ہلا گلا کےعلاوہ کچھ بھی نہیں!

،تصویر کا ذریعہHulla Gulla
- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی فلم ’ہلا گلا‘ کم بجٹ کی ایک ایسی مزاحیہ فلم ہے جوشاید آپ کو نوّے کی دہائی کا پاکستانی سینما یاد دلا دے جب پنجابی سینما کے زیرِاثر اردو فلمیں بنائی جاتی تھیں۔
یہ فلم دو نوجوان لڑکوں کی زندگی کی کہانی ہے۔ ایک لڑکا ساحل (عاصم محمود) ہے جو ایک ڈان گولڈن بھائی (جاوید شیخ) کا بیٹاہے اور وہ اپنےوالد کے کالےدھندے سے بیزار ہو کرگھر سے بھاگ کر ماموں کے پاس چلا جاتاہے۔
دوسرا لڑکا اداس (منیب بٹ) ہے جو بیک وقت دو شادیاں کر کےاب بُھگت رہا ہے کیوں کہ یہ بات اس کی دونوں بیویوں کو نہیں معلوم۔
ساحِل کو بعد میں اداس کی بہن مسکراہٹ (سدرہ بتول) سے پیار ہوجاتا ہے اور وہ اس سے شادی کرناچاہتاہے مگرساحل کے والد اس رشتے سے راضی نہیں ہوتے کیونکہ وہ اس کی شادی اپنے بھائی کی بیٹی سے کرواناچاہتے ہیں۔
ساحِل اور اداس کی ایک دوسرے سے چپقلش پھر دوستی، پھر اداس کی پریشانی میں ساتھ دینا ہی اس فلم کا پلاٹ ہے اور یہی اس فلم کی سب سے بڑی کمزوری بھی ہے۔
کہانی میں تسلسل کا فقدان ہے اورمکالموں میں جان نہیں۔ اگرچہ فلم سازی میں بہت محنت کی گئی ہے۔ کلرگریڈنگ بہت اعلیٰ ہے اور فلم کو کراچی کے ان مقامات پر فلمایا گیا ہے جہاں اس سے پہلے کم عکسبندی کی گئی ہوگی لیکن کمزور سکرپٹ نےفلم کو بےجان کر دیا۔
اس فلم کے ہدایت کار کامران اکبر خان نے بھی تسلیم کیا کہ سکرپٹ بہتر بنائی جا سکتی تھی۔ کئی جگہوں پر اس فلم کا پلاٹ کچھ فلموں سےمماثلت رکھتا ہے جیسے بالی وڈ کی فلم سینڈوچ یا تھیٹرڈراما ’یو اونلی میری ٹوائس‘۔
فلم میں اداکاروں کےملبوسات کے انتخاب میں بھی کافی بےاحتیاطی برتی گئی ہے جہاں تھوڑی سی توجہ سےگلیمر بڑھایا جاسکتا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس فلم میں جاوید شیخ اور اسمٰعیل تارا کے علاوہ تقریباً تمام ہی اداکار نئے ہیں اور ان کے کردار بھی مختصر ہی ہیں۔ کسی بھی ایسی فلم کی طرح جس میں کئی اداکار ہوں کسی کو بھی اپنی اداکاری دکھانے کاموقع کم ہی ملتا ہے مگر کئی مرتبہ مکالموں کی ادائیگی میں تھیٹر کا اثر نظر آیا۔
اس فلم کی اچھی بات اس کےگانے اور اُن کی عکسبندی ہے۔ اس فلم کا ایک گانا ’سرور دے‘ راحت فتح علی خان نے گایا ہے جو سدرہ بتول اور عاصم محمود پرفلمایاگیاہے۔
جبکہ اس فلم میں لٹکے جھٹکے سے بھر پور چارگانے ہیں، جنہیں آئٹم نمبرز کہا جاسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہHulla Gulla
فلم کے آغاز ہی میں گانا ’زیرو میٹر‘ ہے جس پر رَباب نے ہوش رُبا رقص پیش کیا۔ ہدایتکار کامران اکبر خان صرف اسی گانے کو آئٹم نمبر مانتے ہیں باقی کے بارے میں ان کاخیال ہے کہ وہ آئٹم نہیں ڈانس نمبرز ہیں۔
دیگرگانوں میں ٹائٹل سونگ ’ہلاّ گُلاّ‘ پر ریچل نےجبکہ ’ٹھمکا‘ پر ماہ نور نے اور ’عشق کملا‘ پر مریم نے اچھا رقص پیش کیا اور اگر تقابل کیا جائے تو حال ہی میں ریلیز ہونے والی پاکستانی فلموں کی نامور اداکاراؤں سے ان چاروں کا رقص بہت بہتر تھا۔
ہدایتکار کامران اکبرخان کے مطابق انہوں نے سب سے زیادہ توجہ ہی موسیقی اور گانوں پر دی ہے اور یہی چیز فلم بینوں کو سینما کھینچ کر لائےگی۔
کامران اکبرخان کے مطابق تقریباً پانچ کروڑ کی لاگت سے تیار کی گئی یہ فلم صرف 42 دنوں کی قلیل مدت میں فلمائی گئی ہے جس میں بیرون ملک بھی کچھ گانوں کی شوٹنگ شامل ہے۔
اس بارے میں اس فلم کے ہدایتکار کا کہنا ہے کہ انھوں نے نئے چہروں کو لے کر ایک تجربہ کیاہے اور فلمی صنعت کو اسی کی تو ضرورت ہے اگرچہ اس وجہ سے انہیں سپانسرز بھی نہیں ملے۔
ان کاکہنا تھا کہ ٹی وی کے معروف اداکاروں کو لے کر فلم کو سپانسرز کے پیسوں سے بنانے سے بہتر ہے کہ فلمی دنیامیں نئے چہرے لیے جائیں تاکہ صنعت ترقی کرے۔
ہَلاّ گُلاّ عید الاضحیٰ کے دن سے ملک بھر کے سینما گھروں میں شائقین کی منتظر ہوگی۔ اس فلم کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ اسے سرکٹ کے سینماؤں میں تومقبولیت مِل جائےگی مگر شہری علاقوں کے ملٹی پلیکسز میں یہ مشکلات کا شکار ہوگی ۔







