کمسن لڑکیوں کا ریپ، برطانوی گلوکار کو 16 سال قید

،تصویر کا ذریعہEPA
سابق برطانوی پاپ سٹار گیری گلٹر کو 1975 اور 1980 کے درمیان تین کمسن بچیوں کے ریپ کے جرم میں 16 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
گیری گلٹر کا اصل نام پال گاڈ ہے اور انھیں ریپ کرنے کی کوشش اور 13 سال سے کم عمر کی لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے الزامات میں سزا ہوئی ہے۔
سزا سناتے وقت جج الیسٹر میکریتھ کا کہنا تھا کہ انہیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملیں جن سے یہ معلوم ہو کہ گیری گلٹر نے کبھی بھی اپنی غلطی سدھارنے کی کوشش کی ہو۔
سزا سنائے جانے کے بعد 70 سالہ گیری گلٹر کے چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے اور فوراً ہی عدالت سے چلے گئے۔
جج نے گیری گلٹر کو بتایا کہ ان کا نشانہ بننے والی سبھی متاثرین کی زندگیوں پر ان کے رویے کے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
جج کا کہنا تھا ’تم نے ان سب لڑکیوں کی زندگیوں کو تباہ کیا ہے اور وہ بھی ناجائز طریقے سے صرف جنسی لطف اٹھا کر۔‘
جج نے یہ بھی کہا کہ جن معاملات میں انھوں نے اب سزا سنائی ہے اگر ان میں سے ایک معاملے کی اسی وقت سزا ہو جاتی تو شاید سزا کی مدت کم ہوتی۔
اس موقع پر وکیلِ صفائی سیلی بینیٹ جینکنز کیو سی نے عدالت کو بتایا کہ 2006 میں ویتنام میں دو کم سن لڑکیوں کے ساتھ جنسی زبردستی کرنے کے الزام میں جیل کاٹنے کے بعد گیری گلٹر کی میڈیا میں بے حد بدنامی ہوئی اور انہیں ایک شیطان کے طور پر پیش کیا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بدنامی کے ڈر سے وہ گذشتہ 10 سالوں سے انتہائی تنہائی کی زندگی پر مجبور ہیں اور اس ڈر سے لوگ کو ان کو دیکھیں اور ان کو بے عزت کریں وہ اپنی گلی میں چہل قدمی کے لیے بھی نہیں جاتے۔







