لالی! چار آنے دے نا

- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی سٹیشن کا ایک اور یادگار کھیل ’بدلتے قالب‘ تھا۔ ساحرہ کاظمی اس کی ڈائریکٹر تھیں۔ ساحرہ واقعی ایک بہترین ڈائریکٹر ہیں۔
مجھے یاد ہے کہ ڈرامہ کوئل میں وہ فل ٹرم میں تھیں اور کس محنت سے کام کیا کرتی تھیں، میں حیران ہوتی تھی کہ نو مہینے کی حاملہ عورت اتنے بڑے پیٹ کے ساتھ دس دفعہ سٹوڈیو کی سیڑ ھیاں کیسے چڑھ اور اتر سکتی تھی؟
بہرحال مجھے افسوس ہے کہ سائرہ نے بالکل ہی کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔
بدلتے قالب ایک عجیب و غریب کہانی تھی، میرا رول ایک عیار فقیرنی کا تھا۔
کہانی کچھ یوں تھی کہ ہما اکبر کوارٹروں میں رہنے والی اور کالج میں پڑھنے والی لڑکی ہے اور ساجد علی اسے پسند کرتا ہے اور ہمیشہ سائیکل پر اس کا پیچھا کرتا رہتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ کہانی لکھ کر نہیں سمجھائی جا سکتی۔
بہرحال ہما اکبر بس کے انتظار میں، بس سٹینڈ پر بس آ کر کھڑ ی ہوتی ہے اور وہیں پر ایک لمبا سا پھٹا پرانا کوٹ، بالوں میں راکھ اور دانت کالے کیے، میں ہر ایک سے کہتی پھرتی ہوں: ’لالی چار آنے دے نا‘۔
(پاکستانی روپیہ جنرل ایوب خان کے دور میں تبدیلی سے پہلے 16 آنے کا ہوتا تھا اور آٹھ، چار، دو اور ایک آنے کے بھی سکے ہوتے تھے جنھیں بالترتیب اٹھنّی، چونّی، دونّی اور اکنی بھی کہا جاتا تھا)
وہ اتنا ڈرانے والا گیٹ اپ اور خوفناک ایکٹنگ تھی کہ مائیں اپنے بچوں کو سلانے کے لیے کہا کرتی تھیں کہ سو جاو اور اگر تم نہیں سوؤ گے تو لالی آ جائے گی۔
اس ڈرامے کی ساری شوٹنگ آوٹ ڈور تھی جو ہم نے مئی، جون کے مہینے میں کی تھی۔ لنڈے بازار سے خریدے گئے لمبے گرم کوٹ کے اوپر جگہ جگہ سے گلو لگا کر جھریاں ڈال کر مجھے پہنایا گیا۔
کردار کی مناسبت سے میرے بالوں میں راکھ، دانت میلے کچیلے وغیرہ۔ اس قسم کی جسمانی تکالیف آج کل کی لڑکیاں ذرا کم ہی برداشت کر پائیں گی۔
فقیرنی کا رول کرتے ہوئے گرمی سے میری طبیعت اتنی خراب ہوتی کہ مجھے الٹیاں آنے لگتی تھیں۔
ہما اکبر نے اپنا رول بڑی اچھی طرح کیا۔ ساجد علی کا یہ پہلا ڈرامہ تھا۔
مجھے حیرت ہوتی ہے کہ سنجیدہ ڈرامہ دیکھنے اور سمجھنے والے اس ڈرامے اور اس کے مشہور ڈائیلاگ ’لالی چار آنے دے نا‘ کو ابھی تک یاد رکھے ہوئے ہیں اور اس کی مثالیں دیتے ہیں۔
اس یاد گار رول کے لیے میں سارا کی شکر گزار ہوں۔
(عظمٰی گیلانی کی ان یادداشتوں کو غلام عباس سیال نے قلم بند کیا ہے۔ یہ اقتباسات خصوصی اجازت سے شائع کیے جا رہے ہیں۔)







