فلمی زندگی کا آغاز ہیرو سے لیکن شہرت ولن سے

اداکار پران ایک بار بی بی سی کے لندن آفس بھی آئے تھے
،تصویر کا کیپشناداکار پران ایک بار بی بی سی کے لندن آفس بھی آئے تھے

ہندی فلموں کے مشہور ولن اور کیریکٹر اداکار پران جمعہ کو طویل علالت کے بعد 93 برس کی عمر میں ممبئی میں انتقال کرگئے۔

ہندوستانی فلموں پر راج کرنے والے پران کرشن سکند پرانی دہلی کے بلی ماران میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد سول انجینیئر تھے اور سرکاری کنٹریکٹر کرتے تھے اس لیے وہ مختلف شہروں میں رہے۔

اگر امیتابھ بچن کو ہیرو آف ملینیئم کے ہیرو کے طور پر جانا جاتا ہے تو پران کو ولن آف دی ملینیئم کہا جاتا ہے۔

تقسیم ہند سے قبل وہ لاہور میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکے تھے۔

پران نے اپنے فلمی کیريئر کی شروعات ایک ہیرو کے طور پر کی اور ان کی پہلی فلم ’جٹ یملا‘ سنہ 1940 میں ریلیز ہوئی۔

پران کی اداکاری پر بات کرتے ہوئے بالی وڈ کے ایک منجھے ہوئے اداکار اور پران کے ساتھ کئی فلموں میں کام کرنے والے رضا مراد کا کہنا ہے ’میں سمجھتا ہوں کہ ان کے جتنا سنجیدہ، کام سے لگاؤ اور وقت کا پابند کوئی انسان میں نے نہیں دیکھا۔ وہ میک اپ کر کے صبح نو بجے ہی سیٹ پر آ کر بیٹھ جاتے تھے‘۔

رضا مراد کے مطابق پران میں کام کرنے کی لگن اور شوق بالکل چودہ سال کے بچے کی مانند تھا۔

اپنے اس شیر خان کے کردار کے لیے پران کو کافی پذیرائی ملی
،تصویر کا کیپشناپنے اس شیر خان کے کردار کے لیے پران کو کافی پذیرائی ملی

پران کے بارے میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ وہ نہ صرف بہترین اداکار بلکہ فلموں میں اپنے کرداروں میں زندہ بھی رہتے تھے۔

رضا مراد کو ’شہید‘ میں پران صاحب کا کردار بہت پسند ہے۔ اس کے علاوہ فلم اپكار کے ’ملنگ چچا‘ اور زنجیر کے ’شیرخان‘ کے کردار سے بہت متاثر ہیں۔

پران نے قریب چار سو فلموں میں اپنی اداکاری کا جوہر دکھایا ان کا فلمی کیریئر تقریباً ساٹھ سال پر محیط ہے۔

پران پر ولن کا کردار کچھ اس قدر فٹ بیٹھا کہ وہ ہندی سینما کے صف اول کے ولن شمار کیے جانے لگے۔

تقسیم ہند کے بعد وہ اپنی بیگم کے ہمراہ بمبئی منتقل ہو گئے لیکن انہیں کافی دنوں تک کام نہیں مل سکا پھر سعادت حسن منٹو سے ان کی ملاقات ہوئی اور ان کے توسط سے انہیں دیوآنند کی فلم ’ضدی‘ میں کام مل گیا۔ ضدی فلم تقسیم ہند پر مبنی ہے۔

پران کی خوبصورتی نے ولن کے تصور کو ایک نیا آہنگ عطا کیا تھا۔ فلم کے توسط سے لوگوں میں پران کا اتنا خوف تھا کہ لوگوں نے ایک زمانے تک اپنے بچوں کا نام پران رکھنا بند کر دیا تھا۔

اسی سال پران کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا
،تصویر کا کیپشناسی سال پران کو دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا

