قندیل قتل کیس: ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع

عدالت نے ملزم کو ڈی این اے اور پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے لاہور بھیجنے کا بھی حکم دیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنعدالت نے ملزم کو ڈی این اے اور پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے لاہور بھیجنے کا بھی حکم دیا ہے
    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع ملتان کی ایک عدالت نے سوشل میڈیا پر شہرت پانے والی ماڈل قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں ملزم وسیم کو مزید پانچ روز کے لیے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

قندیل بلوچ کو گذشتہ جمعے کی شب ملتان میں ہی ان کی رہائش گاہ پر قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے والدین نے مقدمے میں اپنے دو بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کو نامزد کیا ہے۔

قندیل بلوچ کے قتل کا معاملہ برطانوی پارلیمان میں بھی اٹھایا گیا ہے۔

بدھ کو دارالعوام میں کنزرویٹو پارٹی کی رکن نصرت غنی کے قندیل بلوچ کے غیرت کے نام پر قتل سے متعلق سوال کے جواب میں برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے کہا کہ ’ غیرت کے نام پر کیے جانے والے جرائم میں کوئی غیرت نہیں ہے، یہ صرف تشدد اور جرم ہے۔‘

ملتان کی مقامی عدالت نے ملزم کو جو کہ قندیل کا بھائی ہے، ڈی این اے اور پولی گرافک ٹیسٹ ( جھوٹ پکڑنے کا ٹیسٹ ) کے لیے لاہور بھیجنے کا بھی حکم دیا۔

اس سے پہلے ملزم گرفتاری کے بعد تین روز ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں تھا۔

ملتان پولیس کے حکام نے قندیل بلوچ کے مقدمے کی ناقص تفتیش کرنے کے الزام میں تفتیشی ٹیم میں شامل انسپکٹر الیاس حیدر کو بھی معطل کر دیا ہے جبکہ اُن کی جگہ لیڈی پولیس انسپکٹر عطیہ جعفری کو اس مقدمے کی تفتیش سونپی گئی ہے۔

مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ملزم وسیم سے اس قتل کے مقدمے کی تفتیش جاری رکھی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ ملزم وسیم کو اگلے 24 گھنٹوں میں لاہور لے جایا جائے گا جہاں اس کے ڈی این اے ٹیسٹ کے علاوہ اس کا پولی گراف ٹیسٹ بھی کرایا جائے گا۔

اس سے پہلے تفتیشی ٹیم علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے ملزم کا اقبالی بیان بھی ریکارڈ کرا چکی ہے۔

واضح رہے کہ ملتان پولیس قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے میں غیرت کے نام پر قتل سے متعلق سیکشن 311 سی کا اضافہ کر چکی ہے جس کی وجہ سے اب اس مقدمے کا مدعی قاتل کو معاف نہیں کرسکتا۔

اس مقدمے کے مدعی قندیل بلوچ کے والد محمد عظیم ہیں جبکہ اس مقدمے میں قندیل کے دو بھائی نامزد ہیں جن میں سے ایک گرفتار ہے جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرے ملزم سے تفتیش یا اس کی گرفتاری کے لیے قانونی تقاضے پورے کیے جارہے ہیں۔

مقدمے کا دوسرا ملزم اسلم شاہین فوج میں نائب صوبیدار کے عہدے پر تعینات ہے۔