ہے۔ ہندوستان بھر میں یہ فلم جمعہ کو نمائش کے لیے پیش کی جانی تھی۔ یہ پابندی عدالت میں ایک رٹ داخل کرائے جانے کے بعد لگی ہے جو کہ ممبئی بم دھماکوں کے ملزمان کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ ممبئی ہائی کورٹ نے 3 فروری تک اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد کی ہے۔ اس فلم کی کہانی 1993 میں ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں کے گرد گھومتی ہے۔ ان دھماکوں میں تین سو افراد ہلاک ہو گئے تھے اور انہوں نے بھارتی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ بالی ووڈ کے ہدایتکار انوراگ کشیاپ کا کہنا ہے کہ ’ 12 مارچ 2003 کو جو ہوا ، یہ فلم اس کی سچی کہانی ہے۔‘ بلیک فرائیڈے کی کہانی اسی نام کی ایک کتاب سے لی گئی ہے جسے حسین زیدی نے لکھا ہے۔ یہ کتاب دو برس قبل شائع ہوئی تھی۔ فلمسازوں کا کہنا ہے کہ اس فلم پر پابندی بلاجواز ہے کیونک وہ کتاب جس سے اس فلم کی کہانی ماخوذ ہے بازار میں گزشتہ دو سال سے عام دستیاب ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ دھماکوں کے ملزمان نے فلم سے متعلق قانونی کارروائی کی ہے۔ اس سے پہلے اس فلم کے پوسٹر پر ’سچی کہانی‘ کے الفاظ کی اشاعت پر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا تھا۔ ممبئی بم دھماکوں کے 36 ملزمان نے اپنے وکلاء کے ذریعے اس موقف کا اظہار کیا تھا کہ یہ فلم دھماکوں کی سچی کہانی کیسے ہو سکتی ہے جبکہ معاملہ ابھی عدالت میں زیرِ سماعت ہے اور سچائی کا پتہ چلانے کی کوشش جاری ہے۔ ممبئی بم دھماکوں کا مقدمہ بھارت کے طویل مقدموں میں سے ہے ۔ اس کی سماعت گزشتہ نو برس سے جاری ہے اور اس سلسلے میں چھ سو گواہوں کو عدالت میں طلب کیا جا چکا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||