BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 December, 2003, 21:51 GMT 02:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
موسیقی، پاکستانی مُلااور جنون

سلمان، ملّا بجلی
سلمان اور مولانا امیر عرف ملّا بجلی

ٹی وی چینیل بی بی سی فور پر پیر کو ’دی راک سٹار اور دی ملا‘ نامی ایک دستاویزی فلم دکھائی جا رہی ہے۔ اس فلم میں موسیقی کے پاکستانی گروپ ’جنون‘ کے سلمان احمد نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ اسلامی اصولوں اور موسیقی میں تضاد آخر پاکستان میں ہی کیوں ہے؟

اس فلم میں سلمان احمد یہ پوچھتے پھر رہے ہیں کہ آخر وہ لوگ جنہیں پاکستان میں ایسے لوگ جنہیں بالعموم ’ملا‘ کہہ کر پہچانا جاتا ہے، موسیقی کے اتنے خلاف کیوں ہیں؟

فلم میں سب سے پہلے وہ پشاور کا رخ کرتے ہیں جہاں ایم ایم اے کی حکومت نے موسیقی پر پابندی لگا رکھی ہے۔ یہاں ان کی ملاقات مولا نا امیر عرف مولانا بجلی سے ہوتی ہے۔

جب سلمان احمد مولانہ بجلی سے یہ پوچھتے ہیں کہ آخر جب دنیا کے دیگر باون اسلامی ممالک میں نہیں تو صرف پاکستان ہی میں موسیقی پر اتنا اعتراض کیوں ہوتا ہے؟

مولانا بجلی جواباً موسیقی پر کم اور اسلامی قوانین کے نفاذ پر زیادہ بات کرتے ہیں۔ بقول ان کے عورتوں کو گھر بٹھانے، چوروں کے ہاتھ کاٹنے ، زنا کاروں کو سنگسار کرنے اور موسیقی کو بند کردینے سے معاشرہ بالکل ٹھیک ہو جائے گا۔

اس کے بعد سلمان احمد ایک مدرسے کے کچھ نوجوانوں سے بھی گفتگو کرتے ہیں۔ یہ نوجوان ان سے بہت اچھی طرح ملتے ہیں اور انہیں اپنا موقف سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

سلمان
سلمان آٹوگراف دیتے ہوئے

لیکن جب سلمان احمد انہیں گٹار بجا کر کچھ قرانی آیات سناتے ہیں تو یہ لوگ خاصے ناخوش ہوتے ہیں اور سلمان کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہے کہ ایسا کنا انتہائی غلط ہے۔

فلم میں پاکستان کے صوبہ سرحد کے ایک ممتاز گلوکار گلزار عالم سے ایک گفتگو بھی شامل ہے۔

وہ خود پر گزرنے والا یہ قصہ سناتے ہیں جب پولیس نے کھلی محفل میں موسیقی پر پابندی کے خلاف گانے پر ان کے گھر آ کر انہیں گرفتار کرنے کی کوشش کی اور کس طرح ان کے گھر پر بھی چھاپا مارا گیا اور ان کے دو چھوٹے بچوں کی ہتھکڑیاں لگائی گئیں۔ بچوں کا ذکر کرتے ہوئے گلزار عالم کے آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔ اور پھر پابندی کے باوجود وہ گانا سناتے ہیں۔

سلمان احمد نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے سخت گیر اسلامی جماعتوں کی حمایت میں اضافہ امریکہ مخالف جذبات کا نتیجہ ہے، جس میں افغانستان پر حملے اور قبضے کے بعد کے بعد شدت آئی ہے۔ اور یہ جذبہ نسبتاً قدامت پسند صوبہ سرحد تک محدود نہیں۔

سلمان
سلمان اسٹیج پر موسیقی پیش کرتے ہوئے

وہ جب کراچی کے بحریہ کاجلج کی طالبات سے بات کرتے ہیں تو کئی لڑکیاں امریکہ کے خلاف بولتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ مسمانوں کے ساتھ بہت برا کر رہے ہیں۔

اس فلم میں سلمان احمد کا یہ کہنا ہے کہ سخت گیر اسلام عوام میں مقبول نہیں ہے اور اسے صرف کچھ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے لئے نافذ کرنا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس خطے میں صدیوں سے صوفیانہ کلام اور موسیقی کے ساتھ ساتھ چلنے کی روایت ہے۔ اور یہ ہمارے ورثے کا حصہ ہے۔

بہرحال اسلامی معاشرے میں موسیقی کے کردار کے سوال پر بحث مطلوبہ انداز سے نہیں ہو پاتی، کسی نہ کسی وجہ سے کچھ ادھوری رہ جاتی ہے۔

سلمان، نمرتا
بھارتی فنکارہ نمرتا اور سلمان

تاہم اس فلم کی دلچسپ بات یہ ہے کہ موسیقی اور موسیقاروں کو برا بھلا کہنے والے مولانہ بجلی آخر میں خود بھی گانے لگتے ہیں۔

اللہ رسول کے بارے میں ہی صحیح لیکن موسیقی تو ہوئی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد