’فلم کے لیے فوج نے مالی مدد فراہم نہیں کی‘
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کی متنازع فلم ’مالک‘ کے مصنف اور ہدایت کار عاشر عظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان فوج نے انھیں ٹینکوں، سی ون تھرٹی اور چھاؤنی تک رسائی دی لیکن کوئی مالی مدد فراہم نہیں کی۔
بی بی سی اردو سے خصوصی بات کرتے ہوئے عاشر عظیم کا کہنا تھا کہ دھواں ڈرامے کے بعد انھوں نے مالک بنائی تھی، اس فلم میں انھیں فوجی افسران اور افغان جنگ دکھانی تھی، اس کے لیے چھاؤنی، سی ون تھری اور ٹینکوں کی فلم بندی کرنی تھی اور یہ سب کچھ فوج کے علاوہ تو نہیں مل سکتا۔
’آئی ایس پی آر ہر اس ایسے سکرپٹ کو جو فوج یا پاکستان کے نظریے کے خلاف نہ ہو سپورٹ کرتی ہے، میں ان کے پاس گیا اور بتایا کہ میری یہ کہانی پاکستان کی حمایت میں ہے، یہ کچھ میٹریل مجھے چاہیے۔‘
عاشر عظیم پاکستان ایئر فورس میں ایروناٹیکل انجینیئر بھی رہے ہیں، ان کے مطابق فوج کے تعاون کا طریقہ کار یہ ہے کہ جہاں پر ان کے ٹینک ہوں گےاور اس روز ان کی مشق ہو رہی ہوگی تو وہ وہاں تک رسائی دے دیں گے اس حد تک انھوں نے لاجسٹک سپورٹ دی تھی، تاہم کوئی مالی یا سکرپٹ میں مدد نہیں کی اور یہ خالص ان کا اپنا سکرپٹ ہے۔
عاشر عظیم نے مالک پر پابندی کی وجوہات سے لاعلمی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس حوالے سے عدالت سے رجوع کریں گے۔
’مالک کا تصور بہت سادہ ہے کہ پاکستان کا شہری پاکستان کا مالک ہے اور یہ وطن دوست فلم ہے، جس میں ہم شہری کو بتانا چاہتے ہیں کہ جمہوریت کا مطلب صرف ووٹ ڈالنا نہیں ہے، بلکہ ہر روز اپنے حقوق ادا کرنا اور ذمہ دارایاں نبھانا ہے۔‘

مالک فلم پر سیاست دانوں کی جانب سے بھی تنقید آئی ہے، سماجی ویٹ سائٹس پر کہا گیا ہے کہ اس فلم میں فوج کے علاوہ سیاست دانوں اور دیگر کو بدعنوان اور بدکردار دکھایا گیا ہے لیکن عاشر عظیم نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ اس فلم میں جاگیردارانہ سوچ کی عکاسی کی گئی اور یہ فلم 2016 سے شروع ہوتی ہے، اس عرصے میں جو جرائم ہو رہے ہیں اس سمیت ہر چیز ایڈریس کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’اس ملک کے عوام تین ہفتوں سے یہ فلم دیکھ رہے ہیں، ہاؤس فل شو جا رہے ہیں تو کیا ہم کچھ لوگوں کے کہنے پر بغیر کچھ کہہ سنیں یہ فیصلہ کر لیں کہ ان چار لوگوں کو پسند نہیں باقی لاکھوں کو پسند ہے تو اس پر پابندی عائد کی جائے۔‘
مالک پر پہلے سندھ حکومت کے سینسر بورڈ نے پابندی عائد کی، جس کے بعد وفاقی حکومتوں نے بھی ملک بھر میں اس کی نمائش پر پابندی عائد کر دی ہے۔ عاشر کے مطابق سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ سندھ کے سی ایم کا حوالہ نہ دیں باقی سی ایم تو کہیں بھی ہو سکتا ہے۔
’ہم نے سی ایم لفظ ہٹا دیا اور فلم منظور ہوگئی اور تین ہفتوں تک سینیما میں چلتی رہی، ایک روز ڈسٹری بیوٹر کا پیغام آیا کہ انھیں زبانی طور پر کہا گیا ہے کہ جہاں لفظ سی ایم ہے اس کو بھی ہٹا کر بیپ کر دیا جائے ہم نے اس کو بیپ کر دیا، لیکن اگلے دن حکومت نے دوبارہ پابندی عائد کر دی اور کہا کہ اس میں سی ایم لفظ تھا لیکن تین چار گھنٹے کے بعد یہ پابندی ہٹا دی گئی اور دوسرے ہی روز وفاقی حکومت نے پابندی عائد کر دی۔‘
اس فلم کی کہانی میں ریٹائرڈ فوجی افسران ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں اکٹھا ہوتے ہیں اور لوگوں کو انصاف تک رسائی میں مدد فراہم کرتے ہیں، عاشر عظیم نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ریاست ناکام ہو چکی ہے اور لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔
’فلم کے کردار کہیں بھی مداخلت کر رہے ہیں تو وہ اس بندے کو اٹھا کر پولیس کے پاس لیکر جاتے ہیں، وہ قانون ہاتھوں میں نہیں لے رہے وہ اس کو قانون کے حوالے کرتے ہیں تاکہ عدالت عدالت فیصلہ کرے۔‘
جب عاشر عظیم سے سوال کیا گیا کہ کراچی کی سڑکوں پر لوگ چور اور ڈاکوؤں کو پکڑ کر مار دیتے ہیں کیا اس فلم میں اس رجحان کی حمایت نہیں کی گئی تو ان کا کہنا تھا’آپ کی فلموں میں یہ دکھا رہے ہیں کہ روز لڑکیاں ڈانس کر رہی ہیں تو آپ اس میں کس تصور کو جسٹی فائی کر رہے ہیں؟ اس پر تو کوئی بات نہیں کرتا۔مسئلہ یہ ہے کہ یہ فلم حقیقت کے قریب ہے اس وجہ سے کچھ لوگوں کو سر درد ہوگیا ہے۔‘

مالک میں سی ایم کو اس کا اپنا ہی گارڈ گولی مار دیتا ہے، کچھ نقاد کا کہنا ہے کہ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کے کردار کی اس سے ستائش کی گئی ہے تاہم عاشر عظیم کا کہنا ہے کہ یہ سکرپٹ انھوں نے 12 سال قبل لکھا تھا اس وقت یہ واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔
’میرے فلم کے گارڈ کی ممتاز قادری سے کوئی مشاہبت نہیں ہے کیونکہ میرا گارڈ کسی منصوبہ بندی کے تحت سی ایم کو نہیں مارتا بلکہ اسی وقت اپنے رد عمل کا اظہار کرتا ہے اور اس کے بعد پولیس کے پاس چلا جاتا ہے۔‘
’میں کچھ بھی کروں اور رضاکارانہ طور پر پولیس سٹیشن جا کر گرفتاری دوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اس کو اعزاز نہیں دے رہا۔ لیکن کیا میری فلم پر پابندی کی یہ وجہ ہے۔‘







