دلّی کی دیواروں پر جرمن گرافیٹی

دلّی کی دیواروں پر جرمن گرافیٹی

سڑکوں اور دیواروں پر تصاویر بنانے والے جرمن ‘گرافیٹی آرٹسٹ’ لومٹ بھارتی دارلحکومت نئی دلی آئے ہوئے ہیں۔ وہ جرمن سفارتخانے کے ’ایئر آف جرمنی اِن انڈیا‘ کے تحت آئے ہیں۔ یہاں وہ ایک تصویر کے سامنے ہیں جس میں اُن کا نام ہندی میں لکھا گیا ہے۔
،تصویر کا کیپشنسڑکوں اور دیواروں پر تصاویر بنانے والے جرمن ‘گرافیٹی آرٹسٹ’ لومٹ بھارتی دارلحکومت نئی دلی آئے ہوئے ہیں۔ وہ جرمن سفارتخانے کے ’ایئر آف جرمنی اِن انڈیا‘ کے تحت آئے ہیں۔ یہاں وہ ایک تصویر کے سامنے ہیں جس میں اُن کا نام ہندی میں لکھا گیا ہے۔
جنوبی دلی کے علاقے ملویاہ میں ایک ویران عمارت پر لومٹ ایک بھارتی دوست کی پانچ سالہ بیٹی کی تصویر بنا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنجنوبی دلی کے علاقے ملویاہ میں ایک ویران عمارت پر لومٹ ایک بھارتی دوست کی پانچ سالہ بیٹی کی تصویر بنا رہے ہیں۔
لومٹ اُس لڑکی کی تصویر سے مدد لیتے ہوئے اپنا شاہکار مکمل کر رہے ہیں۔ وہ انتہائی کم سامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ ان کے اوزار اور رنگ کی چند شیشیاں ایک چھوٹے سے بستے میں آ جاتی ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلومٹ اُس لڑکی کی تصویر سے مدد لیتے ہوئے اپنا شاہکار مکمل کر رہے ہیں۔ وہ انتہائی کم سامان کے ساتھ سفر کرتے ہیں۔ ان کے اوزار اور رنگ کی چند شیشیاں ایک چھوٹے سے بستے میں آ جاتی ہیں۔
 اس عمارت کی ایک اور دیوار پر انھوں نے لفظ ‘سٹائل’ ہندی کے ایک پیچیدہ انداز میں لکھا ہے۔ اپنا کام ختم کرنے کے بعد وہ اس پر اپنا نام لکھ رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشن اس عمارت کی ایک اور دیوار پر انھوں نے لفظ ‘سٹائل’ ہندی کے ایک پیچیدہ انداز میں لکھا ہے۔ اپنا کام ختم کرنے کے بعد وہ اس پر اپنا نام لکھ رہے ہیں۔
 شنکر سوامی اس علاقے سے گزرتے ہوئے رک کر لومٹ کے شاہکار دیکھنے لگے۔ ‘میں نے کبھی ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ یہ بہت خوبصورت ہے۔ انہوں نے سارا کام سپرے سے کیا ہے اور برش بالکل استعمال نہیں کیا۔ یہ نایاب ہے‘۔
،تصویر کا کیپشن شنکر سوامی اس علاقے سے گزرتے ہوئے رک کر لومٹ کے شاہکار دیکھنے لگے۔ ‘میں نے کبھی ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی۔ یہ بہت خوبصورت ہے۔ انہوں نے سارا کام سپرے سے کیا ہے اور برش بالکل استعمال نہیں کیا۔ یہ نایاب ہے‘۔
 لومٹ کے لیے ہر دیوار کینوس ہو سکتی ہے۔ خرکی کی تنگ گلیوں میں چلتے ہوئے وہ ان چھتوں اور دیواروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن پر وہ تصاویر بنانا پسند کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں اردگرد ایک تھیٹر کے سٹیج جیسا ہے۔
،تصویر کا کیپشن لومٹ کے لیے ہر دیوار کینوس ہو سکتی ہے۔ خرکی کی تنگ گلیوں میں چلتے ہوئے وہ ان چھتوں اور دیواروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں جن پر وہ تصاویر بنانا پسند کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں اردگرد ایک تھیٹر کے سٹیج جیسا ہے۔
اس وسیع دیواری کینوس پر لومٹ جرمنی کی برف پوش پہاڑیاں بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشناس وسیع دیواری کینوس پر لومٹ جرمنی کی برف پوش پہاڑیاں بنانے کی تیاری کر رہے ہیں۔
لومٹ کو ان پسماندہ علاقوں میں کام کرتا دیکھ کر مقامی بچوں میں دلچسپی پیدا ہوئی اور بہت سے بچے اس کے پاس آئے اور موبائل فون سے اس کی تصویریں بھی کھینچیں۔
،تصویر کا کیپشنلومٹ کو ان پسماندہ علاقوں میں کام کرتا دیکھ کر مقامی بچوں میں دلچسپی پیدا ہوئی اور بہت سے بچے اس کے پاس آئے اور موبائل فون سے اس کی تصویریں بھی کھینچیں۔
یہ ایک مشکل کام ہے اور اس میں وقت بھی کافی لگتا ہے لیکن لومٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس سے اتنا لطف اندوز ہوتے ہیں کہ تھکن کا احساس نہیں ہوتا۔
،تصویر کا کیپشنیہ ایک مشکل کام ہے اور اس میں وقت بھی کافی لگتا ہے لیکن لومٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس سے اتنا لطف اندوز ہوتے ہیں کہ تھکن کا احساس نہیں ہوتا۔
لومٹ نے نوجوانی میں اپنے کمرے کا وال پیپر پینٹ کر کے اس سفر کا آغاز کیا اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی مصوری کی تربیت نہیں لی۔ ان کا کہنا ہے کہ گلی کوچوں کے فنکاروں کے لیے کوئی یونیورسٹی نہیں۔ یہاں وہ بھارت کے قومی پرندے مور کی شبیہہ بنا رہے ہیں۔
،تصویر کا کیپشنلومٹ نے نوجوانی میں اپنے کمرے کا وال پیپر پینٹ کر کے اس سفر کا آغاز کیا اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی مصوری کی تربیت نہیں لی۔ ان کا کہنا ہے کہ گلی کوچوں کے فنکاروں کے لیے کوئی یونیورسٹی نہیں۔ یہاں وہ بھارت کے قومی پرندے مور کی شبیہہ بنا رہے ہیں۔
ملویا نگر کے اس مندر کی دیوار پر انہوں نے ہندوؤں کے مذہبی نشان بنائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ مجھے اس ثقافت سے پیار ہے۔ (تصاویر: لومٹ)
،تصویر کا کیپشنملویا نگر کے اس مندر کی دیوار پر انہوں نے ہندوؤں کے مذہبی نشان بنائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے مجھے بہت کچھ سکھایا ہے۔ مجھے اس ثقافت سے پیار ہے۔ (تصاویر: لومٹ)