قندیل بلوچ قتل: کب کیا ہوا؟

قندیل بلوچ نے قتل سے قبل ایک پریس کانفرنس میں حکومت سے سکیورٹی دیے جانے کی درخواست بھی کی تھی
،تصویر کا کیپشنقندیل بلوچ نے قتل سے قبل ایک پریس کانفرنس میں حکومت سے سکیورٹی دیے جانے کی درخواست بھی کی تھی
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

16 جولائی کو جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں سوشل میڈیا کی سلیبرٹی قندیل بلوچ کے قتل کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ متنازع بیانات اور پاکستان میں قابل اعتراض فوٹیج کی وجہ سے قندیل بلوچ میڈیا کی حد تک کافی مقبول شخصیت تھیں۔

قتل کی اس واردات کے کچھ دیر کے بعد پولیس نے اگرچہ قندیل بلوچ کی میت کو پوسٹ مارٹم کے لیے مقامی ہسپتال تو ضرور پہنچا دیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار مقتولہ کے والد محمد عظیم کو بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

قندیل کے بھائی نے انھیں غیرت کے نام پر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنقندیل کے بھائی نے انھیں غیرت کے نام پر قتل کرنے کا اعتراف کیا ہے

اس واقعے کے چند گھنٹے کے بعد ہی ڈی آئی جی ملتان رینج ڈاکٹر سلطان اعظم تیموری کا کہنا تھا کہ قندیل بلوچ کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی ہے اور اس کے علاوہ مقتولہ کی گردن پر زخم کے نشان بھی ہیں تاہم وقوعہ کے 12 گھنٹے گزرنے کے بعد ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ آئی کہ قندیل بلوچ کی موت اس کے منہ اور ناک پر تکیہ وغیرہ رکھنے کی وجہ سے ہوئی۔

پولیس نے مقتولہ کے والد کے بیان پر دو ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا اور جن دو افراد کے خلاف مقدمہ درج ہوا وہ کوئی اور نہیں بلکہ قندیل بلوچ کے دو حقیقی بھائی ہیں۔

اس مقدمے میں نامزد ایک ملزم وسیم کو پولیس نے گرفتار کر کے میڈیا کے سامنے پیش کردیا جبکہ دوسرا ملزم اسلم شاہین، جو فوج میں نائب صوبیدار ہیں، کی گرفتاری یا اُنھیں اس مقدمے میں شامل تفتیش کرنے کے لیے ملتان کی پولیس کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔

ملزم وسیم نے میڈیا کو بتایا کہ اس نے قتل کرنے سے پہلے قندیل بلوچ کو نشہ آور چیز پلائی اور پھر اس کے بعد اس کے منہ پر تکیہ رکھ کر اس کو قتل کر دیا۔

قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم اس مقدمے میں مدعی ضرور ہیں لیکن پولیس نے اُنھیں بھی شامل تفتیش کیا اور اس واقعے سے متعلق پوچھ گچھ کی۔

قندیل کے والد محمد عظیم نے اپنے دو بیٹوں کےخلاف اپنی بیٹی کے قتل کا مقدمہ درج کروایا ہے
،تصویر کا کیپشنقندیل کے والد محمد عظیم نے اپنے دو بیٹوں کےخلاف اپنی بیٹی کے قتل کا مقدمہ درج کروایا ہے

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں زیر بحث لائے جانے کے بعد یہ واقعہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی آیا اور پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافے کی وجہ اس ضمن میں مناسب قانون سازی نہ ہونے کو قرار دیا گیا تو پھر پولیس نے قندیل بلوچ کےقتل کے مقدمے ضابطہ فوجداری کی دفعہ311 سی کا اضافہ کردیا جس سے اب اس مقدمے کا مدعی چاہتے ہوئے بھی ملزمان کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔

ملزم وسیم کے پولیس اور پھر مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف جرم کے بعد ملزم کو تین روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر جیل بھجوانے کا فیصلہ کیا تاہم

ملتان پولیس کے حکام نے اچانک فیصلہ بدلتے ہوئےنہ صرف وسیم کا مزید پانچ روزہ ریمانڈ حاصل کرلیا بلکہ اس مقدمے کی تفیشی ٹیم میں شامل پولیس انسپکٹر الیاس حیدر کو معطل کرتے ہوئے اس اہم مقدمے کی تفتیش خاتون پولیس انسپکٹر عطیہ جعفری کو سونپ دی گئی۔

انسپکٹر الیاس حیدر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اُنھوں نے نے ملزم وسیم کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے ملزم کا اقبالی بیان ریکارڈ کروایا تھا۔

اس مقدمے کی تحقیقاتی ٹیم ملزم وسیم کا پولی گرافک ٹسیٹ کروانے کے لیے22 جولائی کو لاہور لے کر جائے گی جس کے بعد انھیں 25 جولائی کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

قندیل بلوچ کے قتل کے واقعے کی بین الاقومی میڈیا پر کوریج کے بعد ملتان کی پولیس کافی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ اس مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو کوئی معلومات نہیں دے رہی۔ پولیس حکام نے اس مقدمے کے مدعی محمد عظیم کے گھر کے باہر پولیس اہلکار بھی تعینات کردیے ہیں۔