کان فیسٹیول میں سری لنکا اور ہولوکاسٹ پر مبنی فلموں کو اعزاز

،تصویر کا ذریعہReuters
فرانس میں دو ہفتے سے جاری کان فلم فیسٹیول میں فرانسیسی ہدایت کار جیکس اوڈیارڈ کی فلم ’دھیپین‘ کو اعلیٰ ترین ایوارڈ ’پام دی اور‘ سے نوازا گیا ہے۔
اس فلم میں خانہ جنگی میں مبتلا سری لنکا کے پناہ گزینوں کو دکھایا گیا ہے جو فرانس کے لیے نقل مکانی کرتے ہیں۔
امریکی فلم ساز جوئل اور ایتھن کوئن کی سربراہی والی جیوری کی ٹیم کے اس فیصلے نے سب کو ششدر کر دیا۔
دوسرا اہم ایوارڈ ’داگراں پری‘ ہولوکاسٹ پر مبنی ہنگری کے نئے ہدایتکار کے ڈرامے ’سن آف سول‘ کو ملا جس میں اوشوٹز گیس چیمبر کو پیش کیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ براعظم ابھی بھی اس کی خوفناک یادوں سے آزاد نہیں ہوا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty
آسکر کے بعد مقبول ترین فلم فیسٹیولز میں شامل اس کان فلم فیسٹیول میں بہترین اداکار کا ایوارڈ ونسنٹ لنڈن کو ملا جبکہ بہترین اداکارہ کا ایوارڈ مشترکہ طور پر رونی مارا اور ایمینوئل برکون کو دیا گيا۔
ونسنٹ لنڈن کو یہ ایوارڈ سٹیفن برائز کی فلم ’دا میزر آف اے مین‘ کے لیے دیا گيا۔
فلم ’اے پروفٹ اینڈ رسٹ اینڈ بون‘ نامی فلم کے خالق اوڈیارڈ نے کہا: ’کوئن برادران سے یہ ایوارڈ حاصل کرنا اسے انتہائی مخصوص بنا دیتا ہے۔ میں اس سے بہت متاثر ہوا اور اس وقت مجھے میرے والد یاد آ رہے ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جوئل کوئن نے کہا: ’یہ ناقدوں کی جیوری نہیں ہے بلکہ یہ فن کاروں کی جیوری ہے جو کسی فن کو دیکھ رہی ہے۔‘
یونان کے ہدایتکار یورگوس لینتھیموس کو فلم ’دا لوبسٹر‘ کے لیے جیوری ایوارڈ دیا گیا اس فلم فیسٹیول کا تیسرا اہم ایوارڈ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کامیڈی میں کولن فیرل اور ریچل ویئز نے اداکاری کی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
بہترین ہدایتکار کا ایوارڈ تائیوان کے ہو ہسیاؤ ہیئن کو مارشل آرٹ فلم ’دا اساسن‘ کے لیے دیا گیا۔ گذشتہ آٹھ برسوں میں یہ ان کی پہلی فلم ہے۔
بہترین سکرین پلے کا ایوارڈ مائیکل فرینکو کو کرونک کے لیے دیا گیا جبکہ کیمرا دی اور (بہترین پہلی فلم) کا ایوارڈ لا ٹئیرا وائی لا سومبرا کو دیا گیا۔
رونی مارا کو فلم ’کیرول‘ میں ان کے کردار کے لیے جبکہ برکوٹ کو ’مائی کنگ‘ میں ان کے کردار کے لیے مشترکہ طور پر بہترین اداکارہ کا ایوارڈ دیا گيا ۔
اس سال 19 فلمیں مقابلے میں تھیں لیکن ’میڈ میکس: فیوری روڈ‘ اور پکسر کی ’انسائڈ آوٹ‘ کو مقابلے سے ہٹا دیا گيا۔
یہ فیسٹیول اونچی ایڑی کی سینڈل کے لیے بھی تنازعات کا شکار رہا کیونکہ بہت سی خواتین کو ہائی ہل نہ پہننے کی وجہ سے اس میں شرکت نہ کرنے دیا گیا۔
فلم ساز ویلیرا رچٹر نے کہا کہ وہ ان میں شامل ہیں جنھیں سکریننگ میں شامل ہونے سے روکا گیا جبکہ منتظمین کا کہنا ہے کہ ہائی ہل ڈریس کوڈ میں شامل نہیں تھی۔








