میوزک میلہ: دوسرے روز راک بینڈز کی دھوم

،تصویر کا ذریعہMohammaed Usman
- مصنف, نخبت ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں جاری میوزک میلہ کانفرنس کے دوسرے روز حاضرین کی تعداد اور ان کا جوش و خروش دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ منتظمین کی جانب سے اس دن کو راک موسیقی کی صنف کے لیے کیوں مخصوص کیا گیا تھا۔
میوزک میلہ کانفرنس کے ڈائریکٹر، اریب اظہر کا کہنا ہے کہ ’قریباً دس سال سے اسلام آباد میں ’سویٹ لیف سٹی جیم‘ کے نام سے ایک ایسی تحریک چل رہی ہے جو ہر ایک یا دو مہینے بعد محدود پیمانے پر انڈر گراؤنڈ بینڈز کو پرفارم کرنے کاموقع دیتی ہے۔ جس کے باعث آج کراچی اور لاہور کے میوزک حلقوں میں اسلام آباد کو انڈر گراؤنڈ موسیقی کا دارالحکومت یا کیپیٹل آف انڈر گراؤنڈ میوزک کہا جاتا ہے۔‘
یہ بینڈز راک موسیقی کو ترجیح دیتے ہیں اور مغربی سازوں کے استعمال سے دیکھنے اور سننے والوں کو محظوظ کرتے ہیں۔
سنیچر کو فن کا مظاہرہ کرنے والوں میں ایسے ہی بینڈز کو مدعو کیا گیا تھا اور انہیں طلبا اور طالبات کی ایک بڑی تعداد سننے پہنچی تھی۔ ان بینڈز نے اپنی تیار کردہ دھنیں پیش کیں اس کے علاوہ بین الاقوامی راک بینڈز اور آرٹسٹس کے گانے بھی گائے۔
دوسرے روز کے اختتام سے پہلے پرفارم کرنے والا میوزک بینڈ قیاس، بیسٹ راک بینڈ آف پاکستان کے لیے بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ ہیں۔ وہ چھ سال سے اسلام آباد میں راک موسیقی سے وابستہ ہیں۔
زین، لاہور کے ایک انڈرگراؤنڈ بینڈ کا حصہ ہیں اور وہ کہتے ہیں ’ملک میں مڈل کلاس موسیقاروں کا بےبہا ٹیلنٹ موجود ہے جو اپنی پہچان چاہتا ہے مگر اپنے اصولوں کو قربان نہیں کر سکتا۔ قیاس اور کچھ بینڈز ایسے ہیں جو کمرشل ہوئے اور کامیاب ٹھہرے۔ مگر کئی ایسے بھی ہیں جو کوشش کے باوجود کامیاب نہیں ہوئے اور ہمت ہار بیٹھے۔ ایسے لوگوں کے لیے موسیقی کا جذبہ محض شوق یا کبھی اکٹھے بیٹھنے کا بہانہ رہ گیا ہے ایسے میں اس طرح کے میلے میں عوام کے سامنے گانے بجانے کا موقع مل جائے تو اور کیا چاہیے۔‘
پاکستان میں لگ بھگ 15 سال پہلے موسیقی کے افق پر سامنے آنے والے اور صوفی راک موسیقی کے لیے پہچانے جانے والے میکال حسن بینڈ کے روح رواں میکال حسن کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں راک موسیقی کی صنف نوجوانوں میں انتہائی تیزی سے مقبول ہو رہی ہے ۔ اور اس کی وجہ سوسائٹی میں موجود جارحیت کا عنصر ہے۔‘
’لیکن بےشک کہ ایگریشن انسان کی ایک خوبی ہے مگر جو بہت پہنچا ہوا میوزک ہوتا ہے وہ ایگریشن یا جارحیت کو پہلے قدم پر ہی چھوڑ دیتا ہے‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میکال حسن نے میلہ کانفرنس کے دوسرے روز نوجوان موسیقاروں کو گٹار پر ورکشاپ بھی دی جس میں 30 کے قریب ایسے افراد شریک ہوئے جو راک موسیقی کے دلدادہ ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMohammed Usman
جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ گٹار ہی کیوں سیکھنا چاہتے ہیں تو ان میں سے ایک محمد ہاشم کا جواب تھا ’یہاں جب آپ گٹار لے کر بیٹھیں تو آپ کو لوگ موسیقار سمجھتے ہیں اور اگر سارنگی لے کر بیٹھیں تو سمجھتے ہیں فارغ ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کی سوچ ہے اور مجھے بہت بری لگتی ہے۔‘
میکال حسن کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کا یہ تاثر غلط ہے کہ پاکستان میں میوزک مر گیا ہے، ہر علاقے کا اپنا میوزک ہے اور وہ زندہ ہے بس وہ کمیونیکیٹ نہیں کیا جا رہا نوجوان جانتے ہی نہیں کہ پاکستان کے علاقائی ساز کون سے ہیں کیونکہ ان سازوں کو کمیونیکیٹ نہیں کیا جا رہا۔ ہر شخص گٹار ہی کیوں بجا سکتا ہے ستار کیوں نہیں یا بانسری کیوں نہیں۔‘
میکال حسن کے بقول ’پاکستان میں میڈیا نے موسیقی کو پیکیج اس طرح کر دیا ہے کہ ہر کوئی سٹار بننا سیکھنا چاہتا ہے۔‘
اس میوزک میلہ کانفرنس میں اسلام آباد کی مختلف یونیورسٹیز سے 40 طالبعلم بطور رضاکار بھی شریک ہیں جو انتظامات سنبھال رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک اکمل خان کہتے ہیں کہ ’یہ بلاشبہ اسلام آباد کی تاریخ کا پہلا ایونٹ ہے۔ آج سے پہلے یہاں کبھی ایسا نہیں ہوا لوگوں نے سچ مچ راک کانسرٹ کا مزہ لیا، خوب جُھومے، چیخیں ماریں مگر کسی کو تنگ نہیں کیا۔‘
میلہ کانفرنس کے دوسرے روز بھارت ناٹیم کی ایک پرفارمنس میں پاکستانی کلاسیکل رقاصہ اندو مٹھا کی دو شاگردوں نے اپنے فن کا مظاہرہ بھی کیا۔
ڈائریکٹر میوزک میلہ کانفرنس اریب اظہر کے مطابق میلے کے دوسرے روز دو سے تین ہزار افراد نے شرکت کی جس کی انہیں توقع نہیں تھی۔







