بالی وڈ میں عدم برداشت جیسی کوئی چیز نہیں: کاجول

کاجول سنیچرکو جے پور میں اشون سنگھی کی کتاب ’سیالکوٹ ساگا‘ کے رسم اجرا کے لیے پہنچی تھیں
،تصویر کا کیپشنکاجول سنیچرکو جے پور میں اشون سنگھی کی کتاب ’سیالکوٹ ساگا‘ کے رسم اجرا کے لیے پہنچی تھیں
    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

بھارت کے گلابی شہر جے پور میں جاری ادبی میلے میں بھی ’عدم رواداری‘ پر جاری تنازع کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔

جمعرات 21 جنوری سنہ 2016 کو شروع ہونے والے پانچ روزہ جے پور ادبی میلے میں معروف فلم ساز اور ہدایت کار کرن جوہر نے ’عدم رواداری‘ پر بات کی تھی اور ’اظہار خیال کی آزادی کو دنیا کے سب سے بڑے مذاق‘ سے تعبیر کیا تھا وہیں اداکارہ کاجول نے بہ انداز ديگر بات کی ہے۔

سنیچر کو کاجول جے پور میں اشون سنگھی کی کتاب ’سیالکوٹ ساگا‘ کے رسم اجرا کے لیے پہنچی تھیں۔

ان سے جب عدم رواداری پر سوال کیا گیا تو انھوں نے پہلے تو اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی اور پھر سہل ممتنع سے کام لیتے ہوئے کہا: ’بالی وڈ میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہماری انڈسٹری ہمیشہ ان چیزوں کی عکاسی کرتی رہے گی جو ہمارے سماج میں ہیں۔ یہ چلتی رہے گی اور اس میں سب کا استقبال ہے۔ یہاں کوئی خط تقسیم نہیں، نہ ذات پات کی تفریق ہے نہ رنگ و نسل کی اور نہ ہی عدم روا داری۔‘

کرن جوہر نے کہا تھا میں ایک فلم ساز ہوں اور میں ہر سطح پر خود کو بندھا ہوا پاتا ہوں
،تصویر کا کیپشنکرن جوہر نے کہا تھا میں ایک فلم ساز ہوں اور میں ہر سطح پر خود کو بندھا ہوا پاتا ہوں

اس سے قبل کرن جوہر نے کہا تھا: ’جمہوریت دوسرا سب سے بڑا مذاق ہے۔ کہاں ہے اظہار رائے کی آزادی؟ میں فلم ساز ہوں اور میں ہر سطح پر خود کو بندھا ہوا پاتا ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی قانونی نوٹس میرا انتظار کر رہا ہے۔‘

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’قانون جب تک الماری میں ہیں تب تک ٹھیک ہیں۔ ہمارے ملک میں قانون ایسے ہیں کہ اگر باہر آ گئے تو 377 بار انھیں ٹارچر کیا جائے گا۔‘

اس سے قبل شاہ رخ خان اور ‏عامر خان کو بھارت میں عدم رواداری میں اضافے والے بیانات پر سخت تنقید کا سامنا رہا تھا یہاں تک کہ اداکار انوپم کھیر نے دہلی میں اسے کے خلاف ریلی نکالی تھی۔

اس سے قبل دسمبر میں فلم دل والے کے ٹریلر کی ریلیز کے موقعے پر سپر سٹار شاہ رخ خان نے ’عدم رواداری‘ کے معاملے پر پوچھے جانے والے سوالات پر خاموشی اختیار کر لی جبکہ ان کی حمایت میں اداکارہ کاجول سامنے آئی تھیں۔

کاجول نے دسمبر میں شاہ رخ کی حمایت میں مورچہ سنبھال لیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC

،تصویر کا کیپشنکاجول نے دسمبر میں شاہ رخ کی حمایت میں مورچہ سنبھال لیا تھا

شاہ رخ کی خاموشی کے بعد کاجول نے کہا:’آج ہم غیر روادار ہیں، مجھ سے پوچھیے جو پوچھنا ہے۔ آپ کی باتوں کا میں بہتر جواب دوں گی۔‘

کاجول کے سُر میں سُر ملاتے ہوئے اداکار ورون دھون نے کہا: ’اس بات پر سوال کرنے کے لیے یہ جگہ مناسب نہیں ہے۔ ہم یہاں فلم کے بارے میں بات کرنے آئے ہیں اور آپ اپنے سوالات بھی وہیں تک محدود رکھیں۔‘

بہر حال جے پور میں کاجول نے کتابوں سے اپنی محبت کا زیادہ ذکر کیا اور اس بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ان کا شادی کے عہد میں کتابیں بہت اہم ہیں۔

ان کے مطابق انھوں نے اداکار اجے دیوگن سے شادی اسی شرط پر کی تھی کہ وہ ان کے لیے ہالی وڈ فلم ’بیوٹی اینڈ دا بیسٹ‘ میں دکھائے جانے والے کتب خانے کے جیسا کتب خانہ ان کے لیے بنائیں۔

شاہ رخ اور عامر خان نے عدم رواداری کی بات کہی جبکہ انوپم کھیر اس کے خلاف میدان میں اتر آئے

،تصویر کا ذریعہbeena

،تصویر کا کیپشنشاہ رخ اور عامر خان نے عدم رواداری کی بات کہی جبکہ انوپم کھیر اس کے خلاف میدان میں اتر آئے

انھوں نے کہا: ’میں نے اپنے شوہر کو کہا کہ میں اسی وقت آپ سے شادی کروں گی جب آپ مجھے بیوٹی اینڈ دا بیسٹ جیسی ایک لائبریری دیں۔ اور یہ ہماری محبت کی شرط تھی۔‘

انھوں نے کتاب کی لانچ کے دوران یہ بھی بتایا کہ ’ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اپنی ماں کے گھر کتابیں نہ دیکھیں ہوں۔‘ ان کی ماں اور اداکارہ تنوجا بھی سامعین میں موجود تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے سونے کے کمرے 400 کتابوں پر مبنی لائبریری تھی۔ انھوں نے کہا: ’میرے گھر میں بھی لائبریری ہے، بلکہ تین لائبریریاں ہیں۔‘