سرمائی اولمپکس کھیلوں کا نغمہ ’فروزن‘ کے گیت کی نقل؟

آسکر انعام یافتہ فلم فروزن سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی اینیمیٹڈ فیچر فلم ہے

،تصویر کا ذریعہDISNEY

،تصویر کا کیپشنآسکر انعام یافتہ فلم فروزن سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی اینیمیٹڈ فیچر فلم ہے

سمارٹ فون ہوں یا ہینڈ بیگ، نقلی اشیا کی تیاری چین میں ایک بڑی صنعت رہی ہے اور یہاں ٹریڈ مارک کا احترام زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

تاہم اب چین پر ایک ایسی چیز کی چوری کا الزام لگا ہے کہ جو اعلیٰ سطح پر ملک کی بدنامی کی وجہ بن سکتی ہے۔

یہ معاملہ ہے بیجنگ میں 2022 میں منعقد ہونے والے سرمائی کھیلوں کے نغمے کا جس کے بارے میں سامعین کا خیال ہے کہ یہ ڈزنی کی فلم ’فروزن‘ کے نغمے ’لیٹ اٹ گو‘ سے بہت حد تک ملتا جلتا ہے۔

بیجنگ کو سرمائی اولمپکس کی میزبانی دیے جانے کا اعلان جمعے کو کیا گیا تھا جس کے بعد یو ٹیوب پر اس کھیلوں کے چینی نغمے کا سینکڑوں تبصروں میں مذاق اڑایا گیا ہے۔

چین میں تو عوام کو یو ٹیوب تک رسائی نہیں اس لیے خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ تبصرے ہانگ کانگ، تائیوان اور ایشیا کے دیگر ممالک میں رہائش پذیر افراد نے کیے ہیں۔

بیجنگ کو سرمائی اولمپکس کی میزبانی دیے جانے کا اعلان جمعے کو کیا گیا تھا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبیجنگ کو سرمائی اولمپکس کی میزبانی دیے جانے کا اعلان جمعے کو کیا گیا تھا

یو ٹیوب پر زیڈ این 4807 نامی صارف کا کہنا تھا ’سرقہ، چوری اور نقل، چین صرف یہی کر سکتا ہے۔ آپ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہ چین ہے جہاں افسران سے لے کر عوام تک سرقہ، چوری اور نقل کا چلن ہے۔‘

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے چین کے کاروباری جریدے کائجنگ آن لائن کے حوالے سے کہا ہے کہ جریدے نے ان دونوں نغمات میں استعمال ہونے والے آلات کا تجزیہ کیا ہے جس سے پتہ چلا ہے کہ ان میں بہت مماثلت پائی جاتی ہے۔

بیجنگ اولمپکس آرگنائزنگ کمیٹی اور ڈزنی دونوں کی جانب سے اس معاملے پر بات کرنے کے لیے کوئی دستیاب نہیں ہو سکا۔

آسکر انعام یافتہ فلم فروزن سب سے زیادہ کاروبار کرنے والی اینیمیٹڈ فیچر فلم ہے اور اس نے دنیا بھر میں ایک ارب 30 کروڑ ڈالر کا کاروبار کیا تھا۔