’اپنے قلم سے معاشرے میں ناانصافی کا مقابلہ‘

 اخلاق احمد جو سوات میں گرلز ڈگری کاج سیدو شریف کی پرنسپل بھی ہیں
،تصویر کا کیپشن اخلاق احمد جو سوات میں گرلز ڈگری کاج سیدو شریف کی پرنسپل بھی ہیں
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, سوات

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کی وادی سوات میں ایک خاتون اپنی شاعری کے ذریعے معاشرے میں ناانصافی کے خلاف جدوجہد کر رہی ہیں کیونکہ ان کے نزدیک ناانصافی ہی دہشت گردی، کرپشن اور جہالت سمیت دیگر برائیوں کی جڑ ہے۔

سوات کی طلعت اخلاق احمد نہ صرف معروف شاعرہ ہیں بلکہ افسانہ نگار بھی ہیں اور ان کی چار کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

انھیں 2007 میں اپنی پہلی کتاب ’گم شدہ سر‘ پر پروین شاکر ایوارڈ سے نوازاگیا تھا۔

طلعت اخلاق احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ شاعر اور ادیب کبھی بھی اپنے معاشرے سے الگ نہیں رہ سکتے اور ان کی توجہ بھی معاشرے پر ہے۔

طلعت اخلاق احمد کو 2007 میں اپنی پہلی کتاب ’گم شدہ سر‘ پر پروین شاکر ایوارڈ سے نوازاگیا
،تصویر کا کیپشنطلعت اخلاق احمد کو 2007 میں اپنی پہلی کتاب ’گم شدہ سر‘ پر پروین شاکر ایوارڈ سے نوازاگیا

’اگر چہ ہمارے معاشرے میں سب سے بڑی چیز ناانصافی ہے اور میں اپنے قلم سے ناانصافی کا مقابلہ کر رہی ہوں کیونکہ ناانصافی ہی دہشت گردی، کرپشن، جہالت سمیت ہر برائی کی جڑ ہے اور یہی میری شاعری کا موضوع رہا ہے۔‘

سوات میں طالبان کے دور کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’دہشت گردی نے جہاں ہر چیز کو متاثر کیا ہے۔ سوات کا قدرتی حسن متاثر ہوا، جنگ کی وجہ سے جنگلات تباہ ہوئے، غربت بڑھ گئی۔ افراتفری کے باعث ناانصافی اور خود غرضی کو فروغ ملا اور سب سے اہم یہ کہ لوگوں کے مزاج تبدیل ہوئے اور جہاں قوم کے مـزاج تبدیل ہوئے وہاں شا عری میں بھی تبدیلی آئی۔‘

سوات کے مقامی لوگ طلعت اخلاق احمد کی ناانصافی کے خلاف اس جدوجہد کو نہ صرف قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ ان کی اس جرات کو خراج تحسین بھی پیش کرتے ہیں۔