فلم ’گڈی‘ میں پران کی اسی شبیہ کو دکھایا گیا ہے اور پران کی زندہ دلی، داد و دہشت کی اصلیت کو ظاہر کیا گیا ہے۔

بعض ناقدین کے مطابق پران کی منفی اداکاری کے جوہر دلیپ کمار کی فلموں میں بطور خاص ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ مثال کے طور پر ان فلم ’آزاد‘، ’مدھومتی‘، ’دل دیا درد لیا‘ اور ’رام اور شیام‘ کا نام لیا جاتا ہے۔

پران نے اپنے منفی کردار کو اس قدر اچھے انداز سے پیش کیا کہ لوگوں کو اس کردار سے نفرت ہو جایا کرتی تھی۔

فلم ’میرے محبوب‘ میں منے خان جیسے متنفر رئیس کا کردار ہو یا پھر’زنجیر‘ میں شیر خان جیسے جانباز دوست کا، پران نے ہر طرح کے کردار کو بخوبی نبھایا ہے۔

انھوں نے سب سے زیادہ فلمیں کشور کمار کے ساتھ کی ہیں۔ انھوں نے کشور کمار کے ساتھ فلم ’ہاف ٹکٹ‘ میں زبردست کردار ادا کیا۔

پران نے شین بولنے والے کردار کو فلم ’کسوٹی‘ ہو یا پھر ’کشمیر کی کلی‘ دونوں میں بخوبی نبھایا ہے۔

پران نے مزاحیہ کردار میں بھی جان ڈال دی اور ایک مزاحیہ ولن کا تصور پیش کیا۔

سنیل دت کے ساتھ ’خاندان‘ ہو یا پھر سنجے خان کے ساتھ ’دس لاکھ‘ دونوں میں وہ ایک طرح کے کردار میں نظر آتے ہیں جو ہمیشہ سازشیں تیار کرنے میں مصروف ہو۔

پران کو ان کی اداکاری کے اعتراف میں بھارتی حکومت کی جانب سے سنہ 2001 میں سب سے بڑا شہری اعزاز پدم بھوشن دیا گیا۔ ان کو سب سے پہلے آندھرا پردیش جرنلسٹ ایسوسی ایشن نے سنہ 1960 میں بہترین ولن کا ایوارڈ ملا تھا۔

اپکار منوج کمار کی فلم تھی اور اس کے لیے پران کی ایوارڈ ملا تھا
،تصویر کا کیپشناپکار منوج کمار کی فلم تھی اور اس کے لیے پران کی ایوارڈ ملا تھا

انہیں فلم ’اپکار‘ میں بہترین معاون اداکار کے لیے سنہ 1967 میں فلم فیر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پھر ’آنسو بن گئے پھول‘ کے لیے سنہ 1969 میں بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔ ’بے ایمان‘ کے لیے جب انہیں فلم فیر ایوارڈ دیا گيا تو انہیں اسے مسترد کر دیا لیکن سنہ 1997 میں انھیں لائف ٹائم ایوارڈ دیا گیا۔

ان کی موت سے قبل انھیں بھارتی سنیما میں بہترین خدمات کے لیے دیا جانے والا باوقار اعزاز ’دادا صاحب پھالکے ایوارڈ‘ سے نوازا گیا۔

پران اپنے زمانے کے سب سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے اداکاروں میں شامل تھے۔

وہ ستّر کی دہائی میں راجیش کھنہ کے بعد کسی بھی ہیرو سے زیادہ معاوضہ حاصل کرنے والے اداکار تھے یہاں تک کہ فلم ’زنجیر‘ میں انہیں اطلاعات کے مطابق امیتابھ بچن سے تین گنا زیادہ پیسے ملے تھے۔

ان کی یادگار فلموں میں اپکار، زنجیر، کالیا، ہلاکو، جانی میرا نام، ڈان، امر اکبر انتھونی، شرابی، بوبی، اندھا قانون، وکٹوریہ 203 وغیر شامل ہیں۔