اقبال بانو: ’محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے‘

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, ریحان فضل
- عہدہ, بی بی سی ہندی، نئی دہلی
1985 کا سال رہا ہو گا۔ جنرل ضیاء الحق کے پاکستان میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر فیض احمد فیض کی شاعری پیش کرنے پر غیر اعلانیہ پابندی لگی ہوئی تھی۔
انتظامیہ نے بہت مشکل سے فیض کی سالگرہ منانے کی اجازت دی تھی۔ لاہور کے الحمرا آڈيٹوريم میں اقبال بانو کو فیض کو گانا تھا۔
جنرل ضیا کے پاکستان میں نہ صرف فیض پر پابندی تھی بلکہ عورتوں کو ساڑھی پہننے کو بھی حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔ اقبال بانو اس دن ریشمی ساڑھی پہن کر آئی تھیں اور انتظامیہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انھوں نے ’ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے،‘ گایا اور پورے لاہور نے ان کے سر میں سر ملایا تھا۔
پاکستان کی نامور گلوکارہ ٹینا ثانی ان خوش قسمت لوگوں میں تھیں جو اس دن الحمرا ہال میں موجود تھیں۔
ٹینا بتاتی ہیں: ’لوگ اتنے زیادہ تھے کہ ہال کے دروازے کھول دیے گئے تھے۔ لوگوں کے مطالبے پر ہال کے باہر لاؤڈ سپيكروں کا انتظام کیا گیا تھا۔ جیسے ہی اقبال بانو نے ’ہم دیکھیں گے‘ گانا شروع کیا، لوگ کھڑے ہو گئے اور ان کے ساتھ گانے لگے۔ لوگوں کے جوش کو کم کرنے کے لیے وہاں موجود پولیس والوں نے ہال کی بتیاں بجھا دیں لیکن اقبال بانو نے تب بھی گانا جاری رکھا اور ان کے ساتھ ہزاروں کی بھیڑ نے بھی۔‘

وہ بتاتی ہیں: ’اس دن میں نے اپنی آنکھوں سے لوگوں کو مکمل طور پر پاگل ہوتے دیکھا۔ مجھے یاد نہیں کہ انھوں نے اسے کتنی دیر تک گایا لیکن اتنا ضرور یاد ہے کہ یہ گانا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ جب بھی وہ اسے ختم کرنے کی کوشش کرتیں لوگ ان کے ساتھ گانے لگتے۔ بعد میں یہ گانا ان کا ٹریڈ مارک بن گیا تھا۔ جہاں بھی وہ جاتیں، اس نغمے کی فرمائش سب سے پہلے ہوتی۔‘
ملی سزا اور لگی پابندی
اس گیت کو گانے کی سزا اقبال بانو کو یہ ملی کہ ان پر پاکستانی ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر پابندی لگا دی گئی۔ ان کے گانوں کی کیسٹیں بازار میں فروخت ہونے لگیں۔
سرکاری پابندی کے باوجود وہ لوگوں کے گھروں میں خاص محفلوں میں حصہ لیا کرتی تھیں اور کہا جاتا ہے کہ کئی بار صدر ضیا کے جنرل سادہ وردی میں آ کر اقبال بانو کے گانے سے لطف اٹھایا کرتے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
1935 میں دہلی میں پیدا ہونے والی اقبال بانو کا بچپن روہتک میں گزرا تھا۔ انھوں نے موسیقی دہلی گھرانے کے استاد چاند خان سے سیکھی تھی۔ 1952 میں 17 سال کی عمر میں وہ پاکستان چلی گئیں جہاں ان کی ایک زمیندار گھرانے میں شادی ہوئی۔ لیکن دہلی کا ساتھ انھوں نے کبھی نہیں چھوڑا۔
دہلی گھرانے کے خلیفہ اقبال احمد کہتے ہیں: ’ہم باجی کہہ کر بلاتے تھے ان کو۔ انھوں نے ہمارے نانا سے موسیقی سیکھی۔ جب بھی وہ ہندوستان آتی تھیں ہمارے یہاں ہی رکتی تھیں۔ جب بھی وہ شام کو اکتا جاتیں، مجھ سے کہتیں مجھے دہلی گھمانے لے چلو۔ میرے پاس ان دنوں ایک پرانی فیئٹ کار ہوا کرتی تھی اور مجھے انھیں اس پر بٹھانے میں شرم آیا کرتی تھیں لیکن وہ ہنس کر کہا کرتی تھیں، دل بڑا ہونا چاہیے۔‘
میٹھی اور سادہ
بیگم اختر کی طالبہ اور جانی مانی گلوکارہ شانتی ہیرا نند سے ان کی پہلی ملاقات لاہور میں ہوئی تھی۔ شانتی ہیرا ند کہتی ہیں: ’انڈیا ہیبيٹیٹ سینٹر پر ہم لوگ گھنٹوں موسیقی کے بارے میں باتیں کیا کرتے تھے۔ ان کو کوئی گھمنڈ نہیں تھا۔ اچھے سے تپاک سے ملتی تھیں۔ ان گائیکی میں ایک سہولیت سی تھی جیسی کہ ہونی چاہیے۔ بہت ہی میٹھی، بہت ہی سادہ اور محبت کرنے والی عورت تھیں۔‘
سنہ 1986 میں جب وہ دہلی آئی تھیں تو آل انڈیا ریڈیو کے شعبہ فارسی کی چیئرپرسن سلمیٰ حسین نے ریکارڈنگ کے بعد انھیں اپنے گھر کھانے پر بلایا تھا۔

