مالدیپ کے نائب صدر’بم حملہ سازش‘ کے الزام میں گرفتار

،تصویر کا ذریعہAFP

مالدیپ میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے نائب صدر کو گذشتہ ماہ صدر عبداللہ یامین کو قتل کرنے کے منصوبے میں ملوث ہونے کے شک میں گرفتار کیا گیا ہے۔

مالدیپ کے وزیر داخلہ عمر نصیر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ’احمد ادیب کو حراست میں لیا گیا ہے اور ان پر سنگین بغاوت کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔‘

حکام پہلے ہی صدر عبداللہ یامین کی کشتی پر ہونے والے دھماکے کو قاتلانہ حملہ قرار دے چکے ہیں اور تحقیقات میں دو فوجی اہلکاروں کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

نائب صدر کی گرفتاری کے بعد کسی ممکنہ درعمل کے پیش نظر دارالحکومت مالی میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق سنیچر کو شہر کی تقریباً ہر گلی میں گاڑیوں پر سوار پولیس اہلکاروں اور فوجیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

سنیچر کو نائب صدر کے علاوہ ان کی سکیورٹی ٹیم کے سابق رکن سمیت تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

28 ستمبر کو ہونے والے دھماکے میں صدر یامین تو بال بال بچے تھے تاہم ان کی اہلیہ سمیت تین افراد زخمی ہو گئے تھے۔

 28 ستمبر کو ہونے والے دھماکے میں صدر یامین تو بال بال بچے تھے تاہم ان کی اہلیہ سمیت تین افراد زخمی ہو گئے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن 28 ستمبر کو ہونے والے دھماکے میں صدر یامین تو بال بال بچے تھے تاہم ان کی اہلیہ سمیت تین افراد زخمی ہو گئے تھے

اس واقعے کے بعد حکام نے ملک میں سیاسی بے چینی اور دھماکے میں کسی تعلق کے امکان کو مسترد کیا تھا تاہم رواں ماہ کے شروع میں ایوانِ صدر کے وزیر محمد حسین شریف نے اس قاتلانہ حملہ قرار دیا تھا۔

’تکنیکی خرابی کا اندازہ درست نہیں اور امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے علاوہ، سعودی، آسٹریلوی اور سری لنکن تحقیقاتی ٹیموں نے بھی انھیں بتایا ہے کہ اس بات کے پختہ ثبوت موجود ہیں کہ یہ صدر کی جان لینے کی کوشش تھی۔‘

خیال رہے کہ یہ دھماکہ اس وقت ہوا تھا جب صدر یامین حج کی ادائیگی کے بعد سعودی عرب سے واپسی پر مالے کے قریب ایک جزیرے پر واقع ہوائی اڈے سے دارالحکومت جا رہے تھے۔

خاتون اوّل فاطمہ ابراہیم کے علاوہ صدر یامین کی حفاظت پر مامور ایک اہلکار اور محمد شریف کے عملے کا ایک رکن اس واقعے میں زخمی ہوئے تھے۔

59 سالہ عبداللہ یامین 2013 میں مالدیپ کے صدر بنے تھے اور رواں برس مارچ میں ان کے پیشرو سابق صدر محمد نشید کو اقتدار کے دوران ایک جج کی گرفتاری پر متنازع مقدمے کے بعد 13 سال قید کی سزا سنائی گئی۔