کانز میلے کی وجہ سے ایران میں ہلچل، کس کا قصور؟

حاتمی ’پالمے دور‘ پرائز کے لیے جیوری کی پانچ خواتین ارکان میں سے ایک ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحاتمی ’پالمے دور‘ پرائز کے لیے جیوری کی پانچ خواتین ارکان میں سے ایک ہیں

فرانس میں جاری کانز فلمی میلے میں ایرانی اداکارہ لیلیٰ حاتمی کے بوسے پر ایران میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔

ایران کے سرکاری میڈیا نے نائب وزیرثقافت حسین نوش آبادی کا بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ لیلیٰ حاتمی نے مسلم خواتین کی پاکیزگی کی توہین کی ہے۔

واضح رہے کہ کانز فلمی میلے میں ایرانی اداکارہ کو جیوری کے طور پر مدعو کیا گیا تھا جہاں فیسٹیول کے صدر گائلز جیکب نے ان کے گال پر بوسہ دیا تھا۔

جیکب نے کہا کہ یہ مغرب کے عام آداب میں شامل ہے اور یہاں کی ثقافت کا حصہ ہے، لیکن ایرانی میڈیا اسے خواتین کی توہین بتا رہا ہے۔

جیکب نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے: ’میں نے حاتمی کے گال پر بوسہ لیا تھا۔ اس وقت وہ صرف حاتمي نہیں تھیں، میرے لیے وہ پوری ایرانی سینیما کی نمائندہ تھیں۔ اس کے بعد وہ جو ہیں وہی رہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا:’ مغرب میں رائج اس طور طریقے پر تنازعے کا کوئی جواز نہیں ہے۔‘

حاتمی کو اصغر فرہادی کی فلم ’اے سیپریشن‘ یعنی علیحدگی سے عالمی شہرت ملی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنحاتمی کو اصغر فرہادی کی فلم ’اے سیپریشن‘ یعنی علیحدگی سے عالمی شہرت ملی

ایرانی کے ثقافتی امور کے نائب وزیر حسین نوش آبادی نے کہا ہے کہ ’ کانز میں ان کی موجودگی اسلامی عقائد کے منافی تھی۔‘

بعض دیگر ایرانی حکام نے بھی حاتمی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ بی بی سی کی فارسی سروس کے احسان عمرو طوسی کا کہنا ہے کہ حاتمی کے مداحوں کو خدشات ہیں کہ اس کے بعد ایران میں اس مقبول اداکارہ کے کریئر کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

فلمی پس منظر والے خاندان میں پیدا ہونے والی حاتمی کو اصغر فرہادی کی فلم ’اے سیپریشن‘ یعنی علیحدگی سے عالمی شہرت ملی۔ ان کی اس فلم کو سنہ 2012 میں غیر ملکی زبانوں کی فلم کے درجے میں اکیڈمی ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔

حاتمی اپنے اداکار شوہر کے ساتھ ایران میں رہتی ہیں۔

حاتمی کے کریئر کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحاتمی کے کریئر کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں

ایران میں بنیاد پرست نوجوان صحافیوں کے کلب کی طرف سے کہا گیا ہے کہ ’حاتمي کا جیکب کی طرف ہاتھ بڑھانا بھی بےجا اور غیر روایتی طریقہ تھا۔‘

بی بی سی ورلڈ سروس میں مشرق وسطیٰ کے ایڈیٹر سیبسٹیئن اشر کے مطابق حاتمی نے سر کو سکارف سے ضرور ڈھک رکھا تھا، لیکن ان کا گلا ڈھكا ہوا نہیں تھا اور ان کا لباس اور بوسہ دونوں ہی ایران کے اسلامی عقائد میں قابل قبول نہیں ہیں۔

حاتمی ’پالمے دور‘ پرائز کے لیے جیوری کی پانچ خواتین ارکان میں سے ایک تھیں۔