اسلام آباد میں تین روزہ میوزک میلہ کانفرنس کا آغاز

- مصنف, نخبت ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کےدارالحکومت اسلام آباد میں تین روزہ میوزک میلہ کانفرنس کا آغاز ہوا ہے۔ اس میلہ کانفرنس کا انعقاد کروانے والوں کا کہنا ہے کہ یہ اپنے آپ میں ایک منفرد اور انوکھی کانفرنس ہے کیونکہ ایسا پہلی بار ہو رہا ہے کہ پاکستان میں ابھرتے ہوئے تعلیم یافتہ نوجوان موسیقاروں نے ملک کی موسیقی کی صنعت کو درپیش مسائل کے لیے خود آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس میلہ کانفرنس کے روح رواں ذی جاہ فاضلی اسلام آباد کے موسیقی کے حلقوں میں گزشتہ پندرہ سال سے ایک جانا پہچانا نام ہے۔ پاکستان میں موسیقاروں اور گلوکاروں کو یہ شکایت رہتی ہے کہ ملک میں عوامی سطح پر کانسرٹس نہیں ہوتے، حکومت دلچسپی نہیں لیتی اور یہی وجہ ہے کہ موسیقی کو آج تک مکمل صنعت کا درجہ پاکستان میں نہیں مل سکا۔
ذی جاہ فاضلی کہتے ہیں ’پاکستان میں موسیقار خود بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنے وہ حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ تعلیم یافتہ موسیقاروں کو خود آگے آنا ہو گا اور اس صنعت سے وابستہ ان تمام افراد کی اسطاعت بڑھانے کے لیے کام کرنا ہو گا جنہیں ضرورت ہے۔‘
منتظمین میں سے ایک گلوکار اریب اظہر بھی ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اس ایک کانفرنس سے بڑی تبدیلی نہیں آئے گی اس لیے اب اس قسم کی کانفرنس کا سلسلہ وہ آئندہ تین سال تک ملک کے مختلف حصوں، چھوٹے بڑے شہروں میں وہاں کے مقامی اور لوک فنکاروں کو زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ ملا کر قائم رکھنا چاہتے ہیں۔
اس میلے میں اگرچہ خصوصی دعوت ناموں کے ذریعے لوگوں کو شرکت کے لیے مدعو کیا گیا ہے تاہم سوشل میڈیا کے ذریعے اس میلے کی تشہیر بڑے پیمانے پر کی گئی ہے اور یہی وجہ تھی کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس میلے کو دیکھنے پہنچی۔
کانفرنس کے پہلے دن لائیو پرفارمنسز پیش کرنے والوں میں یوں تو کئی نام تھے مگر میلے کی پہلی شام حاضرین کے نزدیک میکال حسن بینڈ، زیب بنگش اور خماریان نے لوٹ لی۔
زیب بنگش کو اپنی موسیقار ساتھی ہنیہ اسلم کے ہمراہ پاکستان میں دو ہزار نو میں اس وقت شہرت ملی جب وہ کوک سٹوڈیو کے دوسرے سیزن میں ٹی وی پر جلوہ گر ہوئی تھیں اور پھر لگاتار دو اور سیزن تک اپنے فن کا جادو کوک سٹوڈیو کے ذریعے دنیا بھر میں بکھیرتی رہیں۔

زیب بنگش باقاعدہ موسیقی سیکھتی ہیں اور بھارت کے نامور آسکر ایوارڈ یافتہ موسیقار اے آر رحمان کے لیے انہوں نے حال ہی میں ایک گانا بھی گایا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میکال حسن بینڈ کے ساتھ حمیرا چنا نے حاضرین کا جوش اس وقت گرما دیا جب حمیرا چنا نے سندھی زبان کا ایک مشہور گیت سنایا اور اس کے بعد دھمال کی مشہور زمانہ دھن پر اپنے سر بکھیرے۔ اوپن ایئر تھیٹر میں اس وقت شاید ہی کوئی ایسا شخص تھا جو اپنی نشست سے نہ اٹھ کھڑا ہوا ۔
محفل کی آخری پیشکش پشاور سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں کی پرفارمنس تھی۔ یہ چاروں افراد خود کو خماریان کہلاتے ہیں۔ خماریان پشتو زبان کا لفظ ہے اور اس کا مطلب ہے وہ ’جو خمار میں رہتے ہیں‘۔
اپنے نام کی طرح ان کی موسیقی بھی پشتو لوک موسیقی سے متاثر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بینڈ میں گلوکار نہیں بلکہ مرکزی حیثیت موسیقی کے قدیم ساز رباب کو حاصل ہے۔ تاہم ان کی جانب سے جدت کو اپناتے ہوئے اس بینڈ میں دیگر ساز مثلاً گٹار اور ڈھول کا امتزاج بھی شامل کیا گیا ہے۔
اس میلہ کانفرنس کے روح رواں ذی جاہ فاضلی کہتے ہیں ’اس میلے کو اوپن فار آل اسے رکھنا مشکل ہے لہٰذا ہم نے دعوت نامے بھیجے ہیں اور زیادہ تر سکول اور کالجز کے طلبا اور طالبات کو مدعو کیا۔‘
لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے اس کانفرنس میں آج پیش کی گئی موسیقی کو نہ صرف سراہا بلکہ کچھ پر تو بے یقینی کا عالم طاری رہا۔
کانسرٹ میں آئے ایک طالبعلم عامر نے کہا ’ایسے کانسرٹس کے بارے میں اور اس قسم کی موسیقی کے بارے میں یہی پتہ ہے کہ یہ سب لاہور میں ہوتا ہے۔ یہاں تو کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا اور اب ایسا لگ رہا ہے جیسے ابھی تین گھنٹے میں کسی خواب کی کیفیت میں تھا۔‘
میوزک میلہ کانفرنس میں لائیو میوزک پرفارمنسز کے ساتھ ساتھ، میوزک ورکشاپس اور بحث و مباحثوں کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ میلے میں غیر ملکیوں کی بھی ایک بڑی تعداد شریک ہے۔








