’مغرب کے پروپیگنڈے‘ کے جواب میں ایرانی کامیڈی

،تصویر کا ذریعہAFP
ایران کے ایک غیر معروف فلمساز نے خود ہی ان مغربی فلموں کا جواب دینے کا بیڑا اٹھا لیا ہے جنہیں ایران مخالف یا اسلام مخالف کہا جاتا ہے۔
وہ ایک ایسی ایرانی فلم کی شوٹنگ میں مصروف ہیں جسے ’امریکہ مخالف اور یہودی مخالف‘ کہا جا رہا ہے۔
’دی فولش فلاسفر‘ یا ’بےوقوف فلسفی‘ نامی یہ کامیڈی فلم مغربی دنیا کے جانے مانے رہنماؤں، جہادیوں، میڈیا ٹائیکونز اور ہالی وڈ کے اداکاروں کے کرداروں پر مبنی ہے۔
فلم کے غیرمعروف ڈائریکٹر سعد قاری ماضی میں مغرب میں بننے والی اسلام مخالف فلموں کی کھلے عام مذمت کر چکے ہیں۔
قاری کی فلم وہ ذریعہ لگتی ہے جس کی مدد سے وہ مغرب کا مذاق اڑانا چاہتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ’مجھے امید ہے کہ میں جو یہ پہلا قدم اٹھا رہا ہوں اس کے بعد ایسی فلمیں بننی شروع ہو جائیں گی تاکہ آج کی نسل ہالی وڈ کے گلیمر کے اثر میں نہ آئے اور دین اور ملک کے بارے میں ان کی تبلیغ میں یقین نہ کریں۔‘
ڈائریکٹر کے مطابق فلم کی کہانی 9/11 کے حملے کے بعد کے واقعات سے شروع ہوتی ہے اور شدت پسند جہادی گروپ، دولتِ اسلامیہ کے ابھرنے پر ختم ہوتی ہے۔
اس کثیر جہتی پلاٹ میں کئی موضوعات کو چھوا جائے گا۔ مغرب کو نشانہ بنانے والی اس فلم میں ایران کی ’پاپ میوزک کی ملکہ‘ گوگوش اور متنازع ریپر شاہین نجفي جیسے ایران کے بیرون ملک آباد باغی فنکاروں پر تنقید کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تاہم فلم کی بنیادی کہانی مغربی رہنماؤں کے اردگرد ہی گھومتی ہے اور سابق امریکی صدر جارج بش کے عراق اور افغانستان کے ساتھ ایران پر بھی حملہ کرنے کے فیصلے پر مرکوز ہے۔
اگرچہ بعد میں بش کا کردار یہ خیال ترک کر دیتا ہے اور ایران کے ساتھ ’سافٹ وار فیئر‘ پر زور دیتا ہے۔
لفظ ’سافٹ وار فیئر‘ کا استعمال اکثر ایرانی حکومت مغرب کے خلاف اپنی مہم میں کرتی ہے۔
اس واقعاتی مزاح یا ’سچوئیشنل کامیڈی‘ میں ان مغربی فلموں کی بھی عکاسی ہے جنہیں ایران مخالف کہا جاتا ہے۔

ایرانی میڈیا اداروں کی خبروں کے مطابق مکین مشکل سے لے کر کرداروں کے انتخاب تک فلم کی منصوبہ بندی بہت احتیاط کے ساتھ بنائی گئی ہے۔
فلم کا سب سے جانا پہچانا نام کامیڈین محمود باسر ہیں، جن کی شکل سابق صدر محمود احمدی نژاد سے اتنی ملتی تھی کہ ان پر پابندی لگ گئی تھی۔
انہیں جارج بش کے کردار کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔
یہ فلم جلد ہی مکمل ہو جائے گی اور اسے اکتوبر میں تہران کے ریزسٹنس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں دکھایا جائے گا جو مغرب کی ’ثقافتی مخالفت‘ کو فروغ دینے کے لیے وقف ہے۔







