کوچی کی دیواروں پر ’بھارتی بینکسی‘ کے فن پارے

،تصویر کا ذریعہguesswho
جنوبی ہند کے شہر کوچی کی دیواروں پر بنائی جانے والی تصویریں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں۔
’گیس ہو‘ کے نام سے معروف نامعلوم گرافیٹی فنکار کی ان تصویریں کو لوگ فیس بک اور ریڈاٹ پر شیئر کر رہے ہیں۔
اس فنکار کے کام کا موازنہ معروف برطانوی مصور بینکسی سے کیا جا رہا ہے جو اس قسم کی گرافیٹی کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔

،تصویر کا ذریعہguesswho
کوچی میں یہ گرافیٹی لوگوں کے تخیلات کو متحرک کرنے کا باعث بن رہی ہے۔
گیس ہو نے بی بی سی تمل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی شناخت ظاہر نہیں کر سکتے لیکن انہوں نے ای میل کے ذریعے بعض سوالات کے جوابات دیے۔

،تصویر کا ذریعہguesswho
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کون ہیں؟ایک شخص ہیں یا کوئی گروپ ہیں مرد ہیں یا عورت تو ان کا جواب تھا ’ہم وہ ہیں جو گرافیٹی کو پسند کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہguesswho
جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کا پیغام کیا ہے کیا آپ سیاسی پیغام دینا چاہتے ہیں تو ان کا جواب تھا ’میرے خیال میں فن کا مقصد پیغام دینا نہیں ہے۔ یہ ایک بصری زبان کا استعمال ہے جس سے یہاں لوگ نابلد ہیں۔ تاہم لطیف طور پر اسے لوگ سیاست سے جوڑ سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے سماجی حقائق کی عکاسی کی گئی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہguesswho
واضح رہے کہ کچھ دنوں قبل یہاں ’کس آف لو‘ کے تحت مقامی مقامات پر بعض لوگوں نے کھلے عام بوسہ لینے کی کوشش کی تھی۔ یہاں سپر ہیرو شکاری شمبہو اور اپی ہپی (کارٹون کا کردار) کو دیکھا جا سکتا ہے جو اس مہم کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہguesswho
آپ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں کے جواب میں کہا گیا: ’افسوس کہ ہمارے یہاں (بھارت میں) گرافیٹی کا چلن نہیں ہے اور اس کے فن کار بھی نہیں ہیں۔۔۔‘

،تصویر کا ذریعہguesswho
آپ کو کس قسم کا رد عمل ملا ہے کے جواب میں کہا گیا کہ ’ابھی تک مکمل طور پرحیرت انگیز۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس توقعات نہیں تھی۔ کبھی نہیں سوچا تھا کہ جو لوگ فن کو کوئی اہمیت نہیں دیتے وہ اچانک اس پر بات کرنا شروع کر دیں گے۔ اس نے یقینا دلچسپی پیدا کی ہے اور دروازے گہولے ہیں۔‘







