حافظ سعید پاکستان میں فینٹم کی نمائش رکوانے میں کامیاب

،تصویر کا ذریعہUTV
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ہائی کورٹ نے بالی وڈ کی فلم ’فینٹم‘ کے ملک میں نمائش کے خلاف حکمِ امتناع جاری کر دیا ہے۔
28 اگست کو بھارت اور دنیا بھر میں ریلیز ہونے والی یہ فلم ممبئی میں سنہ 2008 میں ہونے والی دہشت گردی کی سلسلہ وار کارروائیوں کے تناظر میں بنائی گئی ہے۔
پاکستانی مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید نے عدالت میں اس فلم کی پاکستان میں نمائش کی اجازت نہ دیے جانے کی درخواست دائر کی ہے۔
بی بی سی اردو کی نامہ نگار صبا اعتزاز کے مطابق درخواست گزار کے وکیل اے کے ڈوگر کے مطابق منگل کو لاہور ہائی کورٹ نے فلم کی نمائش روکنے کے لیے حکمِ امتناعی جاری کیا جس کی مدت ایک ماہ ہوگی۔
حافظ سعید کا کہنا ہے کہ اس فلم میں انھیں بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ان کے اور ان کی تنظیم کے خلاف پروپیگینڈا کیا گیا ہے اور اسی لیے پاکستان میں اسے نمائش کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔
بھارتی حکومت حافظ سعید کو نومبر 2008 میں ممبئی میں ہونے والے سلسلہ وار حملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہ
یہ فلم بھارتی ہدایتکار اور فلمساز کبیر خان نے بنائی ہے اور اداکار سیف علی خان اور قطرینہ کیف نے اس میں مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔
خیال رہے کہ ماضی میں کبیر خان کی ایک اور فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ پر پاکستان میں پابندی لگ چکی ہے تاہم حال ہی میں ان کی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی زبردست کامیابی حاصل کی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کبیر خان نے حافظ سعید کی درخواست پر اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ ان کی فلم ’فینٹم‘ کی پاکستان میں نمائش رکوانے کی درخواست دینے والوں کو خود اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔
سیف علی خان نے بھی پاکستان میں فلم پر پابندی لگنے کے امکانات پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں جانتا تھا کہ اس فلم پر پاکستان میں پابندی لگ سکتی ہے اور اس اپیل پر مجھے کوئی حیرت نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی پاکستان میں حساس مسائل یا پاکستان کے بارے میں بننے والی فلموں پابندی لگتی رہی ہے۔‘
تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ تھی کہ سینسر بورڈ پہلے ایک بار اس فلم کو دیکھ کر ہی اس پر پابندی لگانے یا نہ لگانے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔







