’مجھے ہندی فلموں سے نفرت تھی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ کے معروف ہدایت کار کرن جوہر کا کہنا ہے کہ ایک وقت ایسا تھا جب وہ ہندی فلموں سے نفرت کیا کرتے تھے اور سکول میں اپنے دوستوں سے یہ کہنے سے کتراتے تھے کہ ان کے والد فلمیں بناتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات بی بی سی ورلڈ کے دستاویزی پروگراموں کے سلسلے ’بالی ووڈ باسز‘ کے لیے اپنے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ کرن جوہر پر بنائے گئے دستاویزی پروگرام میں ان کی فلم ’کچھ کچھ ہوتا ہے‘ کے ہیرو شاہ رخ خان اور کوریوگرافر فرح خان کے علاوہ کئی نامور فلمی ناقدین کے خصوصی انٹرویو بھی شامل ہیں۔ اس سلسلے کے دیگر پروگراموں میں ’سلسلہ‘، ’دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ اور ’دل تو پاگل ہے‘ کے تخلیق کار یش چوپڑا اور ’کہو نا پیار ہے‘ اور ’کوئی مل گیا‘ کے ہدایت کار راکیش روشن کے فنی سفر کا جائزہ لیا جائے گا۔ اپنے خصوصی انٹرویو میں کرن جوہر نے کہا کہ ان کی کامیابی کے پیچھے قسمت، شاہ رخ خان، آدتیا چوپڑا اور ان کے والد کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے۔ ان کے خیال میں قسمت ہی انہیں اس مقام تک لے کر آئی ہے۔ ’میں کہیں اور جا رہا تھا۔ میں اپنی زندگی کے ساتھ کچھ اور ہی کرنا چاہتا تھا، مگر قسمت نے مجھے اس راستے کے لیے منتخب کیا۔‘ کرن جوہر کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں لوگوں کا دل لبھانا ایک فلم ساز کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی فلموں کے ذریعے ایک الگ دنیا بنانا چاہتے ہیں جس میں لوگ اپنی پریشانیاں بھول جائیں۔ ’میں اپنی فلموں کے ذریعے ایک دنیا بناتا ہوں جس کا مالک میں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ اس دنیا میں آئیں۔ میں خود ہر پریشانی سے بھاگتا آیا ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری فلمیں دیکھنے والے بھی وہی کریں - اپنی پریشانیوں سے بھاگ کر میری دنیا میں قدم رکھیں۔‘ فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ کرن جوہر کی فلمیں اصل زندگی کی نمائندگی نہیں کرتیں اور ان میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔ مگر پھر بھی ان کی فلمیں بہت مقبول اور کامیاب ہوتی ہیں۔ کرن جوہر کے والد مشہور فلم ساز یش جوہر کا حال ہی میں انتقال ہو گیا۔ کرن جوہر کی فلم ’کبھی خوشی کبھی غم‘ بھارت اور مغربی ملکوں میں بہت کامیاب ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک ایسی فلم بنانا چاہتے تھے جو ہندوستانی سینما کے ہر پہلو کی عکاسی کرے۔ جس میں گانے ہوں، جذبات ہوں، رونق ہو اور بھارتی تہذیب ہو۔ کرن کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ وہ اپنی دنیا سے باہر نکلیں اور ایک فلم ساز کی حیثیت سے پیش رفت کریں۔ ’اب وقت آگیا ہے کہ میں اپنی تین فلموں کی دنیا سے باہر نکلوں اور اپنی نئی فلم کے بارے میں سوچوں۔ میں اب کچھ مختلف کرنا چاہتا ہوں۔‘ (’بالی ووڈ باسز‘ بی بی سی ورلڈ پر سنیچر کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق سہ پہر ساڑھے چار بجے اور پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے نشر کیا جاتا ہے۔) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||