2013 پاکستانی موسیقی کے لیے کیسا رہا؟

- مصنف, شمائلہ خان
- عہدہ, بی بی سی اْردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
2013 میں جہاں پاکستان میں نئے گلوکار ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ’تعاون‘ سے موسیقی کی دنیا میں اپنی پہچان بنانے میں کامیاب رہے وہیں سماجی اور سیاسی موضوعات پر لکھے گئے نغموں نے اس سال بھی لوگوں کو متاثر کیا۔
ملک میں یو ٹیوب کی بندش نے جہاں نئے گلوکاروں اور موسیقاروں کی دشواریوں میں اضافہ کیا وہیں پاپ گلوکاروں کے فلموں میں پسِ پردہ آواز دینے کا چلن بھی عام ہوا۔
اس سال کی مشہور فلمیں ’وار‘، ’زندہ بھاگ‘،’میں ہوں شاہد آفریدی‘ اور ’چنبیلی‘ تھیں جن کے لیے عابدہ پروین اور راحت فتح علی خان جیسے کلاسیکی پس منظر والے گلوکاروں کے علاوہ علی عظمت، عاطف اسلم، عُزیر جسوال اور ازل بینڈ نے اپنی آواز کا جادو جگایا۔
فلموں کے ساتھ ساتھ گزشتہ برس مشہور ڈراموں کے ’تھیم سانگز‘ کے لیے بھی طاہرہ سید، روشانے ظفر، حدیقہ کیانی اور فریحہ پرویز جیسی گلوکاراؤں نے گانے گائے اور انھیں کافی پذیرائی بھی ملی۔
پاکستان میں اب کانسرٹس کے بجائے، ٹی وی پر چلنے والے پروگرام جیسے کہ کوک سٹوڈیوز یا نیس کیفے بیسمنٹ، لوگ زیادہ شوق سے دیکھتے اور سنتے ہیں۔
کوک سٹوڈیو نے سال 2013 میں اپنا چھٹا اور نیس کیفے بیسمنٹ نے دوسرا سیزن پیش کیا۔ اس میں کئی گانے شاندار تھے لیکن کوک سٹوڈیو کے چھٹے سیزن سے کافی لوگ مایوس بھی ہوئے۔

