’اداکار ہدایت کار کے بغیر کچھ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار راکیش روشن کا کہنا ہے فلموں کی کامیابی یا ناکامی کی ذمہ داری ہدایت کار پر ہوتی ہے اور کوئی بھی اداکار اچھے ہدایت کار کے بغیر کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ انہوں نے یہ بات بی بی سی ورلڈ کے دستاویزی پروگراموں کے سلسلے ’بالی ووڈ باسز‘ کے لیے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ راکیش روشن پر بنائے گئے دستاویزی پروگرام میں ان کی فلم ’کہو ناں پیار ہے‘ کے ہیرو اور ان کے بیٹے ہرتیک روشن، مشہور اداکار امریش پوری اور سکرپٹ رائٹر ہنی ایرانی کے علاوہ کئی نامور فلمی ناقدین کے خصوصی انٹرویو بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے کے آخری پروگرام میں ’سلسلہ‘، ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ اور ’دل تو پاگل ہے‘ کے تخلیق کار یش چوپڑا کے فنی سفر کا جائزہ لیا جائے گا۔ اپنے خصوصی انٹرویو میں راکیش روشن نے کہا کہ ’جس دن سے میں ایک فلم پر کام کرنا شروع کرتا ہوں اسی دن سے مجھے یہ فکر لگی رہتی ہے کہ کیا یہ فلم صحیح ہے، کیا یہ کامیاب ہوگی؟ اگر کوئی فلم کامیاب نہیں ہوتی تو میں اسے پوری طرح بھول جانے کی کوشش کرتا ہوں۔‘
راکیش روشن آج کل اپنی نئی فلم پر کام کر رہے ہیں۔ پچھلے سال ان کی فلم ’کوئی مل گیا‘ باکس آفس پر بہت مقبول ثابت ہوئی تھی۔ فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ راکیش روشن بہت کامیابی کے ساتھ غیر معمولی کہانیوں اور کرداروں کو اپنی فلموں میں پیش کرتے ہیں۔ راکیش روشن کے بیٹے اور مقبول فلم اداکار ہرتیک روشن نے پروگرام کے دوران بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وہ دن بھی یاد ہیں جب وہ غربت کی زندگی گزارتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایک بار گھر کا کرایا دینے کے لیے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے انہیں گھر چھوڑ کر جانے کے لیے بھی کہا گیا تھا۔ راکیش روشن کا کہنا ہے کہ ’فلم کی کہانی لکھنا سب سے مشکل ہوتا ہے اور ایک فلم مکمل ہو جائے تو مجھے راتوں کو نیند نہیں آتی جب تک میں دوسری فلم پر کام شروع نہ کر دوں۔‘ ’اگر کوئی مجھے فلم کے لیے بنی بنائی کہانی دے دے تو میں بہت خوش ہو جاؤں گا۔ مگر کہانی پر کام کرنا فلم بنانے کے عمل کا سب سے دلچسپ حصہ بھی ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ جس دن فلم کی کہانی طے ہو جاتی ہے اسی دن اس کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ بھی ہو جاتا ہے۔ (’بالی ووڈ باسز‘ بی بی سی ورلڈ پر سنیچر کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر ساڑھے چار بجے اور پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے نشر کیا جاتا ہے۔) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||