’ملکہِ حسن کے قاتلوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا‘

وینز ویلا کے صدر نکولس منڈورو نے کہا ہے کہ سابق ملکۂ حسن مونیکا سپیئر کے قتل میں ملوث افراد سے ’آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔‘
پیر کے روز 29 سالہ مونیکا سپئیر کو ان کے شوہر 39 سالہ تھامس بیری کے ہمراہ ان کی کار کے قریب قتل کر دیا گیا تھا۔
اس حملے میں ان کی پانچ سالہ بیٹی بھی زخمی ہوئی ہیں تاہم اطلاعات کے مطابق اب وہ ہسپتال میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ حملہ آور جوڑے کو لوٹنے کی کوشش کر رہے ہوں اور بات بگڑ گئی جس کے بعد انھوں نے مونیکا اور ان کے شوہر پر فائرنگ کر دی۔
وینز ویلا کے صدر نکولس منڈورو نے اداکاروں کے وفد سے کہا کہ ان کے ملک میں ’تشدد ایک برائی ہے۔‘
ملکۂ حسن کے قتل میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں جانے کا مطالبہ کرنے کے لیے اداکاروں کا ایک وفد صدر کے دفتر پہنچا تھا۔
صدر نے مجرموں کی گرفتاری کے لیے قانون کا بھرپور استعمال کرنے کی یقین دہانی کروائی۔

وزیرِ داخلہ کے مطابق پانچ افراد کو اس قتل میں ملوث ہونے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قتل کا یہ واقعہ ویلنسیا سے پورتو کابیلو جانے والے ہائی وے پر پیش آیا۔
مونیکا سپیئر 2004 میں مس وینزویلا بنی تھیں اور اس کے علاوہ انھوں نے متعدد ڈراموں کا کام بھی کیا تھا۔
وینزویلا میں قتل کے واقعات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں ڈکیتیوں اور اغوا برائے تاوان کے واقعات بھی عام ہیں۔
تاہم ملکہ حسن اور مقبول اداکارہ ہونے کے ناطے مونیکا سپیئر کے قتل کا اثر بہت زیادہ ہوا ہے۔
تحقیق کاروں کے مطابق کار خراب ہونے کے بعد اسے گاڑیاں لے جانے والے ٹرک پر لادا گیا۔
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حملے کے وقت ملکہ حسن اور ان کے خاندان نے خود کو گاڑی میں بند کر دیا تھا اور حملہ آوروں نے ان تک رسائی نہ پانے کے صورت میں گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ ٹرک ڈرائیوروں سے تفتیش کی جا رہی ہے۔