اداکار و گلوکار خالد انعم کا خیال ہے کہ ویسے تو یہ پروگرام بہت اچھے ہیں لیکن اب ہر شخص، اس شعبے میں طبع آزمائی کر رہا ہے جس کی وجہ سے شاعری، زبان، سُر اور لے پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔
2013 کے آغاز پر ہی، گلوکار سجاد علی کا ریلیز ہونے والا گانا ’ہر ظلم تیرا یاد ہے‘ میوزک کی دُنیا میں ایک تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان میں میوزک کے شعبے میں سال 2013 کے دوران سماجی اور سیاسی موضوعات پر نغمے بنانے کا چلن جاری رہا۔
ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی حالات پر طنزیہ گانے سامنے آئے جن میں بےغیرت بریگیڈ کا گانا ’تنک تنک تن دھا‘ اور علی گُل پیر کا ’تاڑو ماڑو‘ زبانِ زدِ عام ہوئے۔
اس کے علاوہ سال 2013 میں ایک اور رجحان طاہر عمران نامی ایک نئِے گلوکار کی صورت میں ملا جن کا گانا’ آئی ٹو آئی‘اچانک بے حد مشہور ہوگیا۔
یوں تو اس گانے میں کوئی کمال کی بات نہیں تھی لیکن اس کی بے تکی شاعری اور طاہر عمران کے سٹائل کی وجہ سے سوشل میڈیا پر اسے ان گنت لوگوں نے دیکھا۔ جو بالآخر اس گانے کی مقبولیت کی وجہ بن گیا اور پھر اسے نجی ٹی وی چینلز پہ بھی نشر کیا گیا۔
دوسری جانب چونکہ پاکستان میں یہ سال الیکشن کا سال تھا تو سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم کو سہارا دینے کے لیے بھی کافی گانے بنائے گئے۔ اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ ن نے راحت فتح علی خان کی خدمات لیں جنھوں نے فیض کا کلام ’ہم دیکھیں گے‘گایا جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے لیے ملک کے مشہور لوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی نے ’بنے گا نیا پاکستان‘گایا۔ اس کے علاوہ ایم کیو ایم کا ’شہیدِ حق گُلاب رنگت حسین چہرے ۔۔۔‘ پی پی پی کا ’جیالے تیر چلا ، تیر پہ تیر چلا ۔۔‘اور جماعت اسلامی کا الیکشن ترانہ ’آئے ہم امید کا سورج لیے جوان‘مقبول ہوئے۔
اس سال بھارتی فلم انڈسٹری کی جانب سے جن پاکستانی گلوکاروں کو فلموں میں گانے کا موقع ملا اور اُن کے گانے کافی مشہور بھی ہوئے اُن میں جاوید بشیر نے فلم ’بھاگ ملکھا بھاگ‘ اور فلم ’ونس آپون آ ٹائم ان ممبئی اگین‘، عاطف اسلم نے فلم ’پھٹا پوسٹر نکلا ہیرو‘، ’رمیاوستاویا‘ اور ’جے ینتابائی کی لو سٹوری‘، راحت فتح علی خان نے فلم ’کمانڈو‘، ’نوٹنکی سالا‘ اور ’زندگی ففٹی ففٹی‘، شیراز اُپل نے فلم ’رانجھنا‘، علی ظفر نے فلم ’چشم بدور‘ اور شفقت امانت علی نے فلم ’مرڈر تھری‘ کے لیےگانے گائے۔
پاکستان میں سینکڑوں کی تعداد میں انڈر گراؤنڈ بینڈ بھی کام کر رہے ہیں جن کے گانے نجی میوزک چینلز پر نظر آتے رہتے ہیں۔ ان ہی گانوں میں سے ایک ’نچ دی کمال بلو‘، ’متھیرا فیٹ اے کے‘ اور فلک شبیر گانا ’جُدا‘ کافی پسند کیے گئے۔اس کے علاوہ بعض گلوکاروں نے کور سونگ بھی گائے۔
پاکستان میں میوزک کا شعبہ کئی سالوں سے مشکلات کا شکار ہے جس کا ایک پہلو کمرشل بھی ہے۔ اسی وجہ سے اس میں ماضی کی طرح نئے بینڈز یا گلوکار سامنے نہیں آئے۔

اس شعبے کی مشکلات بتاتے ہوئے گلوکار سجاد علی کا کہنا ہے کہ’پاکستان میں صرف دو میوزک چینلز ہیں اور وہ بھی پاکستان کے میوزک کو زیادہ وقت اور اہمیت نہیں دیتے۔ اس کے علاوہ ڈاؤن لوڈ کی سہولت کی وجہ سے لوگ، گانا نہیں خریدتے۔اسی لیے کوئی موسیقار یا گلوکار کسی بھی گانے پر سرمایہ لگانے سے کتراتا ہے۔‘
سجاد علی کے مطابق ’مجھ جیسے معروف گلوکار کا گانا اگر مشہور ہو جائے تو لاکھوں شائقین میں سے صرف پانچ سو لوگ اس کو خرید کر سُنتے ہیں حالانکہ اتنے میں ایک چکن تکہ نہیں ملتا جتنے میں ایک گانا آ جاتا ہے لیکن لوگ وہ گانا خرید کر نہیں سُنیں گے۔‘
2013 کے آخر میں پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پر ’پاکستان آئیڈل‘ جیسے پروگرام کا آغاز ہوا ہے جس سے یہ اُمید بندھی ہے کہ آنے والے سال میں پاکستانی موسیقی کی دنیا میں نئی آوازیں سامنے آ سکیں گی۔







