بالی وڈ نریندر مودی سے متفق نہیں

،تصویر کا ذریعہEPA
بھارتی فلم انڈسٹری وزیر اعظم نریندر مودی کے بالی وڈ کے بارے میں دیے گئے حالیہ بیان سے متفق نہیں ہے۔
سنیچر کو پولیس ڈائرکٹروں کی کانفرنس میں نریندر مودی نے کہا تھا: ’فلم انڈسٹری نے عام لوگوں کے درمیان پولیس کا بہت خراب تاثر قائم کیا ہے۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ایسا کیوں ہے؟ ہاں، کچھ کمیاں ہیں لیکن صرف انھی کو کیوں منظرِ عام پر لایا جاتا ہے؟‘
کئی فلموں میں پولیس افسروں کا کردار ادا کرنے والے اداکار جيتیندر کہتے ہیں: ’دیکھیے، میں ان کی بات تو نہیں کاٹ سکتا لیکن میرا خیال ہے فلمیں سماج کا آئینہ ہیں اور جو باہر ہوتا ہے وہی ہم دکھاتے ہیں۔ مودی بڑے آدمی ہیں اور انھیں ایسا لگا ہے تو ان کی بات میں کچھ تو ہو گا۔‘

،تصویر کا ذریعہprakash mehra productions
جيتیندر نے بتایا کہ ایسی کئی فلمیں بھی بنی ہیں جن میں فنکاروں نے ایماندار پولیس افسر کا کردار نبھایا ہے۔
انھوں نے کہا: ’ہمیں پولیس سے کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن زمینی حقیقت کو نظر انداز بھی تو نہیں کیا جا سکتا۔‘
ایک زمانے کی سپر ہٹ فلم ’رام لكھن‘ اور ’کھل نایک‘ جیسی فلموں میں ایماندار پولیس افسر کا کردار نبھانے والے اداکار جیکی شروف کہتے ہیں: ’مانا کہ کچھ ایسے کردار ضرور نبھائے گئے ہیں جن میں پولیس کو منفی انداز میں پیش کیا گیا ہے، لیکن ایسے بھی تو بہت سے کردار ہیں جنھیں دیکھ کر لوگ تحریک حاصل کرتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہYashraj Banner
نوجوان فنکار ارجن کپور کے مطابق فلم ایک تخلیقی ذریعے ہے اور اس میں کہانی کو پیش کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
وہ کہتے ہیں: ’ہم تو پولس کی اچھی تصویر بھی دکھاتے ہیں۔ یہ دیکھنے والے پر منحصر ہے کہ وہ کیا گھر لے جانا چاہتا ہے۔ ’شکتی،‘ ’زنجیر،‘ ’خاکی‘ اور ’سنگھم‘ جیسی فلموں میں پولیس کو اچھی طرح سے پیش کیا گیا ہے۔ ہم ٹیچر نہیں ہیں۔ ہم تو سماج کا آئینہ ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ فلموں میں اچھے پولیس والوں کی عکاسی کی مثالیں بہت زیادہ ہیں، خواہ وہ فلم ’شعلے‘ میں سنجیو کمار ہوں یا پھر ’دیوار‘ میں با اصول ششی کپور، ’شکتی‘ میں دلیپ کمار یا پھر ’شان‘ میں سنیل دت۔







