آسکر ایوارڈز کی تقریب میں سیاسی گفتگو

،تصویر کا ذریعہGetty
اس برس کے آسکر ایوارڈز میں شاید ایک بھی ایسا ایوارڈ نہیں تھا جو چونکا دینے والا ہو اور جس کی وجہ سے ان ایوارڈز کو یاد رکھا جائےگا۔
لیکن اس برس کی آسکر تقریب میں سیاسی مسائل پر کھل کر بات ہوئی اور یہی وجہ ہےکہ اس برس کے ایوارڈ بے حد اہمیت کے حامل ہیں۔
بعض ناقدین کا خیال ہے کہ اس سے قبل کبھی آسکرز کی تقریب سیاسی بحث کا مرکز نہیں رہی ہے۔
اور اس بات کا اندازہ اسی وقت ہوگیا تھا جب آسکرز کی تقریب کے میزبان نیل پیٹرک نے اپنے خطاب کے آغاز میں کہا ’آج ہم ہالی وڈ کے سب سے شاندار، سب سے ’وائٹسیٹ’ ( گورے) معاف کیجیےگا سب سے ’برائٹیسٹ’ یعنی اہل فنکاروں کو ایوارڈز سے نوازیں گے۔‘
آسکرز ایوارڈز سے متعلق تنازع اس وقت شروع ہوگیا تھا جب اداکاری کے زمرے میں جن 20 اداکاروں کو نامزد کیا گیا وہ سب کے سب سفید فام تھے۔
اور جب سونی پکچرز کے ای میل ہیک ہونے کے بعد یہ بات منظر عام پر آئی کہ خواتین ادکارائیں جیسے جینیفر لورینس اور ایمی ایڈمز کے ساتھی مرد ادکاروں کو ان سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے تو خواتین کی برابری کے حقوق کے مسئلہ پھر بحث کا مرکز بنا۔
اداکارہ پیٹریشیا ارکویٹ نے بہترین معاون اداکارہ کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں خواتین کو برابری کے حقوق دینے پر زور دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty
ان کا کہنا تھا ’اس ملک میں ہر شہری کے لیے برابری کے حقوق کی لڑائی لڑی گئی ہے خواہ وہ ایک بچے کو جنم دینے والی ماں یا ٹیکس ادا کرنے والا شہری۔اور اب ہماری باری ہے کہ ہم برابری کے حق کے لیے لڑیں اور امریکہ کی خواتین کو برابری کا حق دیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل فلم ’وائلڈ‘ کے لیے بہترین اداکارہ کے لیے نامزد ہونے والی ریز ویدرسپون نے ریڈ کارپٹ پر جاتے وقت اپنی مہم ’آسک ہر مور‘ کے بارے میں بات کی۔
اس مہم کا مقصد صحافیوں تک یہ پیغام پہنچانا ہے کہ وہ خواتین اداکاروں سے ان کے ملبوسات سے زیادہ ان کی اداکاری یا ان کے کام کے بارے میں سوالات پوچھیں۔
ان کا کہنا تھا ’اس بارے بے حد باصلاحیت اداکاراؤں کو نامزد کیا گیا ان سے ان کے بارے میں پوچھیں، ان کے کام کے بارے میں سوالات پوچھیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا وہ چاہتی ہیں کہ صحافی کچھ اس طرح کے سوالات پوچھیں ’آپ نے اب تک کون سا ایسا کردار کیا ہے جو ایک بہت بڑا چیلنج تھا یا پھرآپ اپنی کس کامیابی پر فخر کرتی ہیں۔‘
اس برس کی آسکر تقریب میں نسلی برابری کا مسئلہ ایک بار پھر اس وقت منظر عام پر آیا جب کامن اور جون لینجنڈ نے اس برس کی آسکر اعزاز یافتہ فلم ’سیلما‘ کا ایک نغمہ پیش کیا۔ اس فلم ميں مارٹن لوتھر کنگ کا کردار ادا کرنے والے اویلوو اس پرفارمنس کے دوران رو پڑے۔
آسکر اعزاز حاصل کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’ہم نے یہ نغمہ ایک ایسی فلمی کہانی کے لیے لکھا تھا جو 50 برس پہلے کے حالات پر مبنی تھی لیکن ’سیلما‘ آج کی کہانی ہے کیونکہ انصاف کے لیے جدوجہد آج بھی جاری ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ برابری کی لڑائی جاری ہے اور ’جب ہم برابری، انصاف اور آزادی کے بارے میں سوچتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ابھی بہت کام کرنا باقی ہے۔‘
اس کے علاوہ دماغی صحت کے مسئلے پر بھی بات ہوئی۔ ایلزائمر کے مریض کا کردار ادا کرنے والی اور بہترین ادکارہ کا اعزاز حاصل کرنے والی جولیان مُور نے کہا کہ ایلزائمر جیسی بیماری کا شکار افراد کے بارے میں بات ہونی چاہیے۔ ان لوگوں کو بھی ہماری توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ خودکشی کے مسئلے پر زیادہ سے زیادہ بیداری کی ضرورت پر دھیان دینے دیتے ہوئے دستاویزی فلم ’ کرائسس ہاٹ لائن‘ کی ہدایت کار نے اپنا آسکر اعزاز اپنے بیٹے کے نام کیا جس نے 15 سال کی عمر میں خودکشی کر لی تھی۔







