ادیب اور صحافی شفیع عقیل انتقال کر گئے

لوک کہانیوں پر کسی اور نے شاید اتنا کام نہ کیا ہو
،تصویر کا کیپشنلوک کہانیوں پر کسی اور نے شاید اتنا کام نہ کیا ہو
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

اردو اور پنجابی کے مایہ ناز ادیب، شاعر اور صحافی شفیع عقیل جمعے کو رات گیارہ بجے کراچی کے ایک مقامی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ انھیں سنیچر کی شام کراچی میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔

شفیع عقیل کی عمر 83 سال تھی۔ وہ جنگ گروپ کے ہفت روزہ اخبارِ جہاں سے سبکدوشی کے بعد زیادہ وقت لکھنے پڑھنے میں گزار رہے تھے۔ انھیں پھیپھڑوں کے انفیکشن کا عارضہ لاحق تھا۔ کچھ روز قبل انھیں سانس کی تکلیف بھی ہو گئی جس کے باعث انھیں اسپتال میں داخل کر دیا گیا مگر ان کی طبعیت سنبھل نے سکی۔

انھوں نے شادی نہیں کی تھی اور ایک طویل عرصے سے اپنی بیوہ بہن اور ان کے بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار انور سن رائے بتاتے ہیں کہ ان کا اصل نام محمد شفیع تھا۔ ان کی پہلی تحریر ’زمیندار‘ میں 1948 میں شائع ہوئی اور اسی تحریر کے ساتھ وہ محمد شفیع سے شفیع عقیل بن گئے۔ انھیں باقاعدہ تعلیم کے مواقع حاصل نہیں ہو سکے اور انھوں نے منشی فاضل اور پھر ادیب فاضل کرنے تک محنت مزدوری کی اور سائن بورڈ پینٹر کا بھی کام سیکھا۔

وہ 1930 میں لاہور کے ایک گاوں تھینسہ میں پیدا ہوئے تھے۔ انیس سو پچاس میں وہ کراچی منتقل ہوگئے۔ کراچی آنے کے بعد انھوں نے ابتدا سائن بورڈ لکھنے سے کی لیکن جلد ہی مجید لاہوری کے معروف جریدے نمکدان سے وابستہ ہو گئے۔اسی دوران انھوں نے افسانہ نگاری بھی شروع کی اور 1952 میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعے ’بھوکے‘ شائع ہوا۔

اس مجموعے پر حکومت نے فحاشی کا مقدمہ دائر کیا۔ اس مقدمے میں سعادت حسن منٹو، شورش کاشمیری اور مولانا عبدالمجید سالک گواہانِ صفائی تھے۔ یہ مقدمہ ڈھائی سال چلنے کے بعد ختم ہو ا۔

نمکدان کے بعد وہ بچوں کے رسالے بھائی جان کے مدیر مقرر ہوئے اور پھر روزنامہ جنگ سے وابستہ ہوگئے۔ جہاں انھوں نے ساٹھ برس سے زائد خدمات انجام دیں۔ روزنامہ جنگ میں انھوں نے نونہال لیگ کی ابتدا کی ، جس کے ذریعے جن نامی گرامی ادیبوں نے لکھنے کی ابتدا کی ان میں حسینہ معین، انور شعور، مستنصر حسین تارڑ، عبید اللہ علیم، غازی صلاح الدین اور قمر علی عباسی بھی شامل ہیں۔

وہ روزنامہ جنگ کے میگزین ایڈیٹر، اخبار جہاں کے ایڈیٹر اور ڈائریکٹر اڈیٹوریل بھی رہے۔

وہ پنجابی شاعری میں چار مصروں کی ایک نئی صنف کے بھی موجد تھے۔ ان کی یہ شاعری طویل عرصے تک جنگ میں اردو ترجمے کے ساتھ شائع ہوتی رہی بعد میں اسے دو جلدوں میں شائع کیا گیا۔

انھوں نے پنجابی کی لوک کہانیوں کو جمع کیا بعد میں ان کی یہ کتاب یونیسکو سے انگریزی اور دوسری کئی زبانوں میں بھی شائع کی گئی۔ اس کے علاوہ انھوں نے دنیا بھی کی لوک کہانیوں کو اردو میں منتقل کیا ۔یہ کہانیاں گیارہ جلدوں میں شائع ہو چکی ہیں۔

پنجابی شاعری پر بھی انھوں نے بہت کام کیااور پنجابی کلاسیکی شاعری پر ان کا کام کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔

شفیع عقیل کو مصوری سے بھی گہری دلچسپی تھی اور انھوں نے اردو میں مصوری پر جتنا لکھا ہے اتنا مصوری پر برصغیر میں کسی ایک آدمی نے کسی بھی زبان میں نہیں لکھا ہو گا۔ ان کا یہ کام کئی جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مصوروں، مجسمہ سازوں اور ادیبوں سے انٹرویو بھی کیے جو کئی جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔

شفیع عقیل نے مجید لاہوری کی شخصیت اور فن پر بھی کتاب لکھی اور مجید لاہوری کے کالم بھی حرف و حکایت کے نام سے مرتب کیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے مشہور اہل قلم کی گم نام تحریریں اور نامور ادیبوں کا بچپن کے نام سے بھی کتابیں مرتب کیں۔

انھوں نے مرزا غالب کے کلام اور قائد اعظم کے باتوں کو بھی پنجابی میں منتتقل کیا۔

شفیع عقیل کو سیر و سیاحت سے بھی گہری دلچسپی تھی اور ان کے سفر نامے کئی کتابوں پر مشتمل ہیں۔

حکومت پاکستان نے انہیں تمغہ امتیاز پیش کیا۔ انھیں داود ادبی انعام اور خوشحال خان خٹک ایوارڈ بھی دیے گئے۔