پشتون ثقافت کے تحفظ کی اپیل

 سیمینار کے شرکاء کا یہ موقف تھا کہ پشتو تمام پشتونوں کا اہم ترین ورثہ اور پشتون قوم کا سب سے بڑا اثاثہ ہے

،تصویر کا ذریعہJamal Tarakai

،تصویر کا کیپشن سیمینار کے شرکاء کا یہ موقف تھا کہ پشتو تمام پشتونوں کا اہم ترین ورثہ اور پشتون قوم کا سب سے بڑا اثاثہ ہے
    • مصنف, محمد کاظم
    • عہدہ, بی بی سی، کوئٹہ

کوئٹہ میں عالمی پشتو سیمنار کے شرکا نے حکومت سمیت عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ پشون خطے میں دہشت گردی کی وجہ سے تباہ ہونے والے تعلیمی اداروں کی ازسر نو جلد سے جلد تعمیر کی جائے۔

یہ اپیل پشتو اکیڈمی کوئٹہ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے سہ روزہ عالمی سیمنار کے اختتام پر ایک اعلامیے میں کی گئی۔ یہ سیمنار ہفتے کے روز کوئٹہ کے ایک مقامی ہوٹل میں شروع ہوا تھا جس کا موضوع پشتو زبان، عالم گیریت، مشکلات اور امکانات تھا۔

سیمنار میں پشتون ادیبوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شر کاء میں سے بعض کا تعلق افغانستان، امریکہ ، جرمنی اور کینیڈا سے بھی تھا۔

سیمنار کی آٹھ نشستوں کے دوران پشتو ادب اور دیگر امور پر غور غوض کے علاوہ متعدد مقالے بھی پیش کیے گئے۔

اس سیمینارسے وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبد المالک بلوچ ، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی اور عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما افراسیاب خٹک نے بھی خطاب کیا ۔

سیمینار کے اختتام پر جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق سیمینار کے شرکاء کا یہ موقف تھا کہ پشتو تمام پشتونوں کا اہم ترین ورثہ اور پشتون قوم کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔

سیمینار کے شرکا نے کہا کہ پشتون ایک امن پسند قوم ہے ۔ پشتون علاقوں میں درآمد شدہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے لازمی ہے کہ تمام دہشت گردوں کو یہاں سے نکال دیا جائے۔

یہ مطالبہ کیا گیا کہ ساری دنیا میں ہر سال 23ستمبر کو پشتون ثقافت کے دن کے طور پر منایا جائے اور پشتون علاقوں میں سرکاری، پرائیویٹ، تعلیمی ادارے مادری زبانوں میں تعلیم دیں۔

قرارداد میں ساری دنیا میں تحقیقی اداروں کے درمیان رابطے کے لیے چار رکنی کمیٹی بنانے کا اعلان کیا گیا جو چھ ماہ میں ویب سائٹ بنائے گی تاکہ اس سے ساری دنیا فائدہ حاصل کرسکے ۔

سیمنار کے شرکا نے پشتون خطے کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کہ پشتو زبان اور ثقافت کیلئے کردار ادا کریں
،تصویر کا کیپشنسیمنار کے شرکا نے پشتون خطے کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کہ پشتو زبان اور ثقافت کیلئے کردار ادا کریں

کمیٹی کے اراکین میں پروفیسر ڈاکٹر نصیب اﷲ سیماب کوئٹہ، ڈاکٹر نصر اﷲ وزیر پشاور، عبدالغفور لیوال کابل اور احمد ولی اچکزئی جرمنی سے شامل ہوں گے۔

سیمنار کے شرکا نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ گوادر سے کاشغر تک مغربی تجارتی شاہراہ پر جلد سے جلد تعمیراتی کام شروع کیا جائے جو کہ اس خطے کی اقتصادی ترقی اور امن کی طرف ایک مفید اقدام ثابت ہوگا۔

سیمنار کے شرکا نے زور دیا کہ تمام پشتون پر مشترکہ طور پر یہ عہد کریں کہ وہ پشتون خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے کے پورے پورے مواقع دیں گے۔ حکومت سمیت عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ پشون خطہ میں دہشت گردی کی وجہ سے جو تعلیمی ادارے تباہ کردیے گئے ان کی جلد از جلد از سر نو تعمیر کی جائے۔

دیگر قراردادوں میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ پشتوسے وابستہ تمام ہنر مندوں، فنکاروں کو ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں مستقل ملازمتیں فراہم کی جائیں اور ان کی پرورش کیلئے ہر بڑے شہر میں فن کار اکیڈمیاں قائم کی جائیں۔

پشتون علاقوں کے ہر یونیورسٹی میں شعبہ پشتو قائم کیا جائے اور ہر کالج میں پشتو کے اساتذہ کی مستقل اسامیاں لائی جائیں۔ پشتون آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر کراچی میں پشتو ادبی تنظیموں کو دیگر صوبائی زبانوں جتنی گرانٹ دی جائے۔

شرکا نے مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان اور خیبر پشتونخوا سمیت قبائلی علاقوں کی یونیورسٹیوں میں پاکستان سٹڈی سینٹرز اور بلوچستان اسٹڈی سینٹرز کی طرح پشتو سٹڈی سینٹرز بھی قائم کئے جائیں۔

سیمنار کے شرکا نے پشتون خطے کی تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کہ پشتو زبان اور ثقافت کیلئے کردار ادا کریں۔