سلمی کہتی ہیں: ’میں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیا آپ فارسی میں گا سکتی ہیں تو وہ بہت ہنسيں اور بولیں کہ میں فارسی اسی طرح گاتی ہوں جیسے اردو۔ انھوں نے امیر خسرو اور نظامی گزوي کے کلام گائے۔ جب میں نے ان کی غزلوں کا یہ پروگرام ایئر کیا تو میرے پاس افغانستان سے ہزاروں تعریف کے خط آئے۔ میں نے ریکارڈنگ کے بعد ان سے کہا تھا کہ مجھے بڑی خوشی ہوگی اگر میرے گھر آئیں اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں۔ وہ آئیں۔ انھوں نے اس دن ایسی یادگار شام ہمیں دی جسے ہم کبھی بھول نہیں پائیں گے۔ کھانے سے پہلے انھوں نے فیض کی ایک دعا پڑھی تھی: آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھي، ہم جنھیں رسم دعا یاد نہیں، جنھیں سوزِ محبت کے سوا كوئي بت، کوئی خدا یاد نہیں۔‘
بیگم اختر سے مقابلہ
موسیقی کے کچھ پنڈتوں کا خیال ہے کہ اقبال بانو اور بیگم اختر کے گانے میں کافی مماثلت ہے۔
شانتی ہيراند کہتی ہیں: ’اقبال بانو بیگم اختر کو بہت پسند کرتی تھیں. غزلوں کی ادائیگی، اسے کہاں توڑنا چاہیے، کم سے کم سازوں کا استعمال، یہ فن بیگم اختر کے بعد کسی میں تھا تو اقبال بانو میں تھا، وہ خیال سیکھے ہوئے تھیں اور اسی انداز میں گاتی تھیں۔‘

،تصویر کا ذریعہ
’ہم دیکھیں گے‘ کے بعد جو غزل اقبال بانو کی پہچان بنی وہ تھی فیض کی ’دشتِ تنہائی۔‘ اس کو فیض نے لکھا ضرور تھا لیکن اس کی روح کو نکھارا اقبال بانو نے۔
فیض کو امر بنا دیا
یوں تو فیض احمد فیض کو کئی گلوکاروں نے گایا ہے لیکن ان کی غزلوں کو لازوال کرنے کا کریڈٹ جتنا اقبال بانو کو جاتا ہے اتنا شاید کسی کو بھی نہیں۔
فیض کی بیٹی سلیمہ ہاشمی کہتی ہیں: ’وہ اکثر ہمارے گھر میں گایا کرتی تھیں۔ انھوں نے پہلی بار 1981 میں فیض کو اس وقت گانا شروع کیا تھا جب وہ بیروت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ہمارے خاندان کے لوگوں کے دلوں اور دماغ میں ان کے لیے ہمیشہ ایک خاص جگہ رہے گی۔‘
اقبال بانو جب سٹیج پر آتی تھیں اور خاص انداز میں گانا شروع کرتی تھیں تو دنیا جیسے رک سی جایا کرتی تھی۔ ان کو اس دنیا سے گئے پانچ سال ہونے کو آئے ہیں لیکن ان کی موسیقی کلاسیک ہے۔
فیض احمد فیض کا ایک شعر یاد آتا ہے: ويراں ہے ميكدہ، خم و ساغر اداس ہیں / تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے۔







