’شاہ‘: پاکستان کے ایک گمنام ہیرو کی کہانی

- مصنف, حسن کاظمی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی فلم ’شاہ‘ کہانی ہے لیاری کی گلیوں سےاٹھ کر باکسنگ کی دنیا میں نام بنانے والے باکسر سید حسین شاہ کی جو آج بھی انفرادی مقابلوں میں پاکستان کے لیے اولمپکس میں تمغہ جیتنے والے واحد کھلاڑی ہیں۔
حسین شاہ کا بچپن کراچی کے علاقے لیاری کی گلیوں میں بھوک مٹانے کی کوشش میں گزرا اور فلم یہاں سے ہی شروع ہو کر ان کے ایشین چیمپیئن بننے، اولمپکس میں کانسی کا تمغہ لانے اور پھر پاکستان چھوڑنے کے حالات تک کا مکمل احاطہ کرتی ہے۔
حقیقت پر مبنی اس فلم میں دیکھایا گیا ہے کہ کیسے بچپن میں جب وہ مزدوری کرتے تھے اور فُٹ پاتھ پر سوتے تھے اور پھر ان کا باکسنگ کلب میں جانا اور وہاں سےٍ آگے کاسفر۔
فلم میں حسین شاہ کا کردار عدنان سرور نے ادا کیا ہے جو اس فلم کے ہدایتکار اور مصنف بھی ہیں۔ عدنان نے فلم میں حسین شاہ کے اردو بولنے کے انداز کو بہت خوبی سے نبھایا ہے جبکہ گلاب چانڈیو نے حسین شاہ کے کریم چاچا کا کردار بھی بخوبی ادا کیا ہے۔
عدنان سرورکےمطابق اس فلم کی کہانی سید حسین شاہ سے کیے گئے متعدد انٹرویوز کی روشنی میں تیار گئی ہے تاہم اس میں فلم میں ضرورت کے حساب سے کچھ رد و بدل کیا گیا ہے اور کچھ کردار شامل بھی کیےگئے ہیں۔
فلم میں حسین شاہ کا کلکتہ میں ہونے والےسیف گیمز میں وہ مقابلہ جہاں انھوں نے بھارتی باکسر کو فائنل میں ہرا کر سونے کا تمغہ جیتا تھا، تفصیل سے دکھایا گیا ہے جبکہ باقی مقابلوں کی چند جھلکیاں شامل کی گئی ہیں۔
اس فلم کےموضوع کے اعتبار سے اسے عُمدگی سے فلمایا گیا ہے اور کئی مقامات پر جذباتی مناظر کی بہترین عکاس بندی کی گئی ہے۔

،تصویر کا ذریعہAry Films
خاص کر وہ لمحہ بہت غمگین محسوس ہوا جب 1992 میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے ورلڈ کپ جیتنے پر وزیرِاعظم کی جانب سے بیس بیس لاکھ کے نقد انعام کی خبر حسین شاہ ٹی وی پر دیکھتے ہیں اور اس وقت ان کے پاس چند روپے بھی نہیں ہوتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فلم میں باکسنگ رنگ میں ہونے والے مقابلے اچھے انداز میں فلمائے گئے ہیں تاہم اس کے ساتھ ساتھ اس فلم میں حسین شاہ کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کو بھی خصوصی طور پر دکھایا گیا ہے جہاں تمام تر کامیابیوں کے باوجود انھیں پیسوں کے لیے در در بھٹکنا پڑا، یہاں تک کہ انھیں انعام میں ملنے والی زمین پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔
تاہم فلم کا آغاز اتنا متاثر کُن نہیں تھا جب ایک لندن سے آئی ہوئی خاتون صحافی حسین شاہ کی زندگی پر رپورٹ کرنا چاہتی ہے اور اسی جِدّوجہد میں وہ ایک شخص کے پاس پہنچتی ہے جو اسے حسین شاہ کی کہانی سناتا ہے تاہم وہیں ایسے سین بھی ہیں جہاں حسین شاہ کا کردار پی ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے اپنی کہانی سنارہا ہے۔
محسوس ہوا کہ خاتون کی ضرورت تھی نہیں اور اس کے بغیر بھی کام چل سکتا تھا۔
اس طرح کی فلمیں سپانسرشپ کے بغیر نہیں بنائی جا سکتیں، اس لیے فلم میں اس کے سپانسرز بینک الفلاح اور پیپسی کئی مرتبہ نظر آئے جسے عدنان سرور کی مجبوری سمجھ کر معاف کیا جاسکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہAry Films
اس فلم کے کراچی میں ہونے والے پریمیئر میں خود سید حسین شاہ بھی موجود تھے جو اب جاپان میں رہتے ہیں۔
اس موقع پر انھوں نےکہا کہ ان کے دو بیٹے ہیں وہ جوڈو کراٹے میں پاکستان کا نام روشن کر سکتے ہیں مگر وہ صرف ایک ہی بیٹےکی تربیت کا خرچہ اٹھانے کے قابل ہیں، اس لیےانھوں نےعوام اورسپانسرز سے درخواست کی کہ وہ ان کی مدد کریں۔ وہ اولمپکس میں کانسی کا تمغہ لائے تھے جبکہ انھیں امید ہے کہ ان کا بیٹا سونے کا تمغہ لائےگا۔
فلم کے ڈائریکٹر عدنان سرور نے کہا کہ اس موقعے پر ہمیں اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ جو سلوک سید حسین شاہ کے ساتھ روا رکھا گیا ہے ایسا آئندہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔
صرف ڈیڑھ کروڑ کی لاگت سے تیار کی جانے والی یہ فلم یومِ آزادی کے موقعے پر ریلیز کی گئی ہے۔
یہ فلم ایک گمنام ہیرو کو جو کئی سال تک باکسنگ میں ایشین چیمپیئن بھی رہا، خراج تحسین پیش کرنےکی اچھی کوشش ہے اور چند فنی خرابیوں کو چھوڑ کر سینیما میں دیکھنے کا اچھا تجربہ ہے۔







