پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ ملتان میں قتل، مقدمہ درج

سوشل میڈیا پر اپنی ویڈیوز سے شہرت پانے والی پاکستانی ماڈل قندیل بلوچ کو ملتان میں مبینہ طور پر ان کے بھائی نے قتل کر دیا ہے۔
قندیل کے قتل کا مقدمہ ان کے والد کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے جنھوں نے ایف آئی آر میں اپنے دو بیٹوں کو نامزد کیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ قندیل کے مفرور بھائی اور مقدمے کے مرکزی ملزم وسیم کی گرفتاری کے بعد ہی یہ صورتحال واضح ہو گی کہ قندیل کے قتل میں ان کے والدین کا بھی کوئی کردار ہے یا نہیں۔
ملتان پولیس نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ قندیل کو اُس کے بھائی وسیم نے اپنے بڑے بھائی اسلم شاہین کے کہنے پر قتل کیا گیا ہے۔
نامزد ملزم اسلم شاہین فوج میں نائب صوبیدار ہیں اور ان پر قتل میں معاونت کا الزام ہے۔
والد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قندیل کے بھائی کی اُن سے کوئی ناراضی یا دشمنی نہیں تھیں جس سے بظاہر یہ لگتا ہے کہ قندیل بلوچ کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قندیل بلوچ کے قتل کے مقدمے کے تفتیش کرنے والی ٹیم کے سربراہ ایس پی سیف اللہ خٹک نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ تفتیشی ٹیم نے مقتولہ کے والدین کے بیانات بھی قلمبند کیے ہیں کیونکہ جس وقت یہ واقعہ رونما ہوا اس وقت گھر میں صرف چار لوگ موجود تھے جن میں ملزم وسیم کے علاوہ قندیل بلوچ اور اُن کے والدین شامل ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ملزم وسیم کی گرفتاری کے بعد صورت حال واضح ہوگی کہ اُن کے والدین کا اس قتل میں کوئی کردار تو نہیں ہے۔
اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ ملزم وسیم کی گرفتاری کے لیے پولیس کی ٹیمیں جنوبی پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان کے علاوہ مختلف شہروں میں بھجوا دی گئی ہیں۔
تفتیشی ٹیم کے سربراہ کے مطابق اس مقدمے میں نامزد دوسرا ملزم اسلم شاہین ہے جو فوج میں نائب صوبیدار ہے اس وقت کراچی میں تعینات ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ ملزم کو اس مقدمے میں شامل تفتیش کرنے کے لیے ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جارہی ہے۔
سیف اللہ خٹک کے مطابق مقتولہ کے والدین اور اُن کی دو بہنوں نے جو ملتان میں ہی موجود ہیں، پولیس کو بتایا ہے کہ وہ قندیل بلوچ کی تدفین اپنے آبائی علاقے ڈیرہ غازی خان میں ہی کریں گے۔
پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ورثاکی رضامندی کے بعد قندیل بلوچ کی لاش کو اتوار کی صبح اُن کے آبائی گاؤں روانہ کردی جائے گی۔
ادھر آئی جی پنجاب کی ترجمان نبیلہ غضنفر نے نامہ نگار صبا اعتزاز کو بتایا کہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا نے کیس کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر پہلو سے اس معاملے کی تفتیش کی جا رہی ہے ہے اور مکمل تفتیش کے بعد فیصلہ کیا جائے گا کہ یہ غیرت کے نام پر قتل ہے یا پیسوں کے تنازع کی وجہ سے قندیل کو قتل کیا گیا۔
پولیس کی ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ مقتولہ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق قندیل بلوچ کی موت گلا گھٹنے سے نہیں بلکہ ان کی ناک اور منہ بند کر کے سانس روکے جانے کی وجہ سے ہوئی ہے ۔
اس سے قبل آر پی او ملتان سلطان اعظم تیموری نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو بتایا تھا کہ قندیل کی موت دم گھٹنے سے ہوئی اور ان کے گلے پر تشدد کے نشانات بھی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم وسیم ڈیرہ غازی خان میں موبائل فونز کی دکان چلاتا ہے اور گذشتہ شب ہی اپنے والدین سے ملاقات کے لیے ملتان آیا تھا۔
تاحال اس قتل کی وجہ سامنے نہیں آ سکی ہے۔ تاہم سلطان اعظم تیموری کے مطابق ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ قندیل بلوچ کی مفتی عبدالقوی کے ساتھ تصاویر سامنے آنے کے بعد ڈیرہ غازی خان میں ملزم وسیم کو لوگ طعنے دیتے تھے۔
خیال رہے کہ قندیل بلوچ کی جانب سے چند روز قبل وفاقی اور صوبائی وزارتِ داخلہ کے حکام کو درخواست دی گئی تھی کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور انھیں سکیورٹی فراہم کی جائے۔ تاہم اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہQandeelQuebee
قندیل بلوچ کو پاکستانی سوشل میڈیا کا سپر سٹار سمجھا جاتا تھا اور جہاں فیس بک پر انھیں فالو کرنے والوں کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہے وہیں ان کا شمار پاکستان میں گوگل پر سب سے زیادہ تلاش کیے جانے والی دس شخصیات میں ہوتا تھا۔
حال ہی میں ایک نئی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں اپنی پرفارمنس پر وہ ایک بار پھر تنقید کی زد میں تھیں۔
اس سے قبل ماہِ رمضان میں ان کی رویت ہلال کمیٹی کے ایک رکن مفتی عبدالقوی کے ساتھ ’سیلفیز‘ بھی منظرِ عام پر آئی تھیں جن کی وجہ سے مفتی عبدالقوی کو کمیٹی کی رکنیت سے بھی ہٹا دیا گیا تھا۔
کچھ عرصہ قبل بی بی سی اردو کو دیے گئے انٹرویو میں قندیل نے کہا تھا کہ انھوں نے ابتدا میں شو بزنس میں جانے کی کوشش کی لیکن وہاں لڑکیوں کے استحصال کے واقعات کی وجہ سے مایوس ہو کر سوشل میڈیا کا انتخاب کیا۔
انھوں نے یہ بھی کہا تھا ان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے کہ لوگ ان کے بارے کیا کہتے ہیں، وہ اپنی آزادی کا خوب فائدہ اٹھا رہی ہیں۔
’میرے والدین نے مجھے آزادی دی اور میں مانتی ہوں کہ اس کا میں نے ناجائز استعمال کیا، لیکن اب میں ہاتھوں سے نکل چکی ہوں۔‘







