لارنس آف عریبیہ کے سٹار پیٹر او ٹول کی وفات پر تعزیاتی پیغامات

فلم لارنس آف اریبا میں ٹی ای لارنس کا کردار پیٹر او ٹول کی بین الاقوامی شہرت کا باعث بنا
،تصویر کا کیپشنفلم لارنس آف اریبا میں ٹی ای لارنس کا کردار پیٹر او ٹول کی بین الاقوامی شہرت کا باعث بنا

1962 میں آنے والی معروف ہالی وڈ فلم ’لارنس آف عریبیہ‘ کے سٹار پیٹر او ٹول سنیچر کو 81 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ہیں اور انہیں مختلف لوگ خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

وہ ایک طویل عرصے سے ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔

1963 میں نیشنل تھیٹر کے پیش کردہ شیکسپیئر کے ڈرامے ’ہیملٹ‘ میں ان کے ساتھ کام کرنے والے سر مائیکل گیمبون کا کہنا تھا کہ وہ ایک عظیم اداکار تھے:’میرے خیال میں ان کا ابتدائی سالوں میں کام بہترین تھا۔ ان کے ساتھ بہت مزا آتا تھا۔ میں انھیں بہت یاد کروں گا۔‘

پیٹر او ٹول کی بیٹی کیٹ کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان پیٹر او ٹول کے لیے پیار اور محبت کے پیغامات سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

60 سال سے ان کے قریبی دوست اور ساتھی اداکار سر جان سینڈنگ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پیٹر کے ساتھ پانچ مرتبہ کام کرنے کو اپنی خوش قسمتی سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ ایک چمک دار شخصیت والا شخص تھا جس کی وجہ سے وہ ایک سٹار بنا۔ آپ اسے دیکھنا چاہتے تھے چاہے وہ کچھ بھی کر رہا ہو۔

’وہ انتہائی مزاحیہ بھی تھے۔ وہ سٹیج پر یا سٹیج کے علاوہ بھی آپ کو ہنسانے کی کوشش میں رہتے تھے۔ بان کے ساتھ کام کرنے میں بہت مزہ آتا تھا۔‘

سر جان سینڈنگ او ٹول کی بیٹی کے نامزد سرپرست بھی تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’وہ انتہائی بہادر اور فیاض شخصیت کے مالک تھے۔‘

نیشنل تھیٹر نے ایک بیان میں کہا ہے: ’ہمیں پیٹر او ٹول کے انتقال پر بہت افسوس ہے۔ حال ہی میں ہمارے تھیئیٹر کی 50ویں برسی کے موقع پر ان کا ہیملٹ بہت یاد کیا گیا ہے۔

پیٹر او ٹول نے اپنی اداکاری کا آغاز برطانیہ میں تھیئیٹر سے 1955 میں کیا۔ برسٹل میں اولڈ وِک میں ان کا ہیملٹ کا کردار ناقدین میں بہت مقبول تھا۔

انھیں بین الاقوامی شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے فلم لارنس آف عریبیہ میں ٹی ای لارنس کا کردار ادا کیا جو برطانوی فوجی اور دانشور تھے اور جنھوں نے پہلی جنگِ عظیم میں عثمانی خلیفہ کے خلاف عربوں کی بغاوت کی سرپرستی کی تھی۔

سر جان کہتے ہیں کہ وہ اپنی شراب نوشی اور ’آف سٹیج شرارتوں‘ کے لیے بھی مشہور تھے۔

آئرلینڈ کے صدر مائیکل ڈی ہگنز کا کہنا ہے کہ آئرلینڈ بلکہ دنیا نے فلم اور تھیئیٹر کا بہت بڑا فنکار کھو دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے یہ فخر ہے کہ میں 1969 سے اسے ایک دوست کے طور پر جانتا ہوں۔ 1979 میں میں نے کچھ وقت کلفڈن میں گزارا اور وہاں ہماری روز ملاقات ہوتی تھی۔‘

جولائی 2012 میں پیٹر او ٹول نے 50 سال تک اداکاری کرنے کے بعد کہا تھا کہ وہ اب اس پیشے کو خیرباد کہہ رہے ہیں۔

صحافی پیئرس مورگن اور برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی پیٹر او ٹول کی وفات پر تعزیاتی پیغامات بھجوائے ہیں۔