بالی وڈ میں لڑکا ہندو، لڑکی مسلمان کیوں؟

- مصنف, آکار پٹیل
- عہدہ, سینیئر صحافی، نئی دہلی
’کیا بالی وڈ میں تینوں خانوں (شاہ رخ، سلمان اور عامر) کی کامیابی سے یہ اندازہ لگایا جائے کہ زیادہ تر ہندوستانی سیکیولر ہوتے ہیں جب تک کہ انھیں سیاسی طور پر بھڑكايا نہ جائے؟‘
یہ سوال ایک ویب سائٹ کے لیے ہفتہ وار براڈ كاسٹ کرتے وقت مجھ سے ایک خاتون نے کیا تھا۔ یہ ایسا سوال ہے میں نے جس کے بارے میں اکثر سوچا ہے، لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا۔
پاکستان میں بھی مجھ سے کچھ اسی قسم کے سوال کیے جاتے تھے، بطور خاص پنجاب میں، جہاں ہندو آبادی نسبتاً کم ہے۔
صحافی اور سیاست دان نجم سیٹھی نے ایک بار کہا تھا کہ بالی وڈ کی محبت کی کہانیوں میں اگر ہندو مسلم اینگل ہے تو بنیادی طور پر لڑکا ہندو ہوتا ہے اور لڑکی مسلمان۔ اس کی ایک مثال منی رتنم کی فلم ’بامبے‘ ہے۔
اگر مجھے درست طور پر یاد ہے تو سیٹھی یہ کہنا چاہتے تھے کہ ہندوستانی اس کی برعکس کہانیاں پسند نہیں کریں گے، یعنی مسلم لڑکا اور ہندو لڑکی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
کیا یہ صحیح ہے؟ میرا کہنا ہے نہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سچ ہو کہ بالی وڈ کے ہدایت کاروں اور مصنفین میں سے بعض ایسا سوچتے ہوں اور اس لیے اسی طرح سکرپٹ تیار کرتے ہیں، لیکن ہمیں سچائی کی جڑ میں جانے کی ضرورت ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ تینوں خانوں کی شادی یا محبت کا تعلق ہندو خواتین کے ساتھ ہے۔
کرینہ کپور سے شادی کرنے والے تھوڑے کم کامیاب سیف علی خان کو بھی اس میں شمار کر لیں تو اصل میں یہ چار خان ہو جائیں گے، اور عام طور پر ان کے مداحوں یا بالی وڈ کے ناظرین کو اُن کی شادیوں سے پریشانی نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہHOTURE
ہم اس مثال کو سکرین تک لے جا سکتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ مسلم لڑکے اور ہندو لڑکی کے درمیان غیر حقیقی رومانس سے ناظرین کو بہت کم فرق پڑتا ہے۔
اس مسئلے کا دوسرا پہلو بھی ہے اور اس کا تعلق بالی وڈ کی نوعیت اور ہمارے سٹار سسٹم سے ہے۔
بڑی پروڈکشن والی فلموں سمیت زیادہ تر ہندی فلموں میں کرداروں پر مرد ہیرو کی تصویر ہی غالب رہتی ہے۔
سلمان خان ہر کردار ایک ہی طریقے سے ادا کرتے ہیں اور اسے ان کا انداز مان لیا جاتا ہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ناظرین کردار کی طرف نہیں بلکہ شخصیت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
یہ مان لیا جاتا ہے کہ دہائیوں سے میڈیا میں کسی اداکار کی جیسی بھی شبیہ بنائی گئی ہے، وہ درست ہے۔

،تصویر کا ذریعہyash raj films
اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ جو کچھ بھی ہے اس کے لیے اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ لوگوں کو واقعی اس بات پر کوئی اعتراض نہیں کہ وہ سکرین پر ایک ہندو لڑکی کے ساتھ مسلمان لڑکے کا کردار ادا کر رہا ہے۔
بالی وڈ میں اس طرح کی باتیں گذشتہ زمانے کی لگتی ہیں جب دلیپ کمار جیسے مسلمان فنکاروں کو خود کو قابل قبول بنانے کے لیے ہندو نام رکھنا پڑا تھا۔
کیا یہ احتیاط درست ثابت ہوئی؟ بالی وڈ کے عظیم خانوں کے تجربے کو دیکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ایسا نہیں ہوا اور دنیا کے اس حصے میں کچھ دہائیوں کے اندر اندر سماج بدل نہیں جایا کرتا۔
1950 کی دہائی کے بالی وڈ ناظرین آج کے مقابلے یعنی چھ دہائیوں کے بعد بہت مختلف نہیں ہو سکتے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ بالی وڈ صرف ایک علامت ہے۔ بھارت میں دو مذہبی برادریوں کے درمیان تعلقات کی تاریخ بہت مسخ شدہ ہے۔ یہاں بہت زیادہ تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں اور پیش آتے رہے ہیں لیکن گذشتہ چند دہائیوں میں ان کی تعداد کم ہوئی ہے۔
ہمارے یہاں بعض جگہوں پر آس پاس کی آبادیوں میں خلیج ہوتی ہے۔ بطور خاص احمد آباد اور بڑودہ جیسے شہروں میں، جہاں ریاستی حکومت شورش زدہ علاقوں کے ایکٹ جیسے قوانین کے ذریعے اس علیحدگی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
لیکن کیا یہ سب برادریوں کے روشن خیال ہونے کو ظاہر کرتا ہے یا ہم اس وقت تک سیکیولر رہتے ہیں جب تک کہ ہمیں ماضی کے زخموں کو یاد نہیں کرایا جاتا؟

،تصویر کا ذریعہSAIRA BANO
میرا خیال ہے کہ تمام مذاہب کو ماننے والے ہندوستانی روادار ہوتے ہیں۔ سیکیولرزم ایک پیچیدہ لفظ ہے اور مجھے علم نہیں یہ اس مثال کا یہاں استعمال ہو سکتا ہے یا نہیں۔
رواداری ایسی چیز ہے جو برصغیر میں عام ہے۔
اس لیے میں سوال پوچھنے والی خاتون سے اتفاق کرتا ہوں کہ ہندوستانی قدرتی طور پر روادار یا سیکیولر ہوتے ہیں، جب تک کہ انھیں بھڑكايا نہ جائے۔
اس خیال سے مجھے کچھ سکون ملا ہے۔







