پاکستان آئیڈل کی منزل شدت پسندی سے متاثرہ علاقے

پاکستان آئیڈل کے فیس بک صفحے کا عکس
    • مصنف, شاماہی ابوبکر
    • عہدہ, بی بی سی مانیٹرنگ

ٹی وی کے معروف پروگرام ’امریکن آئیڈل‘ کے پاکستانی ورژن کے خالق اس پروگرام کو شدت پسندی سے متاثرہ علاقوں تک لے جانے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

اسے ایک اہم اور دلیرانہ پیش قدمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور اور بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ جیسے شہروں میں موسیقاروں کو اسلامی شدت پسند تنظیموں کی جانب سے موت کی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔

بہر حال پروگرام بنانے والوں کا خیال ہے کہ کوئٹہ اور پشاور کی موسیقی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اس لیے انہوں نے وہاں شروعاتی آڈیشن کا فیصلہ کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں موسیقی کی شاندار روایت رہی ہے لیکن علاقے میں طالبان کے زور کی وجہ سے دب کر رہ گئي ہے۔

صوبے میں سنہ 2002 میں مذہبی اتحاد متحدہ مجلس عمل کی حکومت بننے کے بعد وہاں موسیقی پر پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ سینما گھروں پر تالے پڑ گئے اور موسیقی سے وابستہ چیزیں بیچنے والی دکانیں زبردستی بند کروا دی گئیں۔

ایسے میں بہت سے فنکاروں نے یا تو اپنی موسیقی کے انداز میں تبدیلی کی یا پھر اس پیشہ کو ہی چھوڑ دیا۔ کچھ تو ملک چھوڑ کر چلے گئے اور دوسرے ممالک میں جا کر سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کی اور جو ان علاقوں میں اور اسی پیشے میں رہے ان کو دھمکیاں ملتی رہیں۔

جنوری 2009 میں طالبان نے ایک پختون گلوکارہ اور رقاصہ کو قتل کردیا اور ان کی لاش بجلی کے کھمبے سے لٹکا دی۔ کچھ ماہ بعد اسی علاقے میں ایک اور گلوکارہ کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

امریکن آئیڈل کا پاکستانی ورژن پاکستان آئیڈل
،تصویر کا کیپشنامریکن آئیڈل کا پاکستانی ورژن پاکستان آئیڈل

بتایا جاتا ہے کہ سرکاری ٹی وی پر پروگرام پیش کر چکیں پشاور کی ايمن اداس کا قتل انہی کے رشتہ داروں نے کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ موسیقی کے میدان میں رہیں۔

ایک علیحدگی پسند گروپ کے لیے البم ریکارڈ کرنے والے ایک بلوچ گلوکار اسی سال اگست میں مردہ پائے گئے۔

تاہم اس سب کے باوجود پاکستان کا نجی ٹی وی ’جیو انٹرٹینمنٹ‘ اس سال کے آخر میں ’پاکستان آئیڈل‘ پروگرام پیش کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اس پروگرام سے وابستہ آصف رضا میر کہتے ہیں کہ نیٹ ورک کو کوئٹہ اور پشاور میں خطرات کا اندیشہ ہے۔ بہرحال ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے شرکاء، ججوں اور ملازمین کو تحفظ فراہم کریں گے۔

خیال رہے کہ انٹرنیٹ پر بھی اس پروگرام کی مخالفت کی گئی ہے اور اسے روکنے کی اپیلیں سامنے آئی ہیں۔

جیو نیٹ ورک اگست میں بھی اس وقت زیرِ بحث آیا تھا جب اس نے ایک اینیمیٹیڈ سیریز برقع ایوینجر شروع کی تھی۔

اس میں برقع پہنے ایک استانی ان عناصر کا مقابلہ کرتی ہیں جو لڑکیوں کے اس سکول کی مخالفت کرتے ہیں جس میں وہ پڑھاتی ہیں۔

اس متحرک سیریز کو طالبان کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا گیا جو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سکولوں پر حملہ کر تے ہیں۔